دفاع مقدس امام خمینی(رح) کی نگاہ میں

دفاع مقدس امام خمینی(رح) کی نگاہ میں

عراقی حکومت نے پکے ارادے سے جمہوری اسلامی ایران کے جدید نظام کو مٹانے کی غرض سے ایران کے خلاف وسیع پیمانہ پر یلغار کا آغاز کیا

دفاع مقدس امام خمینی(رح) کی نگاہ میں

عراقی حکومت نے پکے ارادے سے جمہوری اسلامی ایران کے جدید نظام کو مٹانے کی غرض سے عالمی و استکباری  طاقتوں بالخصوص امریکہ کی آشکارا ور خفیہ امدادو حمایت کے نتیجہ میں ۱۳۵۹ ھ ش میں شہریور کے مہینے کی ۳۱ تاریخ کوایران کے خلاف وسیع پیمانہ پر یلغار کا آغاز کیا ۔ آٹھ سال دفاع مقدس  ایک ایسی پایدار و ثابت قدم داستان ہے جس میں اس قوم کی بہادری و فداکاری موجود ہے  کہ جس نے اپنے دین  و مذہب و انقلاب  اور اسلامی ملک کے دفاع میں شہادت  کی عظیم الشان  بلندیوں کو طے کیا اور جس نے دشمنوں کو اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دیا یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکٹری نے ۱۳۷۰ ھ ش میں ماہ آذر کی ۱۸ ہویں تاریخ کو عراقی حکومت کو جنگ کا آغاز کرنے والی حکومت کے نام سے پہچنوایا۔

جنگ کی حقیقت

جنگ  کے ابتدائی ایام میں کئی قسم کے شبہات دفاع کے بارے  میں پیش کئے جارہے تھے، اس طرح کے شبہات عراقی ملک کے اسلامی ہونے  میں پوشیدہ تھے لہذا امام خمینی(رح) نے  اس طرح کے شبہات کو دور کرنے اورجنگ و جنایتکاروں کی حقیقت کو نمایاں کرنے کی کوشش کی تا کہ جنگ  میں شریک افراد مکمل بصیرت  کے ساتھ دفاع مقدس کو جاری رکھیں، اس جنگ کی حقیقت امام خمینی کی نگاہ میں تین پہلوؤں پر مشتمل تھی:

۱۔اسلام و کفر  کی جنگ

امام خمینی(رح) ایک دینی مرجع کے عنوان سے کئی سالوں تک عراق میں جلا وطن رہے  اور وہ وہاں قریب سے عراقی حکومت کی دین کے خلاف سرگرمیوں کا مشاہدہ کررہے تھے کہ وہ اسلامی قوانین و احکام کی شدید مخالفت کررہی تھی  اس سلسلہ میں امام خمینی(رح) نے خود فرمایاہے: ہم عراقی حکومت کو پہچانتے تھے اور ہمیں معلوم تھا کہ وہ اسلام کی معتقد نہیں ہے بلکہ  اسلام کی دشمن ہے اور وہ اسلام کو اپنے راستے کا کانٹا سمجھ رہی ہے۔اور صدام حسین نے اس جنگ کا ایرانی مسلمان قوم کے خلاف آغاز کیاہم ان لوگوں کو مسلمان نہیں سمجھتے جو اسلامی و قرآنی اصول سے منحرف ہیں اور مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں اور آپ اے سپاہیو اسلام کی حفاظت کی خاطر جنگ کررہے ہو اور صدام اسلام کی نابودی کے لئے لہذا اس وقت اس جنگ میں اسلام مکمل طور  پر کفر کے خلاف جنگ کررہاہے۔(صحیفۂ نور، جلد۱۳ و ۱۵، ص۱۹۸ و۵۳)۔

۲۔حق و باطل کی  جنگ

کچھ معیاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک قوم اپنی تحریک و عمل میں یا حق پر لڑتی یا باطل پر۔اور اس سلسلہ میں اس کے کئی مقاصد ہوتے ہیں چاہے وہ اچھے ہوں یا برے۔عراقی حکومت نے اسلامی انقلاب کی نابودی اور اسلامی ملک کے کچھ حصوں پر قابض ہونے کی خاطر ایران کی خاک پر تجاوز کا آغاز کیااور اس مقصد میں اس نے ہر طرح کی جنایت انجام دی۔لیکن اسلامی سپاہیوں نے اسلامی اور اسلامی اقدار کے دفاع کی خاطرجنگ میں قدم رکھا امام خمینی(رح) نے فرمایا: یہ جنگ عقیدہ کی جنگ ہے، انقلابی و اعتقادی اقدار کی جنگ اور ہم ظلم کے مقابل کھڑے ہیں۔ (صحیفۂ نور، ج۱۵، ص۴۲۶)۔

۳۔ دفاعی جہاد

امام خمینی(رح) کی نگاہ میں ایران و عراق کی جنگ دفاعی جہاد پر مشتمل تھی،لہذا امام نے فرمایا: ایران نے خدا کی خاطر قیام کیا ہے، خدا کے لئے اسے جاری رکھے گا اور دفاع کے علاوہ ابتدائی جنگ کسی سےبھی نہیں لڑے گا۔(صحیفۂ نور، جلد۱۵، ص۲۲۹)۔  

