اسلامی نظام کی طاقت عوام اور ریاست کے باہمی اعتماد میں ہے
امام خ٘مینی پورٹل کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینیؒ نے اسلامی نظام اور طاغوتی نظام کے درمیان بنیادی فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ طاغوتی حکومتوں میں ریاست اور عوام ایک دوسرے سے جدا اور آمنے سامنے ہوتے ہیں، جبکہ اسلامی نظام میں حکومت اور عوام ایک دوسرے کے معاون، دوست اور بھائی ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کو عوام کی خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ لوگ یہ محسوس کریں کہ ریاستی ادارے ان کی حفاظت اور خدمت کے لیے موجود ہیں۔ ان کے بقول جب عوام کو یہ اعتماد حاصل ہو جائے تو وہ بھی ریاستی اداروں کا ساتھ دیتے ہیں، ان کے لیے دعا کرتے ہیں اور ہر مشکل وقت میں ان کی پشت پر کھڑے رہتے ہیں۔
امام خمینیؒ نے کہا کہ سابقہ طاغوتی حکومتیں اس لیے جلد بکھر گئیں کیونکہ نہ عوام ان کے ساتھ تھے اور نہ ہی ان کے اندر حقیقی قوت باقی تھی۔ اس کے برعکس اسلامی نظام خدا کی رضا کے لیے قائم ہوتا ہے اور اس کے محافظ خدا کے سپاہی ہوتے ہیں، اسی لیے وہ مضبوط رہتے ہیں۔
انہوں نے صدرِ اسلام کی فتوحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کم تعداد کے باوجود ایمان اور مضبوط عزم نے مسلمانوں کو بڑی کامیابیاں دلائیں۔ اسی جذبے سے ایران میں طاغوتی نظام کا خاتمہ ممکن ہوا، تاہم اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے اندر موجود برائی اور نفس کے طاغوت پر بھی قابو پائے۔
امام خمینیؒ نے دعا کی کہ قوم قیادت کی رہنمائی میں اسی راستے پر گامزن رہے اور ایسا حقیقی اسلامی نظام قائم کرے جس کے ہر شعبے میں اسلامی اقدار نمایاں ہوں۔