پاک ایران دوستی کمزور کرنے کی ناکام کوشش

پاک ایران دوستی کمزور کرنے کی ناکام کوشش

زمانہ جنگ ہو یا امن، ایران کی حکومت اور عوام، پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے۔

پاک ایران دوستی کی بنیاد جغرافیائی، اسلامی اور ملی اشتراک و وحدت ہے، جسے نہ جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے کمزور کرنے کی ناکام کوشش ثمر آور ہوسکتی ہے۔ جو قومیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک اور حصہ دار ہوں، ایک دوسرے کے وطن کو اپنا وطن اور ایک دوسرے کی خوشی اور مصیبت کی گھڑی کو اپنی خوشی و مصیبت جانیں اور ان لمحات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں، پھر یہ کہ کسی ملامت کرنیوالے کی پرواہ نہ کریں، زمانہ جنگ ہو یا امن، وہ زلزلہ ہو یا سیلاب کی تباہ کاریاں یا کوئی اور آفت۔ جمہوریہ اسلامی ایران کی حکومت اور عوام، پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے، حتیٰ کہ رہبر معظم آیت اللہ العظمٰی آقای خامنہ ای جب بے رحم دہشتگردوں کی دہشتگردی کے نقصانات اور شہداء کے وارثان کے غم و غصہ اور دکھ و درد کو سنتے ہیں یا اس کا نماز جمعہ کے خطبات میں ذکر کرتے ہیں تو اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کے غم میں آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔
جب ایرانی حکومت، عوام اور رہبر اپنے پاکستانی اسلامی بھائیوں اور بہنوں سے اس قدر محبت اور شفقت رکھتے ہیں تو کس طرح وہ ان کا برا سوچ سکتے ہیں؟

ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور بغیر سوچے سمجھے ملک دشمن اور اسلام دشمن عناصر کا آلہ کار بن کر دو برادر اسلامی ممالک میں دوریاں پیدا کرنے کی ناکام کوشش نہیں کرنی چاہیں۔ یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری بھی ہے اور دینی بھی۔
جب لکھنے اور بولنے کے محرکات اور عوامل حق گوئی نہ ہو تو پھر اس قسم کی تحریریں اور باتیں زبان پر آتی ہیں، لیکن دو اسلامی ملتوں کے درمیان منفی پروپیگنڈہ کرنیوالے اچھی طرح جان لیں کہ پاکستان اور ایران کے عوام بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ان دو برادر اسلامی ملکوں کے درمیان اختلاف ایجاد کرنے کی کوشش کرنیوالے کس فکر و ذہن کے مالک ہیں اور ان افراد کی ہمدردیاں کن اسلام دشمن عناصر کیساتھ رہی ہیں اور ابھی بھی ہیں!

ایران کیخلاف بے بنیاد معاندانہ پروپیگنڈہ کرنیوالوں کا سعودی بھارت دوستی کے حوالے سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ اس پر ان تبصرہ نگاروں کا چپ سادھ لینا بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ نریندر مودی کی حالیہ سعودی یاترا میں سعودی عرب کی طرف سے مظلوم کشمیریوں کی حمایت کا ذکر تو درکنار، ان کے قاتل کو اعلٰی ترین سعودی اعزاز سے نوازنا بھی لمحہ فکریہ ہے اور ہم سب کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔

استعماری طاقتیں مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ان کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کی خواہاں تھیں اور یہ مقاصد بڑی حد تک انہوں نے حاصل بھی کئے تاہم یہ ضروری ہے کہ ہم ریاستیں استعماری قوتوں کے عزائم کا ادراک کرکے اس امر کی حکمت عملی وضع کریں کہ مستقبل میں ان کے اندر کوئی دشمن دراڑ نہ ڈال سکے اور ہم سمجھتے ہیں اس حکمت عملی کی وضاحت خود قرآن اور اسلام نے کردی ہے اور وہ اسلامی امہ کا اتحاد ہے۔ صدر ایران نے بھی سب کو اسی جانب متوجہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ہماری شناخت شیعہ یا سنی سے نہیں بلکہ اسلام سے ہے بحیثیت شیعہ یا سنی ہم ایک دوسرے کے مقابل نہیں آسکتے اور متحد ہوئے بغیر دشمنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہمیں ایک دوسرے کے مذہب اور مسلک کا احترام کرنا ہوگا۔ انہوں نے بجا طور پر کہا اتحاد اور ایک دوسرے کے مسلک کا احترام وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور یہی ہماری خوشحالی کی ضمانت بھی ہے۔ عراق اور ایران کی جنگ نے شیعہ اور سنی دونوں کو نقصان پہنچایا مگر اسلام کا دشمن مطمئن تھا کہ اس نے دونوں مسلمان ملکوں کو کمزور کیا شیعہ اور سنی کی تفریق دشمن کی خواہش ہے اگر ہم اس تفریق میں شدت پیدا کرتے ہیں تو گویا دشمن کے مقاصد کی تکمیل میں اسکی بالواسطہ اعانت کرتے ہیں ہمیں مذہب اور مسلک سے بالاتر ہو کر اپنی شناخت یعنی اسلام کی طاقت اور اس کے پیغام کو وسعت دینے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ ایرانی قیادت نے اسلام دشمن طاقتوں کے مذموم عزائم کا ادراک کرلیا ہے سعودی قیادت کو بھی ان حقائق کا ادراک کرنا ہوگا۔ ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں پوشیدہ ہے دشمن ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے عزائم رکھتا ہے ہمیں اس کے عزائم کو مل کر ناکام بنانا ہوگا۔


تحریر: سید شاہد حسین نقوی

ای میل کریں