جیسے جیسے اس تحمیلی  جنگ کا وقت گزر رہاہے جمہوری اسلامی واسلام وایران کی فوجی طاقت میں مزید اضافہ ہوتا جارہاہے اور ایرانی قوم کی ثابت قدمی مزید واضح وآشکار ہو رہی ہے نیز  عالمی استکبار  اور اس سے وابستہ طاقتوں  کی رسوائی بھی مزید واضح و آشکار ہوتی جارہی ہے۔(صحیفۂ نور، ج۱۷، ص۳۲)

میں تمام مؤلفوں، مقرروں،ہنرمندوں، تحلیل گروں اور سیاستمداروں بلکہ تمام افراد کو یہ رائے دیتا ہوں کہ ہمیشہ اور بالخصوص اس ہفتہ میں جتنا ممکن ہوسکے پوری کوشش و تلاش کے نتیجہ میں مخلصانہ طور پر ایرانی و اسلامی قوم کی بہادرانہ کاوشوں  کو سراتے ہوئے اس سلسلہ میں قدم اٹھائیں  اور یہ ذمہ داری اس لئے سونپی جارہی ہے تاکہ وہ اس طریقہ  سے گرچہ نا چیز ہی سہی لیکن اپنے اسلامی، انسانی ، قومی اور وطنی فریضہ پر عمل کریں۔(صحیفۂ نور، جلد ۱۸، ص۱۲۳)

    ہم نے آئے دن جنگ میں بہت سی برکتوں کا مشاہدہ کیاہے اور ہم تمام میدانوں میں اس سے بہرہ مند ہوئے ہیں ۔ ہم نے آٹھ سالہ جنگ میں  اپنے اسلامی انقلاب  کی  پوری دنیا میں  نشر و اشاعت کی ہے۔ ہم نے اپنی مظلومیت اور استکباری طاقتوں کے ظلم و ستم کو اسی جنگ میں ثابت کیا۔ہم نے اسی جنگ میں عالمی استکبار اور عالمی ظالمانہ طاقتوں کا اصلی چہرہ دکھایا اور ان کے چہرہ سے نقاب الٹا ہے۔ہم نے اسی جنگ میں اپنے دوستوں اور دشمنوں کو پہچانا ہے۔ہم اس جنگ میں اس نتیجہ پر  پہونچے ہیں کہ ہمیں اپنے پاؤں پر  خود کھڑا ہونا چاہئے۔ہم نے اس جنگ میں مشرق و مغرب  کی دو بڑی طاقتوں شکست دی ہے۔ہم نے اس جنگ میں اپنے اسلامی انقلاب کی جڑیں مضبوط کی ہیں۔ہم نے اس جنگ میں بھائی چارگی و حب الوطنی کو تمام افراد اور پوری قوم میں مشاہدہ کیا یعنی ہر ملک کے ایک ایک فرد نے حب الوطنی کا ثبوت دیا۔ہم نے اس جنگ میں پوری دنیا اور بالخصوص اپنے پڑوسی ممالک کودکھایا کہ تمام طاقتوں اور تمام اسکتباری طاقتوں کا مقابلہ کیا جاسکتاہےگرچہ اس کام میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ان تمام امور میں سب سے اہم امراس جنگ کے سائے میں  یہ تھا کہ اسلامی و انقلابی روح کو دوام ملا۔ہماری جنگ حق و باطل کی جنگ ہے جو کبھی بھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ہماری جنگ مفلسی و امیری کی جنگ تھی ۔ ہماری جنگ ایمان و بے ایمانی کی جنگ تھی اور یہ جنگ آدمؑ سے لے کر حضرت خاتمؐ تک اور ان کے بعد ہر دور میں جاری و ساری ہے۔(صحیفۂ نور، جلد۲۱، ص۹۴)۔

آفریقا میں اسلامی آواز بھی ہماری آٹھ سالہ جنگ سے ماخوذ ہے ۔امریکہ ، یورپ ، ایشیا اور آفریقا یعنی پوری دنیا میں لوگوں کے درمیان اسلام شناسی کا جذبہ اور اس کی جانب مائل ہونا ہماری آٹھ سالہ جنگ  کے نتیجہ میں ہی ہے۔ہم آٹھ سالہ پوری جنگ میں ایک لمحہ کے لئے بھی اپنے کئے ہوئے پر شرمندہ و پشیمان نہیں ہوئے۔سچ مچ کیا ہم بھول گئے ہیں کہ ہم نے ذمہ داری کی ادئگی کی خاطر جنگ میں قدم رکھا اور اس کا نتیجہ تو اس کی فرع تھا( صحیفۂ نور، جلد۲۱، ص۹۴۔۹۵)۔

ہمیں فخر ہے کہ اس طولانی و نا برابری کی جنگ میں ہمیں صرف  خدا پر بھروسہ و توکل،ایمان ،  حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی عنایت و دعا، خود پر بھروسہ اور جنگ میں شریک بہادر مرد و عورتوں  کی ہمت و تلاش کے نتیجہ میں کامیابی نصیب ہوئی ہے اور خداوندمتعال کے شکر گزار ہیں کہ کسی بھی طاقت و ملک و قوم و ملت اور بڑی طاقت کا اس جنگ  میں ہمارے اوپر کوئی احسان نہیں ہے۔( صحیفۂ نور، جلد ۲، ص۱۱۹)

منبع:ایام در نگاہ امام خمینی(قدس سرہ) مرکز تحقیقات اسلامی سپاہ۔     

     

ای میل کریں