مادی اور معنوی ابعاد پر مشتمل انسانی تہذیب

مادی اور معنوی ابعاد پر مشتمل انسانی تہذیب

انسانی تہذیب ہمیشہ سے مادی اور معنوی پہلووں پر مشتمل رہی ہے اور اس تہذیب کے تمام جوانب کو ایک ساتھ ترقی اور تکامل کی راہ پر گامزن رہنے کی ضرورت ہے۔

سری سینا کا کہنا تھا: انسانی تہذیب ہمیشہ سے مادی اور معنوی پہلووں پر مشتمل رہی ہے اور اس تہذیب کے تمام جوانب کو ایک ساتھ ترقی اور تکامل کی راہ پر گامزن رہنے کی ضرورت ہے۔

یادگار امام سید حسن خمینی جو آج کل سری لنکا کے حکام کی دعوت پر اس ملک کے دورہ پر ہیں، نے سری لنکن صدر میتھری پالاسری سینا سے ملاقات کی۔

جماران رپورٹ کے مطابق، سری لنکا کے صدر نے کہا: گزشتہ چند ہزار سال میں ہم نے ایران اور ایرانیوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔

انہوں نے کہا: ماضی میں سری لنکا کی کئی صدیوں پر محیط  شاندار تاریخ رہی ہے تاہم موجودہ دور میں دیگر ممالک کے مقابلے میں ایران سب سے زیادہ جدید اور مہذب ملک رہا ہے۔

میتھری پالاسری سینا نے کہا: انسانی تہذیب ہمیشہ سے مادی اور معنوی پہلووں پر مشتمل رہی ہے اور اس تہذیب کے تمام جوانب کو ایک ساتھ ترقی اور تکامل کی راہ پر گامزن رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا: سری لنکا میں مسلمانوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ دوسری قوموں میں سنہالی لوگ جو یہاں کی اکثریت کو تشکیل دیتے ہیں، آپ کی سری لنکا آمد پر بہت خوش ہیں۔ ہم بھی مستقبل قریب میں کئی وفود، اسلامی جمہوریہ ایران بیجھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ملاقات کے دوران سید حسن خمینی نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی نگاہ میں سری لنکا کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جس نے اپنی آزادی اور استقلال کا اچھی طرح سے دفاع کیا ہے اور اسلامی جمہوریہ کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر بہتر تعاون کیا ہے اور مستقبل قریب میں آپ کا دورہ ایران دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کو فروغ دینے میں معاون اور مددگار  ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے سری لنکا کے وزیر تیل کے اگلے ہفتے دورہ ایران پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: متعدد ثقافتوں کا وجود، تمام ممالک کے بنیادی ڈھانچے کےلئے ضروری ہے جس کی مثال سری لنکا میں اچھی طرح ہمیں نظر آتی ہے  جو خطے کے دیگر ممالک کےلئے بھی ایک اچھا نمونہ ثابت ہوسکتی ہے۔

سید حسن خمینی نے میتھری پالاسری سینا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ کے ملک میں جمہوریت کی بنیادیں مظبوط اور مستحکم ہوچکی ہیں اور ایک دوسرے کے تعاون سے دونوں ملکوں کے اقتصادی  تعلقات کو بھی مضبوط بنانے کی توقع کی جاتی ہے۔

انہوں نے آخر میں اس بات کی امید ظاہر کی کہ آنے  والے دنوں میں ان سے  تہران میں ملاقات ہوگی۔

 

ماخذ: جماران خبررساں ویب سائٹ

ای میل کریں