دیوان امام خمینی (رح)

حسرت دید

دیوان امام خمینی (رح)

حسرت دید

دیوان امام خمینی (رح)

 

آج دل کو تری حسرت میں  کچھ آرام نہیں

اور آرام بھی کیا آئے، دل آرام نہیں

سیر گلشن نہ کروں، رخ بھی چمن کا نہ کروں

روئے گلزار نہ دیکھوں  کہ گل اندام نہیں

تجھ کو آغاز میں  دیکھا تو کہاتھا میں  نے

اس کی طلعت سے کچھ اچھا مرا انجام نہیں

ایک دانہ نے ترے، دام میں  پھان مجھ کو

میں  نے سوچا تھا کہ ایسا تو کوئی دام نہیں

خاک کو، بن کے طلب اسکی ہے مقصود نظر

وہ ہے مقصود، طلب سے بھی مجھے کام نہیں

کیوں  نہ اب اس کے سر راہ ہی بیٹھوں  '' ہندی''

گر چہ توفیق نظر در ہمہ ایام نہیں

ای میل کریں