اخلاقی نظام حکومت

اخلاقی نظام حکومت، جسے مذہبی اصولوں پر تشکیل دیا گیا

امام خمینی (رح) نے آرگنائزیشن کی بنیاد، اسلام کے بہترین نظام پر رکھی

دنیا میں بہت سے نظام اور اسی طرح بے شمار آرگنائزیشن اور ادارے موجود ہیں کہ جو بہت زیادہ تجربات کے حامل ہیں۔ لیکن جو بات ان کو نظام جمہوری اسلامی سے جدا کرتی ہے، وہ جمہوری اسلامی کا با ارزش اور منفرد نظام ہے۔

امام خمینی (رح) نے آرگنائزیشن کی بنیاد، اسلام کے بہترین نظام پر رکھی۔

تاریخ میں بیوروکریسی اور مختلف اداروں کی تشکیل میں یہ بحث قابل ذکر ہے کہ جدیدترین اداروں کی تشکیل، مذہب کی جانب تمایل کو ختم کردیتی ہے کیونکہ اس طرح تمام کام عقلی بنیادوں پر انجام دیے جاتے ہیں۔ ان کی نظر میں عقلی کام وہی ہیں کہ جن میں مذہب سے فاطلہ اور دوری اختیار کی گئی ہو۔ اور اسی طرح معتقد ہیں کہ جو کام جدیدترین بیوروکریسی کے ذریعے سے انجام دیا جائے گا، اس کا مذہب سے کوئی تعلق نهیں ہے۔ لہذا ان کی نظر میں ایک ادارے سے جو توقعات ہیں، وہ یہ ہیں کہ وہ اپنے سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی ضروریات کے مطابق، بہترین انداز میں کاموں کا اجراء کرے۔ اس لئے وہ مذہب کو ایک زنجیر تصور کرتے ہیں کہ جو ہاتھوں اور پاؤں میں باندھ دی جاتی ہے اور تمام کاموں میں رکاوٹ تصور کی جاتی ہے۔

لیکن جو کچھ جمہوری اسلامی میں، امام خمینی (رح) کی مینیجمنٹ اور رہبری کے سائے میں تشکیل دیا گیا، وہ یہ تھا کہ تمام اقدار کو مذہبی اصولوں سے دریافت کیا گیا۔ اور پھر ثابت کیا کہ نہ فقط مذہب اجتماعی کاموں میں رکاوٹ کا باعث نہیں بلکہ تمام امور کو، زمانے کے جدیدترین تقاضوں کے مطابق آگے لے جانے کا سبب بھی ہے۔ حضرت امام (رح) یورپین کے مقابلے میں اسلامی اور خدائی اقدار کو افضل اور برتر ظاہر کرنے کے لئے اور ان اقدار کو مسجد اور کلیسا کے اندر سے نکال کر بشر کی زندگی میں لاگو کرنے کے لئے جد و جہد کی اور انہیں انسانی معاشرے میں رائج کیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار کی بنیاد پر، ایسا نظام تشکیل دیا کہ جس کی مثال آخری کئی صدیوں میں نایاب ہے۔ مذہبی جذبوں کو اجتماعی محبتوں اور حمایتوں کا محور قرار دینا،واقعا آج کی دنیا میں ایک منفرد کام ہے۔ ہم نے پهلی دفعہ یہ دیکھا  کہ ایک نظام کے ورکرز اپنے امور کو عبادت الہی سمجھ کر انجام دے رہے ہیں۔

ہماری انقلابی جماعتیں، اس حوالے سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ لہذا جدیدترین آرگنائزیشن کہ جن کا ہدف، عوامی رفاہی اور دوسرے بڑے بڑے کاموں کو اسلامی اقدار کی بنیاد پر انجام دینا ہے۔ مثلا ہماری سپاہ کا کام، ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ اور یہ کام دینی اقدار میں سے ہی اور عمل کا دینی نام، جہاد ہے۔ اور اس کام کو عبادت سمجھ کر انجام دیا جاتا ہے، جسے ہماری سپاہ انجام دیتی چلی آرہی ہے۔

لہذا یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دینی اقدار ہی هیں کہ جو انسان کے اندر رفاہی امور، انجام دینے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ لہذا آج ہم، اس بزرگ ترین عطاء پروردگار یعنی "دین" کی حفاظت کریں کہ جسے امام خمینی (رح) نے ایک بار پھر زندہ کیا اور ہمیں ارث میں دیا۔ لہذا ہم اس بات کی اجازت کسی کو نہ دیں گے کہ ہماری یہ مذہبی اقدار کو ہم سے چھین لے اور ہمارے اندر رفاہی امور کو انجام دینے کا جذبہ کہ جسے ہم عبادت سمجھ کر انجام دیتے ہیں، کم ہوجائے۔

اگر  یہ بنیادی ترین اصول اور ہماری میراث، ہم سے چھن گئی تو انقلاب اسلامی بھی ہم سے چھن جائے گا اور اگر اس کی حفاظت کریں گے، تو یہ انقلاب قائم و دائم رہے گا۔ اور عوام بیوروکریسی کی قید اور ٹہڑے پن سے نجات پاچائیں گے۔ اگر ہم ان اصولوں کوروز بروز پھیلاتے رہے تو مسیر تاریخ بشر خود بخود تبدیل ہوجائے گا۔

ای میل کریں