وہ آخری سانس جو پھر کبھی واپس نہ لوٹی

وہ آخری سانس جو پھر کبھی واپس نہ لوٹی

امام خمینی کے دل اور پھیپھڑوں کو فعال کرچکے تھے، لیکن دماغ کام نہیں کر رہا تھا؛ انتہائی کٹھن لمحات تھے۔

امام خمینی کے دل اور پھیپھڑوں کو فعال کرچکے تھے، لیکن دماغ کام نہیں کر رہا تھا؛ انتہائی کٹھن لمحات تھے۔

نماز کے بعد ہسپتال گیا اور وہاں سے قومی اسمبلی پہنچا؛ وہاں مجھے امام کی طبیعت کی خرابی کے بارے میں اجنبی لوگ کی اطلاع کے بارے میں کوئی خاص چیز نظر نہیں آئی۔ اب مجھ سے مزید اپنی بے قراری اور اضطراب چھپایا نہیں جا رہا تھا؛ اس شخص کی مانند ہوں جسے اس بات کا ڈڑ ہے کہ کسی بھی وقت اسے کوئی بری خبر سنائیں گے۔

سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ جنگ بندی کا اعلان ہونے کے باوجود، ملک جنگی حالت میں تھا اور ممکن تھا کہ کسی بھی وقت دشمن رہبری کی خلا، مرکز میں عدم تعادل اور عوام میں انسجام اور امید کے فقدان کے پیش نظر، فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر وسیع پیمانے پر حملہ کرے۔

دوپہر ۳ بجھے، احمد آقا نے فون پر مجھے اطلاع دی کہ امام کی طبیعت انتہائی نازک حالت میں ہے اور مجھ سے چاہا کہ جلد خود کو جماران پہنچاؤں؛ تیزی کے ساتھ جماران پہنچا۔

طبیعی سانسوں کے آخر لمحات تھے؛ امام بڑی مشکل سے سانس لے رہے تھے؛ صرف ایک مرتبہ آنکھ کھولا اور پھر بند کیا۔ میں اندر سے پھٹنے والا تھا؛ میرا صبر ختم ہوچکا تھا؛ ڈاکٹروں نے تیزی سے دل کو پلمونری مساج، بجلی کے جھٹکے اور پھیپھڑوں کو مصنوعی سانس سے فعال کیا اور رات دس بجھے اور بیس منٹ تک اسی حالت پر رکھا، لیکن دماغ کام نہیں کر رہا تھا۔ خبر آئی کہ صرف ایک بار طبیعی سانس تھی، لیکن بہت جلد یہ حالت بھی ختم ہوگئی۔

اپنے دکھ اور غم کی گہرائی کی تشریح نہیں کرسکتا۔ مجھے ہر طرف کالا نظر آ رہا تھا۔ اسی دوران رحلت کی خبر نشر کرنے کی کیفیت، ملکی پروگرام اور رہبر کے انتخاب اور ... کے بارے میں مشورہ کیا گیا۔ فون کے ذریعے مجلس خبرگان کے تمام اعضاء کو بلایا گیا کہ کل صبح تک خود کو تہران پہنچائیں اور طے پایا کہ وفات کی خبر پرسوں پر چھوڑا جائے؛ یعنی رہبر کے انتخاب اور اعضائے خبرگان اپنے شہروں لوٹنے کے بعد۔

رحلت کی خبر فاش ہوتے ہی رونے اور چیخنے کی آواز گھر، ہسپتال اور پھر گھر کے باہر سے بلند ہونے لگی؛ میں نے وہاں موجود تمام لوگ کو صبر کرنے کی دعوت دی اور پروگرام کی تشریح کی۔ انھوں نے مان لیا اور آرام ہوئے اور طے پایا کہ دعائے توسل کے نام سے رویں۔

امام کے گھر کی خواتین کا صبر میرے لئے بہت ہی عجیب تھا۔ ہم رات ۱۲ بجھے تک پروگراموں کی ترتیب اور تنظیم کےلئے وہیں تھے۔ میں گھر واپس آیا اور نیند کی گولی لی اور سو گیا۔ مجھے یاد نہیں کہ اب تک کبھی بھی سونے کےلئے نیند کی گولی استعمال کیا ہو۔

ماخذ: امام خمینی(رح) به روایت آیت الله ہاشمی رفسنجانی

ای میل کریں