امام خمینی(رح) ایک تاریخ ســاز ہستی

امام خمینی(رح) ایک تاریخ ســاز ہستی

امام(رہ) نے ایک ایسے دور میں جبکہ پوری دنیا کی نظروں میں صرف دو طاقتیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی تهی یہ واضح کردیا کہ دنیا کے اندر صرف دو طاقتیں ہی نہیں بلکہ تیسری ایک بہت بڑی طاقت بهی، اسلام اور ایمان کی شکل میں موجود ہے۔

تاریخ انسانیت ایسی عظیم شخصیتوں کے ذکر سے بهری پڑی ہے جنهوں نے اپنی پاک سیرت، مہر ومحبت اور انسان دوستی کی بناء پر لوگوں کے دلوں پر حکومت کی۔ انسان دوستی، نرم مزاجی، پاک کردار وگفتار اور مظلوم پروری وغیرہ ایسی صفات ہیں جو اپنے اندر ایک پر کشش مقناطیسی طاقت رکهتی ہیں۔ لهذا جس کے اندر یہ چیزیں موجود ہوں وہ ایسی مقبول شخصیت بن جاتی ہیں کہ بے اختیار انسانی توجہ ان پر مرکوز ہوتی ہے۔

خدا کے انہی پاک طینت اور پاکیزہ کردار بندوں میں سے ایک فرد صالح، امام خمینی(رح) کی ذات ہے جنهوں نے اپنے کردار وگفتار کے ذریعے نہ صرف ایرانی قوم کے دلوں پر حکومت کی بلکہ پورے جہاں کے مظلوموں کے دلوں کو اپنی طرف مبذول کیا۔ دنیا اس بات پر یقیناً حیرانگی کا مظاہرہ کرے گی کہ وہ انسان جس کے ہاته ہر قسم کے مادی وسائل سے خالے تهے، جس کے پاس نہ فوجی طاقت تهی نہ مادی، وہ فرد واحد جو دنیا کی سپر پاور طاقتوں کا مقابلہ کر رہے تهے کس طاقت کے بل بوتے ایک قلیل عرصے کے اندر کڑوڑوں انسانوں کے دلوں پر چها گئے یقیناً ان کے اندر یقین کامل، اعمال صالح اور الہی طاقت تهی جس کے سامنے دنیا کی مادی طاقتیں ٹک نہ سکی۔

تاریخ اسلام میں بہت سارے علمائے حق ایسے نظر آئیں گے جنهوں نے تہہ تیغ کلمہ حق کی آواز بلند کی انهوں نے کلمہ حق کی سر بلندی کیلئے کتنی زحمتیں برداشت کیں، کتنے مظالم کا مقابلہ کیا مگر یہ تاج کسی کے سر پہ نہیں رکها گیا کہ وہ بے سر وسامانی کے باوجود ایک اسلامی انقلاب برپا کر سکیں۔ لیکن بیسویں صدی کے اس عظیم رہنما کو یہ منفرد مقام حاصل ہے کہ انهوں نے روئے زمین کے اندر الہی حکومت کا قیام عمل میں لاکر عالم اسلام کے اوپر یہ واضح کردیا کہ اگر مسلمان اپنے یقین کامل، اعمال صالح اور علم وآگہی کے ساته اٹه کهڑے ہوں تو دنیا کی کوئی ایسی طاقت نہیں جو مسلمانوں کو زیر کر سکے۔

امام خمینی(رہ) نے ایک ایسے دور میں جبکہ پوری دنیا کی نظروں میں صرف دو طاقتیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی تهی یہ واضح کردیا کہ دنیا کے اندر صرف دو طاقتیں ( مغربی دنیا اور کمیونسٹ ) ہی نہیں بلکہ تیسری ایک بہت بڑی طاقت بهی اسلام اور ایمان کی شکل میں موجود ہے۔

وہ چند ایک خصوصیات جن کی بناء پر امام خمینی(رح) بیسویں صدی کے آخری عظیم رہنما کے طور ابهرے، پیش خدمت ہے:

 * امام خمینی(رح) نے عالم اسلام کی نئی نسلوں کو اپنے انقلابی افکار ونظریات سے متاثر کیا۔

