امام نے ملتوں کو آزادی بخشی

امام نے ملتوں کو آزادی بخشی

امام خمینی، عیسی علیہ السلام جیسے اخلاق وکردار، دنیا والوں کو عملی طور پر دیکھایا۔

امام خمینی، عیسی علیہ السلام جیسے اخلاق وکردار، دنیا والوں کو عملی طور پر دیکھایا۔

تہران اور شمال کی مسیحی عوام کے اسقف اعظم کا کہنا تھا: آج، انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی سے ۳۷ سال گزرنے کے بعد بھی، عالم اسلام میں امام خمینی(رح) واحد دینی مروّج اور حامی کے عنوان سے تعارف ہوتے ہیں، اگرچہ اس عرصے میں کوتاہیاں بھی ہوئی ہیں، لیکن کسی بھی صورت میں آپ سے مربوط نہیں اور یہ فراز و نشیبیں ہر انقلاب کا خاصہ ہے جسے طے کرنا ہوگا۔

جماران کے مطابق، جناب سیبوہ سرکیسیان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: دنیا میں، بادشاہ کوروش کو خادم امت کے نام سے یاد کرنے کی وجہ یہ ہےکہ اس کے آنے سے گذشتہ حاکمان اور سلاطین کی امتوں کی نسبت بربریت، جارحیت اور پر تشدد اور ظالمانہ سیاستیں ختم ہوئیں تاکہ یہودی عوام آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی مراسم بجا لاسکیں اور یہی حقیقت ہے جس نے اُسے منتخب الٰہی خادم کا عنوان عطا کیا اور آج میں، امام خمینی کو کوروش کبیر سے تشبیہ دیتا ہوں جن کا کردار اور سلوک اسی نوعیب کی تھی، امام راحل نے آزادی کو تحفے کے طور پر ہم سب کے سامنے پیش کیا اور خود بھی ملتوں کےلئے خادم تھے۔

سرکیسیان نے امام کی سوج اور فکر کے انداز اور وسعت نظری کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا: آپ نے اپنی افکار و نظریات میں اسلام کو جمہوری اسلامی کے جغرافیا، ایرانی قوم اور جمہوری اسلامی کی چار دیواری تک محدود نہیں کیا، بلکہ اپنے انداز زندگی اور فرمایشات کے ذریعے اسلام کو دنیائے عرب میں اس عنوان سے کہ یہ دین سب کےلئے ہے اور سب کے متعلق ہے، میدان عمل اور ظہور کی اقتدار پر لانے میں کامیاب ہوئے۔

حضرت امام نے نہ صرف اسلام کو شیعہ یا سنی تک محدود نہیں کیا، بلکہ تمام مسلمانوں تک پھیلایا اسی لئے آج، اسے آپ کی فکری اور نظریاتی جد وجہد کا ایک عظیم ثمرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس کردار اور اخلاق کا ایک نمونہ حضرت مسیح (ع) کے حواریوں میں مشاہدہ کرسکتے ہیں، جہاں فرمایا جاتا ہے: جب تمام ملتیں مسیح (ع) کے پیرو بنیں گے وہاں کسی قسم کے اختلاف کا کوئی وجود نہ ہوگا اور سب ایک صف میں آگے بڑھیں گے۔ وہی اخلاق اور کردار جیسے حضرت امام خمینی عملی طور دنیا والون کو دیکھا سکیں۔

اسقف اعظم نے مراسم میں موجود لوگوں کی طاعات اور عبادات درگاہ الٰہی میں مورد قبول واقع ہونے کی دعا و تمنا کی اور کتاب مقدس کو دلگرمی، دلجوئی اور انس کا سرمایہ بتایا اور کہا: بالآخر ایک دن حقیقت سب کے سامنے عیاں و آشکار ہوگی اور ہم سب حضرت امام خمینی کے عظیم اور اونچی شان و منزلت کی تجلیل اور قدر کریں گے۔

یہ مراسم، گذشتگان نیز امام خمینی (رح) کی بلند و بالا روح کےلئے دعائے خیر کرنے پر اختتام پذیر ہوا۔

 

ماخذ: جماران خبررساں ویب سائٹ

ای میل کریں