مجمعِ جهانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی اور مؤسّسہ تنظیم و نشرِ آثارِ امام خمینیؒ کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشت کے مندرجات کا جائزہ لینے اور انہیں حتمی شکل دینے کے لیے ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی۔
مؤسّسہ تنظیم و نشرِ آثارِ حضرت امام خمینیؒ کے بین الاقوامی امور کے معاونت کے میڈیا اور سائبر اسپیس شعبے کی رپورٹ کے مطابق، انقلابِ اسلامی کے معمارِ کبیر حضرت امام خمینیؒ کی افکار و نظریات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے مقصد سے، بین الاقوامی میدان میں فعال ان دونوں اداروں کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشت کی عملی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے یہ نشست پیر، 19 مرداد 1405 کو مجمعِ جهانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی کی ثقافتی معاونت کی میزبانی میں منعقد ہوئی۔
اس نشست کا مقصد مفاہمتی یادداشت کی شقوں کا عملیاتی جائزہ لینا اور علمی و تحقیقی شعبوں، بین الاقوامی میڈیا پروڈکشنز اور ثقافتی سفارت کاری کے میدان میں مشترکہ صلاحیتوں کو ہم آہنگ کرنا تھا، تاکہ بین الاقوامی سطح پر مؤثر موجودگی اور بین الاقوامی مخاطبین کی فکری ضروریات کا جواب دینے کے لیے ایک نیا لائحۂ عمل مرتب کیا جاسکے۔
اس اسٹریٹجک نشست میں ڈاکٹر ناصر سارلی، معاونِ ثقافتی مجمعِ جهانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی؛ حسن موسوی، ڈائریکٹر جنرلِ مطبوعات و امورِ فنّی؛ محمدرضا شیشہگران، سربراہِ شعبۂ روابط با سازمانهای مردمنهاد؛ ڈاکٹر محمدرضا وفائی، معاونِ بین الاقوامل مؤسّسہ تنظیم و نشرِ آثارِ امام خمینیؒ؛ محمود دارینی، ڈائریکٹر جنرلِ ترجمہ و بیرونی زبانوں میں متون کی تیاری؛ اور محترمہ ڈاکٹر نیکولعل آزاد، ڈائریکٹر جنرلِ بین الاقوامی روابطِ مؤسّسہ، نے شرکت کی۔
شرکائے نشست نے بین الاقوامی تبلیغ کے میدان میں روایتی نقطۂ نظر سے آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، مذاہبِ اسلامی کے درمیان تقریب کے فریم ورک میں امام خمینیؒ کے آثار و افکار کی دوبارہ اشاعت اور فروغ کے لیے سائبر اسپیس کی صلاحیتوں اور علمی و فکری شخصیات کے باہمی تعامل سے استفادہ کرنے کے جدید طریقۂ کار کی وضاحت کی۔
نشست کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ طے شدہ امور کو فوری طور پر عملی جامہ پہنانے کے لیے خصوصی ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے۔ ان گروپس کی توجہ تحقیقی اور بین الاقوامی شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر مرکوز ہوگی، جبکہ سرگرمیوں میں پیش رفت کی باقاعدہ رپورٹس متعلقہ اور مجاز حکام کو پیش کی جائیں گی۔