ٹرمپ کے بیانات اور زمینی حقائق

ٹرمپ کے بیانات اور زمینی حقائق

اس وقت جب امریکہ معاہدے کے مسودے میں نئے اضافے کے پیش نظر ایک باقاعدہ حکمت عملی کے ساتھ پیچھے ہٹ رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ سوشل میڈیا پر اپنے دھمکی آمیز لہجے کو بڑھا کر "بمباری کے سامنے ایران کے ہتھیار ڈالنے" کا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

 

اس وقت جب امریکہ معاہدے کے مسودے میں نئے اضافے کے پیش نظر ایک باقاعدہ حکمت عملی کے ساتھ پیچھے ہٹ رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ سوشل میڈیا پر اپنے دھمکی آمیز لہجے کو بڑھا کر "بمباری کے سامنے ایران کے ہتھیار ڈالنے" کا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک بیانیہ جو مذاکرات کے تناظر میں حقیقت سے بہت دور ہے۔ میری معلومات کے مطابق، تقریباً دو ہفتے قبل مذاکراتی ٹیموں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے مسودے کا متن تقریباً طے پا چکا تھا اور صرف تہران اور واشنگٹن میں حتمی منظوری کا انتظار تھا۔ تاہم اس جائزے کے دوران ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی مسودے کو قبول کرنے والے امریکی مذاکرات کاروں کے معاہدے کے برعکس کئی نئی تفصیلات شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے جواب میں ایران نے اعلان کیا کہ وہ نئے متن پر نظرثانی نہیں کرے گا اور عملی طور پر اس کے بعد ایران نے امریکہ کو کوئی جواب نہیں دیا۔

 

اس کے بعد آبنائے ہرمز اور جنوبی ایران میں پھیلی کشیدگی اور ساتھ ہی لبنان میں ضاحیہ پر حملے نے مذاکرات کی فائل کو عملی طور پر بند کر دیا۔ تاہم ایک نئی پیشرفت سامنے آئی اور بدھ سے قطری ٹیم ثالثی کے لئے میدان میں اتری اور نئی اضافی شقوں سے امریکی دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔ یعنی اصل متن کی طرف واپسی جو ابھی تک ایران میں حتمی منظوری کا منتظر تھا۔ اس قابل توجہ امریکی پسپائی کے بعد ٹرمپ نے ایک میڈیا مہم شروع کی اور دھمکی آمیز بیان بازی سے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ایران بمباری کے دباؤ میں پیچھے ہٹ گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک نہ صرف ایران نے کوئی حتمی جواب نہیں دیا  تھا بلکہ یہ امریکہ ہے، جو اپنے سابقہ مطالبے پر واپس آگیا ہے۔

 

 ایسا لگتا ہے کہ امریکہ نے ایران کی طرف سے تجویز کردہ متن کو قبول کر لیا ہے، اس متن پر دوبارہ غور کرنے کا امکان بہرحال موجود ہے۔ ادھر قطر کی ثالث کے طور پر انٹری نے کئی سوالات جنم دیئے ہیں، تاہم ایران کی وزارت خارجہ نے اسے مینج کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ پاکستان کا کردار کم رنگ نہ ہو۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بقول قطر اور پاکستان ثالث کے طور پر سرگرم ہیں اور امریکی اقدامات سے سفارتی عمل متاثر ہو رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی حیثیت ہم پر شروع سے ہی واضح تھی اور بیشتر متن کو حتمی شکل دے دی گئی تھی، لیکن امریکی اپنی پوزیشن بدلتے رہے۔ ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ سرخ لکیر کو عبور نہیں کرے گا۔

 

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق معاہدے کے بارے میں اٹھائے گئے مسائل قیاس آرائیاں ہیں اور اس معاملے کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔ان کا کہنا ہے کہ امریکی اقدامات کی وجہ سے آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید غیر محفوظ ہے اور ابھی تک ایران معاہدے کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا ہے۔ امریکی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے دباؤ میں اس معاہدے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ ہم اپنی سرخ لکیروں سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی غیر قانونی امریکی اقدامات کی وجہ سے بند ہے۔ بحری جہازوں کو محتاط رہنا چاہیئے، کیونکہ محفوظ راستہ ممکن نہیں ہے۔ اسماعیل بقائی کے بقول ہم جب بھی اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ مفاہمت کا متن ایرانی قوم کے مفاد میں ہے تو ہم اس کا اعلان کریں گے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک کسی متن پر باقاعدہ دستخط نہیں ہوئے ہیں، کسی معاہدے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے اور ایرانی فریق نے بات چیت کے حتمی مرحلے تک پہنچنے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔ لیکن ٹرمپ، جیسا کہ ان کی عادت ہے، متن سے پہلے میڈیا کے سامنے تمام تر کریڈٹ اپنے نام پر درج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ صرف ممکنہ معاہدے کے بارے میں بات نہیں کرتا، وہ پہلے سے اس کے معنی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ایک ایسا مفہوم جس میں امریکہ کو فاتح اور ایران کو دباؤ کا شکار ایک مجبور ملک کے طور پر پیش کرسکے۔ ایران کے ساتھ معاملات میں ٹرمپ کا رویہ شفاف، مستحکم اور قابل اعتماد نہیں ہے۔ اس کا رویہ اتار چڑھاؤ، ڈرامائی اور شوک پر مبنی ہے۔ ایک دن وہ دھمکی دیتا ہے، اگلے دن وہ معاہدے کی بات کرتا ہے۔ ایک دن وہ جنگ کے شعلے بلند کرنے کی بات کرتا ہے، دوسرے دن وہ خود کو بحران کے خاتمے کا ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے۔

 

ٹرمپ کا یہ رویہ انکی طاقت اور اقتدار کی علامت نہیں بلکہ سیاسی ضرورت کی علامت ہے۔ ٹرمپ کو معاہدے کی ضرورت ہے لیکن وہ اس ضرورت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے وہ اپنی ضرورت کو فتح کی صورت میں بیچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اہم مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ کو اس وقت ایک معاہدے کی سخت ضرورت ہے، لیکن وہ اس کی سیاسی قیمت ادا نہیں کرنا چاہتا۔ وہ امریکی ووٹروں، صہیونی لابی، توانائی کی منڈیوں اور فکر مند علاقائی اتحادیوں کے لیے اپنے آپ کو  فاتح بن کر دکھانا چاہتا ہے، لیکن ایران نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے اور اسے دنیا بھر میں ذلیل کرکے اس کی سپر پاور ہونے کی حیثیت کو ایک ایسی سطح پر پہنچانا چاہتا ہے کہ وہ خطے میں اسرائیل کی حمایت اور ہر روز کی من مانیوں سے باز آجائے۔

ای میل کریں