 * ایک ایسے دور میں جبکہ مسلمانان عالم مایوسی اور کس مپرسی کی زندگی گزار رہے تهے، امام خمینی(رہ) نے اپنے کردار وعمل کے ذریعے مسلمانوں کو یہ بات سمجها دی کہ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو اس دور کے تمام فتنوں، الجهنوں اور مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔

 * امام خمینی(رہ) نے اپنے وقت کے سامراجی واستعماری طاقتوں کے خلاف ( بے سر وسامانی کے عالم میں ) بغاوت کا علم اٹها کر مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ انہیں خدا، رسول اور قرآن کے علاوہ کسی قسم کا خوف نہیں۔

 * امام خمینی(رہ) کی شخصیت نے عالم اسلام کے فکری کردار کو اعتماد فراہم کیا۔

 * امام امت(رہ) کی شخصیت کے انقلابی اثرات عالم اسلام کے نوجوان نسل پر پڑے اور ان میں مجاہدانہ کردار ابهرے۔

 * انقلاب اسلامی کے ظہور کے ساته امام امت(رہ) نے اتحاد بین المسلمین کا نعرہ بلند کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کا باعث بنے تو وہ نہ شیعہ ہے اور نہ سنی بلکہ استعمار کا ایجنٹ ہے۔

 * دشمنوں کی طرف سے مختلف قسم کے مخالفانہ پروپیگنڈے کے باوجود امام خمینی(رح) نے اسلامی اصولوں کی پاسداری کرنے میں انحراف نہیں کیا۔

 * امام خمینی(رہ) نے عالم اسلام کے قلب میں جو لرزشیں پوشیدہ تهیں ان کو رفع کیا اور اپنی قیادت کے کرشمہ سے عالمی سیاسیات میں اسلام اور بلاد اسلام کو مرکزی اہمیت فراہم کی۔

 * امام امت(رہ) مستضعفین جہاں کی آواز بن کر ابهرے۔

 * امام خمینی(رہ) نے اپنی جد وجہد اور کاوشوں کے ذریعے عالم اسلام پر یہ واضح کردیا کہ خمینی ذاتی اقدار کا حصول نہیں چاہتے بلکہ ان کا مقصد دین محمدی(ص) کو لے کر پوری دنیا میں چها جانا ہے۔

آج اگرچہ امام امت(رہ) ہمارے درمیان نہیں ہے لیکن امام کے افکار ونظریات، آج بهی خواب غفلت میں پڑے ہوئے مسلمانوں کو پکار پکار کر یہ کہہ رہے ہیں کہ:

مسلمانو! تمہارے تمام مصائب ومشکلات کا حل اسلام اور قرآن کے اندر موجود ہے، اگر تم آج بهی امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست دینا چاہتے ہو تو قرآن کو عملی میدان میں لے آو۔

یقیناً آج مسلمان جس قدر مظلومانہ اور مایوسی کی زندگی گزار رہے ہیں اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، ایک طرف مسلمانوں کے اوپر مظالم کے پہاڑ ڈهائے جا رہے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں دہشت گرد قرار دینے کی مذموم کوششیں کر رہی ہیں۔

افغانستان، عراق اور فلسطین کی صورتحال سے کون ناواقف ہے، ایک خونخوار درندے کی شکل میں امریکہ ان ملکوں میں نمودار ہوا اور یہاں کے بچوں، بوڑهوں اور عورتوں تک کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا لیکن کسی مسلمان کے اندر یہ جرات پیدا نہ ہو سکی کہ وہ آگے بڑه کر کہے کہ اس دور میں سب سے بڑا دہشت گرد خود امریکہ ہے اور اس کا اپنا وجود انسانیت کی بقاء کے لئے خطرناک اور ضرر رساں ہے۔

امام خمینی(رح) تو وہ عظیم مرد مجاہد ہے جنهوں نے ان حالات کے پیدا ہونے سے پہلے ہی پیشن گوئی دیتے ہوئے کہا تها کہ:

دنیا کا سب سے بڑا شیطان امریکہ ہے اور اس کے وجود سے عالم اسلام کو خطرات لاحق ہیں۔

لیکن عقل کے کهوٹے مسلمانوں نے اس پر کسی قسم کی توجہ نہیں دی جس کی سزا آج پوری امت مسلمہ بهگت رہی ہے۔

 

تحریر: ذاکر حسین جامعۃ النجف اسکردو پاکستان

بشکریہ اسلام ٹائمز

ای میل کریں