اہل کوفہ

کیا اہل کوفہ بے وفا تھے؟

کوفہ کے رہنے والوں پر تنقید اور سب سے زیادہ اُن کی مذمت امام حُسینؑ کی شہادت پر کی جاتی ہے اور اس حوالے سے پورے کوفے کو مطئون کیا جاتا ہے

کیا اہل کوفہ بے وفا تھے؟

 

تحریر: توقیر کھرل

 

 کوفہ کے رہنے والوں پر تنقید اور سب سے زیادہ اُن کی مذمت امام حُسینؑ کی شہادت پر کی جاتی ہے اور اس حوالے سے پورے کوفے کو مطئون کیا جاتا ہے۔ دانشور عامر حسینی "کوفہ، فوجی چھاونی سے مسلم سیاسی تحریکوں کا مرکز بننے تک" میں رقم طراز ہیں کہ کوفہ والوں کی مذمت کرنا تو اصل میں ایک بہانہ ہے، اس کی آڑ میں امویوں کے حامی اصل میں حضرت علی اور آئمہ اہلبیت کے ان محبان کو ردی ثابت کرنا چاہتے ہیں، جنہوں نے حضرت علیؑ کی حمایت کی اور اموی کیمپ کو بے نقاب کیا۔ کربلا میں امام حسینؑ کا ساتھ دینے والوں کو بچانے کیلئے کوفہ والوں کو بے وفا کہا گیا۔ امام حسینؑ کو کوفہ آنے کی دعوت دینے کیلئے اہل کوفہ کے خطوط کا بہت ذکر کیا جاتا ہے۔ خط لکھنے والوں میں سے ایک سلیمان بن صرد الخزاعی پر الزام دیا جاتا ہے کہ وہ خوف کے باعث کربلا نہیں گئے۔

عبداللہ المقان اور ابن طاوس رقم طراز ہیں کہ حضرت سلیمان بن صرد خزاعی کو عبید اللہ ابن زیاد نے جیل میں ڈال دیا تھا اور وہاں سے یزید کی موت کے بعد نکلے۔ مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ سلیمان جیسے لوگ مسلم بن عقیل کی مدد اس لئے نہ کر پائے کہ وہ جیل میں بند تھے اور اسی وجہ سے وہ کربلا نہ پہنچے۔ مسیب ابن نخبہ، رفاعة شداد اور ابراہیم بن مالک الاشتر بھی قیدیوں میں شامل تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر امام کی نصرت کیلئے تیار ہونے والوں کو قیدی یا شہید کر دیا گیا تھا تو پھر بڑی تعداد میں خط لکھنے والے دوسرے افراد کون تھے۔؟ کوفہ سے دوسرے خطوط سیاست مداروں کی طرف سے تھے، جس کا مضمون یہ تھا کہ "ہمارا علاقہ سرسبز و شاداب ہے اور پھل پک چکے ہیں، ادھر جلدی تشریف لائیں، آمادہ سپاہی آپ کے منتظر ہیں۔

حجار بن ابجر، شیش بن ربعی، قیس بن اشعث اور ان کے ساتھی امام حسین کے حق میں مخلص نہ تھے، یہ سات لوگ دراصل یزید کے جاسوس تھے۔ جن کا کام شیعیان کوفہ کے رازوں کو یزید تک پہنچانا تھا۔ ان لوگوں نے جب دیکھا کہ کوفہ میں جوش و خروش ہے اور لوگ امام حسین کو بُلا رہے ہیں تو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے کوشش کی ہم بھی امام حسین کی مستقبل کی حکومت میں اپنی جگہ بنا لیں، یہ لوگ بھی ایسے ہی موقع پرست اور اقتدار کے بھوکے تھے، انہیں جب معلوم ہوا کہ کوفہ کی رائے امام حسین کے حق میں ہے تو یہ بھی بظاہر حسینی بن گئے اور حسینؑ کو دعوتِ کوفہ دے دی۔ لیکن جب حالات بدلے تو اقتدار کے بھوکے یہ کوفی یزید کے حامی بن گئے اور امام حسین کے خلاف ہوگئے۔ کڑے حالات کے باوجود تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب امام حسینؑ ساتھیوں سمیت کربلا کے مقام پر ٹھہر گئے تو عبید اللہ ابن زیاد نے اہل کوفہ سے خطاب کیا اور کربلا میں امام حسین سے لڑنے کیلئے شامی لشکر میں شامل ہونے کی دعوت دی اور سخت ڈرایا کہ اور کہا کہ جو بھی اس لشکر سے پیچھے رہے گا تو اس کی جان کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی جائے گی۔

