حضرت علی (ع) کی شہادت

حضرت علی (ع) کی شہادت

شب کی تاریکی میں بیواوں اور یتیموں کے گھر جا کر ان کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں

حضرت علی (ع) کی شہادت

مر کز علم و آگہی، مظہر زہد و تقوی، اصلاح و ہدایت کا محور، عبادت و بندگی کے پیکر، اطاعت و پرہیزگاری کا سرچشمہ بلکہ سید الاصیاء امام اتقیاء، عدل و انصاف کا جلوہ، سیدالعارفین، مولانا و مقتدانا امیرالمومنین حضرت علی بن ابی طالب (ع) کی 12/ ویں رمضان المبارک سن 40/ ق کو ابن ملجم ملعون کی تلوار کی ضرب سے مسجد کوفہ میں حالت سجدہ میں شہادت ہوئی ہے اور آپ کو نجف اشرف میں سپرد لحد کیا گیا۔

آج کی رات زمین و زمان میں گریہ و ماتم بپا ہے۔ آسمان پر ملائکہ کے درمیان نالہ و شیون اور واعلیاہ کی صدا بلند ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ سوگ منارہے ہیں۔ کوفہ کا چپہ چپہ غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا ہے۔ آج کی شب یتیموں اور بیواوں کا سہارا اٹھ گیا، عدل و انصاف کا بانی نہیں رہا، ارکان ہدایت گرگئے۔ عالم امکان میں سناٹا اور غم کا سماں ہےاور کیوں نہ ہو، آج ایک ایسا انسان دنیا سے اٹھ گیا جس سے عدل و انصاف قائم تھا، زہد و ورع کا نمونہ تھا، بیکسوں اور بے نواوں کا ناصر و مددگار اور مونس و غمخوار تھا، جس کی حکومت میں کوئی بھوکا نہیں رہا، جس کے اقتدار میں کوئی مظلوم نہیں ہوا، جس نے انسانیت کو اس کا حقیقی مفہوم دیا۔ ایک بڑی وسیع و عریض حکومت کے حاکم ہونے کے باوجود خود سوکھی روٹی کھاتے ہیں، خود فاقہ کرتے ہیں لیکن اپنی عوام اور اللہ کے بندوں کے لئے شب و روز فکر مند رہتے اور انکی ہدایت و نجات اور بھوک و پیاس مٹانے کا بند و بست کرتے ہیں۔

شب کی تاریکی میں بیواوں اور یتیموں کے گھر جا کر ان کے کھانے کا انتظام کرتے ہیں اور خود ہی اپنی پشت پر اٹھاکر کھانے کی اشیاء لے جاکر بھوکوں اور بے سہارا لوگوں کے گھر پہونچاتے ہیں۔ آپ کی سیرت طیبہ سے ہمیں درس حاصل کرنا چاہیئے کہ ہم بھی اگر کسی کے ساتھ کچھ کریں تو چھپا کر کریں، سب کی تاریکی میں کریں، انسانوں اور خدا کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی کریں، ہمیشہ ان کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے کام کریں اور دینی بہانہ سے صرف اپنا شکم پر نہ کریں بلکہ لوگوں کے کھانے، پینے، صحت اور شادی بیاہ، مکان، لباس اور دیگر ضروریات زندگی اور معاشرہ کو آگے بڑھانے کا کام کریں۔

حضرت آدم (ع) سے لیکر آج تک یہی دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کسی کو اللہ کا سچا بندہ اللہ کی راہ کی دعوت دیتا ہے تو دنیا کے بچاری اور ہوا و ہوس کے بندے اور شیطان کے چیلے اس کی راہ میں روڑے اٹکاتے اور اس کی انسانی و اخلاقی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور اگر شیطانوں اور اقتدار کے بھوکوں سے جب کچھ بن نہیں پاتا تو اس کو قتل کرادیتے ہیں تا کہ ان کی عیاشی و فحاشی اور دنیا پرستی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ رہ جائے۔ یہی ہمارے اور آپ بلکہ انس و جان کے امام اور پیشوا حضرت علی بن ابی طالب (ع)؛ رسولخدا (ص) کے برحق جانشین؛ کے ساتھ ہوا کہ وقت کے فرصت طلب اور جھوٹے، مکار، عیار اور بے دین افراد نے سازش کے دین و ہدایت کے ارکان گرادیئے اور ابن ملجم ملعون کو نت نئے طریقوں اور حیلوں سے آمادہ کرکے چراغ امانت و ہدایت کو بجھادیا گیا، حق و صداقت اور دیانت اور امانت کا گلا گھونٹ دیا گیا اور انسانیت و آدمیت کے عظیم رہنما کو ضربت لگا کر شہید کردیا گیا۔

خداوند عالم ہم سب کو اہلبیت اطہار (ع) اور حضرت علی بن ابی طالب (ع) کی پاک و پاکیزہ سیرت پر چلنے کی توفیق عطا کرے اور ہم سب کو ہر آفت و بلا سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

خاتم الاوصیاء امام زمانہ (عج)، عالم انسانیت اور علماء و مراجع کی خدمت میں اس مصیبت عظمی پر تعزیت پیش کرتے ہیں۔

ای میل کریں