جماران سے محسن ہاشمی کی گفتگو

جماران سے محسن ہاشمی کی گفتگو

امام خمینی (رح) کے قریب ترین شاگردوں میں آیت اللہ ہاشمی تھے اور دونوں درمیان محبت و گھرا رابطہ، امام کے آخری لمحات حیات تک باقی رہا۔

امام خمینی (رح) کے قریب ترین شاگردوں میں آیت اللہ ہاشمی تھے اور دونوں درمیان محبت و گھرا رابطہ، امام کے آخری لمحات حیات تک باقی رہا۔

سوال: مرحوم آقای ہاشمی اور امام خمینی (رح) میں گھری محبت اور رابطے کے باوجود کس طرح آقای ہاشمی، امام (رح) کے ساتھ گفتگو کرتے تھے؟

جواب: امام خمینی (رح) اور آیت اللہ ہاشمی کے رابطے میں پائے جانے والی صمیمت کی وجہ سے وہ صریح اللہجہ تھے نیز مرحوم کی نسبت امام کی عمیق شناخت اور گہرا اعتماد تھا؛ آیت اللہ ہاشمی ۱۳۳۰ھ شمسی کی ابتدائی عشرے سے قم میں حاضر تھے، آپ یخچال قاضی محلے میں امام کےگھر کے قریب رہتے تھے، ان ایام میں آپ، امام کی شخصیت اور نگاہ کے مجذوب ہوتے ہیں اور یہ لگاؤ، امام کی نشستوں نیز کلاس درس میں شرکت کرنے کے ساتھ جو قریبی مسجد سلماسی میں منعقد ہوتا تھا، مزید بڑھتا چلا جاتا ہے۔

امام اور آقای ہاشمی میں ہونے والی گفتگو سے، تدریجاً امام آپ کے متعلق مزید شناخت پیدا کرتے ہیں اور آپ کے نظریات، خیالات اور اظہار رائے سامنے کے ساتھ، امام (رح) بعض امور آپ کے حوالے کرتے ہیں اور اس طرح آپ پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے یہاں تک کہ آقای ہاشمی تحریک کی شروعات اور آیت اللہ العظمی بروجردی کی رحلت کے بعد، امام خمینی (رح) کے قریب ترین شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں اور یہ گھرا رابطہ، امام کی حیات کے آخری لمحات تک باقی رہا۔

سوال: اس قسم کا رابطہ، امام خمینی (رح) اور مرحوم آیت اللہ ہاشمی میں کس نوعیت کی خصلتوں کے وجود کی نشانی تھی؟

جواب: پہلی خصوصیت امام خمینی (رح) سے مربوط تھی، امام اخلاقی ملکات اور کم نظیر تواضع کے حامل ہونے کی بنا پر، تملق گوئی اور چاپلوسی سے گریزان تھے اور کیوںکہ آقای ہاشمی کے بیان میں ایک قسم کی منطق، صراحت اور غلو سے دوری پائی جاتی تھی اور طبیعی طور پر امام انہی خصوصیات کے مالک افراد کو دوسروں پر ترجیح دیتے تھے۔ اسی طرح امام کی دور اندیشی تھی جو باعث بنی کہ وہ افراد جو آیندہ نگر اور عقلانیت و ہوش کے مالک تھے، آپ کے نظریات کو بہتر سمجھیں اور مشورت دیں اور امام (رح) بھی اسی قسم کے نظریات کو پسند فرماتے تھے۔

سوال: امام (رح) کی نسبت آقای ہاشمی کے عشق و لگاؤ کے بارے میں کوئی نکتہ یاد ہے جو موصوف نے گھر والوں کے سامنے بیان کیا ہو؟

جواب: آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی، امام کی نسبت تعجب خیز دلی عشق و محبت رکھتے تھے اسی لئے آپ نے انقلاب کی شروعات اور مجاہدت کے دور میں نیز بعد میں سخت ترین تکالیف ایضاً زبانی زخموں کو کھولے دل سے برداشت کیا کرتے تھے تاکہ خدا نخواستہ امام خمینی (رح) کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، آپ نے اپنی شخصی یادوں میں ذکر کیا کہ اپنے استاد اور مراد سے بے انتہا محبت اور عشق رکھنے کی خاطر، ہمیشہ اس کوشش میں رہتے تھے کہ کوئی فرصت ملے تاکہ امام (رح) کے چہرے، ہاتھ اور پاؤں کا بوسہ لیں اور کبھی مجاہدین اسلام کی نیابت کے بھانے سے ایسا کرتے تھے اور امام کو بوسہ دینے کے لمحات، آپ کےلئے شیرین ترین لمحات ہوتے تھے۔

سوال: اگر موصوف، قید حیات میں ہوتے، کس چیز کے فکرمند ہوتے؟

جواب: آپ کی ہمیشہ اور دیرینہ آرزو نیز پریشانی، وحدت اور اندرون ملک، مختلف انقلابی طاقتوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی دشمنی، کینہ اور عداوت نہ ہونا تھی، آپ کہتے تھے: ایران میں موجود خداداد منابع اور توانائیوں کے پیش نظر، اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایران کو جس طرح ایرانی عوام کا حقدار ہے، بنائیں تو اس راہ میں اگر ہم سب مل کر ملکی توانائیوں سے بھرپور استفادہ کریں پھر بھی ہمارے سامنے ایک بہت سخت اور دشوار مشن ہے، چہ جائیکہ ملکی طاقت کا ایک حصہ اندرونی تنازعات اور عداوتوں میں صرف ہوجائے۔

اسی بنا پر آپ، اہل بخشش تھے اور دوسروں سے دشمنی اور آپس میں بغض و ناچکی کو بالکل ناپسند کرتے تھے اور آپ کی آرزو تھی کہ ملک میں تفرقہ و اختلاف کی فضا، وحدت و پیار اور یکجھتی میں تبدیل ہو اور فکری، نظریاتی اور ذوق و سلیقہ کے اختلافات معاشرے کو ترقی اور تعالی کی جانب لے جائے نہ کے دشمنی اور آپس میں تنازعات کو جنم دے۔

ای میل کریں