امام رضا (ع)

امام رضا (ع) کی زندگی پر طائرانہ نظر

حضرت امام رضا (ع) نے اسلامی معارف کی تعلیم اور شاگردوں کی تربیت میں توسیع کی اور اسے آگے بڑھانے اور اسلامی تعلیمات اور الہی تربیت کو عام کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے

امام رضا (ع) کی زندگی پر طائرانہ نظر

آسماں ولایت اور امامت کے مہر درخشاں، ہدایت اور رہنمائی کے خورشید تاباں، شیعوں کےآٹھویں امام اور رسولخدا (ص) کے جانشین حضرت امام علی بن موسی الرضا (ع)، 11/ ذی القعدہ سن 148 ھ ق کو شہر مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی حضرت امام موسی کاظم (ع) نے آپ کا نام "علی" رکھا۔ آپ کی کنیت "ابوالحسن" ہے اور آپ کے القاب صابر، فاضل، رضی، وفی، صدیق، زکی، سراج الله، نورالھدی اور رضا ہے۔ لیکن ان سارے القاب میں مشہورترین لقب "رضا" ہی ہے۔

آپ عباسی خلیفہ مامون کے دور حکومت میں امامت اور رسالت کے فرائض انجام دیتے رہے اور ہر طرح سے اسلام اور مسلمانوں کو ظالموں کی طرف سے لاحق خطروں سے بچاتے رهے۔


علمی اور ثقافتی خدمات

حضرت امام رضا (ع) نے اسلامی معارف کی تعلیم اور شاگردوں کی تربیت میں توسیع کی اور اسے آگے بڑھانے اور اسلامی تعلیمات اور الہی تربیت کو عام کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ آپ اپنے والد  ماجد کے علمی، دینی اور انسانی و ثقافتی مشن کو آگے بڑھانے اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تاریخ کے دامن میں ثبت کرانے نیز علمی اور ثقافتی ترقی کی راہ میں ایک مضبوط ستون اور محکم پایہ تھے۔ حضرت امام موسی کاظم (ع) نے اپنی حیات طیبہ میں بہت سارے امور بطور نمائندہ آپ کے حوالہ کردیا تھا اور اپنے وکیل کے عنوان سے آپ کے سب کچھ حوالہ کردیا تھا۔ امام موسی بن جعفر (ع) کی امام رضا (ع) کی جانب توجہ کی نوعیت کو دیکھ کر شیعوں نے سمجھ لیا کہ آپ ہی امام کاظم (ع) کے تنہا وارث، معاون اور اپنے باپ کے مورد اعتماد شخص ہیں اور آپ نے باپ کے ذریعہ تائید شدہ امور کو بخوبی انجام دیا۔


امام رضا (ع) کی امامت

حضرت امام موسی کاظم (ع) کی شہادت کے بعد سن 183/ ھ ق میں امام رضا (ع) کی امامت کا آغاز ہوگیا۔ اس وقت آپ کی عمر 35/ تھی۔ جب آپ نے امور امامت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی اور شیعوں کی علمی، ثقافتی، سماجی اور مذہبی مسائل کی رسیدگی کرتے تھے اور اسلامی معاشرہ کی فکری اور اعتقادی ہدایت اور رہنمائی فرمائی۔ امام موسی کاظم (ع) نے مختلف موقعوں اور مناسبتوں سے امام رضا (ع) کو اپنے وصی اور اپنے بعد کے امام کے عنوان سے متعارف کرایا اور اپنے اصحاب و شاگردوں سے اس امر میں گواہی لی۔


مدت امامت

آپ کی مدت امامت 20/ سال ہے کہ اس میں 17/ سال مدینہ منورہ اور آخر کے تین سال خراساں میں گذرے ہیں۔

 

امام رضا (ع) کی غم انگیز اور المناک شہادت

عباسی خلیفہ مامون نے اپنی حکومت کو مضبوط کرنے اور محفوظ رکھنے کے لئے امام رضا (ع) کو مدینہ سے خراساں کے مرو میں بلایا، اپنی طاقت، اقتدار کی بقا کے لئے ہر ممکن کوشش کی اور ہر حیلہ اور بہانہ کا سہارا لیا اور جب یہ دیکھا کہ امام رضا (ع) کی رفتار و گفتار سے اس کی حکومت کمزور ہو رہی ہے اور حکومت کے ستون لرز رہے ہیں اور دوسری طرف امام رضا (ع) کی ولیعہدی کو لیکر دھمکیوں کا سامنا ہے اور وہ لوگ مامون کو تنبیہ کررہے ہیں تو اس ملعون نے آپ کو شہید کرانے کا فیصلہ کرلیا لیکن بہت ہی مکار اور ہوشیار تھا لہذا اس نے اس کام کو بہت ہی خفیہ طریقہ سے انجام دیا تا کہ اس کی حکومت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو اور اس نے یہ کام کیا اور حضرت کو شہید کرادیا اور رسولخدا (ص) کے جانشین امام رضا (ع) کی 30/ صفر کو زہر سے شہادت ہوگئی اور جب آپ کے چاہنے والوں اور عقیدتمندوں کو آپ کی شہادت کی خبر ملی اور سب اکھٹا ہو کر کہنے لگے کہ آپ کو مامون نے دھوکہ سے شہید کرایا ہے، ہر طرف چاہنے والے نوحہ و ماتم، گریہ و زاری اور آه و شیون کرنے لگے۔ ہر طرف وامصیبتاہ کی فریاد و فغاں ۔ ہمارا غریب امام، مامون کے حکم سے رات کے سناٹے میں سپرد لحد کردیا گیا۔ خداوند عالم آپ (ع) کے قاتل پر لعنت کرے۔

ای میل کریں