وہ یاد جس کو میں کبهی نہیں بهلا سکتا

وہ یاد جس کو میں کبهی نہیں بهلا سکتا

یہ ایک جوان لڑکی کی داستان ہے جو انہوں نے ایک پاسدار کے ساته رچائی تهی

آٹه سالہ دفاع مقدس کے دوران عورتوں کی فداکاری اور جذبہ استقامت کو قلم بیان کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے کردار، اسلامی انقلاب کے علاوہ مجهے کہیں نہیں ملتی۔

امام خمینی(رح) فرماتے ہیں: یہ ایک جوان لڑکی کی داستان ہے جو انہوں نے ایک پاسدار کے ساته رچائی تهی، پاسدار کا دونوں ہاته جنگ میں کٹ گئے تهے، مزید برآن، اس کی دونوں آنکهوں کو بهی صدمہ پہنچا تها۔ اس شجاع اور ایماندار لڑکی نے شادی کے موقع پر اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا تها:

اب جبکہ میں محاذ جنگ میں نہیں جاسکتی لہذا میری کوشش ہوگی کہ اس شادی کے ذریعے اسلامی انقلاب کے حوالے سے میرے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داری کو کسی حد تک انجام دے سکوں!! 

کرامت انسانی پر مشتمل اس عظیم داستان کی حقیقت کو کوئی بهی رائٹر، شاعر، مصور، عارف، قوال، فقیہ اور فیلسوف اپنے لفظوں اور تصویر کے قالب میں نہیں ڈال سکتا! یقیناً اس عظیم خاتوں کی فدا کاری اور جان نثاری کو معاشرے میں رائج معیارات کی کسوٹی پر کسی بهی صورت میں نہیں پرکها جاسکتا۔

 

صحیفه امام،ج16، ص194 سے اقتباس

ای میل کریں