اسلامی ممالک جناب ابراہیم علیہ السلام کی طرح فداکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستکبرین کے خلاف قیام کریں

اسلامی ممالک جناب ابراہیم علیہ السلام کی طرح فداکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستکبرین کے خلاف قیام کریں

اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینی (رہ) عید قربان کے عرفانی پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں: ایک بیٹے کی قربانی کا مسئلہ خود ایک باب ہے جو انسانی نکتہ نگاہ سے ایک اہم مسئلہ ہے لیکن جو چیز اس کی بنیاد بنی ہے وہ ہماری اور آپ کی سمجھ سے بالاتر ہے ہم تو بس اتنا کہتے ہیں انہوں نے ایثار کیا، قربانی کی، حقیقت میں بھی یہی چیز تھی اور یہ بہت اہم چیز ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جناب ابراہیم علیہ السلام کی نظر میں بھی یہ ایثار تھا؟

جمعه, جولائی 31, 2020 01:51

مزید
شہادت امام باقر (ع)

شہادت امام باقر (ع)

یعقوبی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ آپ نے علم میں موشگافی کی اور علمی پوشیدہ نکات بیان فرمائے اور عالم انسانیت کو علوم و فنون کی تعلیم دی ہے

منگل, جولائی 28, 2020 10:50

مزید
تشہد کی ذکر کیا ہے؟

تشہد کی ذکر کیا ہے؟

جمعه, اپریل 10, 2020 01:59

مزید
منجی بشریت کی ولادت باسعادت

منجی بشریت کی ولادت باسعادت

زندگی کے انفرادی اور اجتماعی و سماجی ہر شعبہ میں آپ (ع) کی سیرت اور طرز عمل وہی ہے جو رسولخدا(ص) اور ائمہ اطہار (ع) کی تھی

جمعرات, اپریل 09, 2020 08:31

مزید
الہی تقدیریں

الہی تقدیریں

ہم عاجز ہیں

پير, اپریل 06, 2020 05:40

مزید
امام خمینی (رح) کی اپنے بیٹے کو وصیت

امام خمینی (رح) کی اپنے بیٹے کو وصیت

مخلوق خدا کی خدمت کرنے میںخود کو کبھی طلبگار نہ جانو جبکہ حق یہ ہے کہ وہ لوگ ہم پر احسان کرتے ہیں

جمعه, اپریل 03, 2020 03:07

مزید
عرفان حسینی اور آپؑ کی نگاہ میں مقصد خلقت

عرفان حسینی اور آپؑ کی نگاہ میں مقصد خلقت

حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے مکتب میں سب سے نمایاں اور برجستہ خصوصیت آپؑ کے بے مثال عرفان میں پوشیدہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی نگاہ میں خداوندِمتعال کی معرفت ایک مخصوص معرفت ہے۔ آپؑ، خدا کی معرفت کے بحر بیکراں میں غرق تھے۔ حضرت حسین ابن علی علیہ السلام کا عرفانی پہلو آپؑ کی پرسوز و پرخلوص دعاؤں کے درمیان موجیں مار رہا ہے اور مکمل طور پر واضح ہے خاص طور پر امامؑ سے منقولہ دعائے عرفہ آپؑ کے اوجِ عرفان کی حکایت کرتی ہے۔ دعائے عرفہ میں امام علیہ السلام کی مناجات کا ایک نہایت خوبصورت جملہ حسب ذیل ہے: متیٰ غِبتَ حتّی تحتاج الیٰ دلیل یدلّ علیک؟ ومتیٰ بعُدت حتّی تکون الآثار ھی الّتی توصل الیک عَمیت عین لاتراک علیھا رقیباً و خسرت صفقۃ عبد لم تجعل لہ من حبّک نصیباً۔ اے خدا! تو کس وقت غائب اور نظروں سے اوجھل ہوا تاکہ تجھ پہ دلالت کرنے کے لئے کسی دلیل و برہان کی ضرورت پڑے جو تیری جانب رہنمائی کرے، تو ہم لوگوں سے کب دور ہوا تا کہ آثار و مخلوقات ہمیں تیرے نزدیک کریں۔ وہ آنکھ اندھی ہوجائے جو تجھے اپنا محافظ نہ سمجھے اور وہ بندہ بہت نقصان میں ہے جس کے لئے تو نے اپنی دوستی میں سے کچھ حصہ اور فائدہ قرار نہ دیا ہو۔

هفته, مارچ 28, 2020 10:28

مزید
Page 1 From 8 1 | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8