پھر کوفہ میں کرفیو لگا دیا گیا اور یہ بھی کہا گیا اگر کوفہ کے گرد و نواح میں اور کربلا جاتا کوئی بھی شخص دکھائی دیا تو قتل کر دیا جائے گا اور ایسا ہی ہوا، قبیلہ ہمدان کے لوگ کربلا کے راستے سے گرفتار کئے گئے اور بعد ازاں قتل کر دیئے گئے۔ جگہ جگہ پر داخلی و خارجہ راستوں پر پولیس کے افراد تعینات کئے گئے۔ یہی صورتحال بصرہ کی جانب بھی تھی۔ کوفہ، بصرہ حجاز سے کربلا تک آنے والے راستوں کی نگرانی کی سختی کا عالم یہ تھا کہ حبیب ابن مظاہر قبیلہ بنی اسد کے 70 افراد کو امام حسین کے ساتھ کربلا میں مل جانے پہ راضی کرنے پر راضی ہوگیا، لیکن ستر افراد کو ابن زیاد کے لشکر نے کربلا نہ پہنچنے نہ دیا۔ کوفہ کے ایک اور شہری موقع اسدی ہیں، جو رات کو کوفہ سے کربلا کا سفر کرتے ہوئے امام حسینؑ سے جا ملے، یہ کیسے لوگ تھے، جو اس قدر محاصروں کے باوجود کے باوجود امام کی نصرت کو پہنچ رہے تھے، مگر یکطرفہ مورخین نے فقط اپنے حامیوں کو بچانے کی خاطر کوفیوں کو بے وفا لکھا۔

سبط بن جوزی تذکر الخواص میں رقم طراز ہیں کہ کربلا میں روزِ عاشور امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد 145 تھی، جن میں سے کم سے کم کوفہ کے شہداء کی تعداد 52 بتائی جاتی ہے۔ حضرت مسلم بن عقیل کے بعد قیس بن مسہر کوفہ میں امام کے دوسرے پیغام رساں تھے، آپ کو امام کے پیغام کو پہنچانے پر قتل کر دیا گیا تھا، مگر قیس کی اطلاع پر چھ افراد جو کوفہ سے تھے، امام کی بارگاہ میں پہنچے اور بروز عاشورہ کربلا میں شہید ہوئے۔ اب ذرا گمان کریں جب کوفہ، بصرہ، حجاز کو چاروں طرف سے کرفیو لگا کر بند کر دیا گیا ہو اور کوفہ شہر کی آبادی کا دورِ حاضر کے کسی بھی بڑے شہر کی آبادی سے تقابل کیا جائے تو کرفیو کے باجود لوگ چھپ کر، دن میں رات میں ہر صورت محاصروں سے  بچ کر، جاسوسوں سے آنکھ بچا کر امام عالی مقام سیدنا حسینؑ  کی مدد کو پہنچے ہیں تو اہل کوفہ بے وفا کیسے ہوئے۔؟ اہل کوفہ کو بے وفا قرار دیکر ایک سوال کو تاریخ کے پنوں میں چھپانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے، وہ سوال یہ ہے کہ اگر اہل کوفہ بے وفا تھے تو گرد و نواح کے لوگ کیا تھے۔؟

ای میل کریں