ممتاز عالم دین اور جامع مسجد کشمیریاں اندرون موچی گیٹ لاہور کے خطیب علامہ سید جواد موسوی نے جعفری ہاوس لارنس روڈ پر مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس مجلس میں ظالم کی مذمت اور مظلوم کی حمایت نہیں، وہ مجلس نہیں، بس اکٹھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسینؑ نے ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دینے کا حکم دیا ہے، اور آج ایرانیوں نے غزہ کے مظلوموں کی حمایت کی اور خم ٹھونک کر دور حاضر کے شیطان کو بتا دیا کہ ہم حسینی ہیں اور مظلوموں کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے دورِ حاضر کے یزید ٹرمپ کو ایسا تھپٹر رسید کیا ہے کہ ٹرمپ کے اوسان خطا ہو گئے ہیں، اس کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے، ٹرمپ کبھی کوئی بیان دیتا ہے کبھی کوئی، کبھی کہتا ہے ایران کا سپریم لیڈر بن رہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اب تو خود امریکی قوم یہ تسلیم کر رہی ہے کہ کوئی پاگل ان پر مسلط ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے مظلوموں پر ہونیوالے ظلم کی مذمت کرتے ہیں اور ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، یہی درس کربلا ہے۔ علامہ موسوی نے کہا کہ رہبر کی شہادت بھی امام حسینؑ کی شہادت کی طرح آگاہانہ ہے، امام حسینؑ کو بھی علم تھا کہ وہ موت کی طرف جا رہے ہیں اور رہبر بھی جانتے تھے کہ انہیں یہاں شہید کر دیا جائے گا، مگر رہبر نے حکم دیا کہ ان کی شہادت سے امت کو فائدہ ہوگا، اس لئے اپنی جان قربان کر دی، یہ جذبہ صرف کربلا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خود کو ’’سیف زون‘‘ میں رکھا ہوا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم، ہماری اولاد، ہمارا کاروبار محفوظ ہے تو ہم بھی محفوظ ہیں، لیکن کربلا ہمیں ’’سیف زون‘‘ سے نکل کر میدان میں بلاتی ہے۔
کربلا کا درس تمسک قرآن ہے، علامہ علی حسین مدنی
ممتاز عالم دین اور خطیب آل محمد علامہ سید علی حسین مدنی نے لاہور میں امام بارگاہ گلستان زہراؑ میں مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کربلا کا درس تمسک قرآن ہے، جو جو قرآن سے وابستہ ہو گیا، جس جس نے قرآن کو اپنا ہادی بنا لیا، وہ فلاح پا گیا اور یہی درسِ حسین علیہ السلام ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن ایک آفاقی کتاب ہے، جو باقاعدہ انسان سے گفتگو کرتی ہے، اس میں اللہ کریم اپنے بندے سے محو کلام ہوتا ہے۔ علامہ سید علی حسین مدنی کا کہنا تھا کہ آج ہم کربلا کو یاد کر رہے ہیں، کربلا دنیا کی ایک عظیم یونیورسٹی ہے، جس سے ہر عمر کے انسان کیلئے الگ الگ درس ہے۔ انہوں ںے کہا کہ قرآن خدا کا زندہ معجزہ ہے، یہ کوئی عام کتاب نہیں، بلکہ دوسری چیز ہے، علامہ اقبال نے قرآن سے رہنمائی لی اور ایک عظیم مملکت کے وجود کا نظریہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری کا زیادہ تر حصہ تفسیر قرآن ہے، اقبالؒ نے بہت سے مقامات پر سیرت اہلبیتؑ بیان کی ہے۔