عالمی آمریت کے خلاف جنگ

عالمی آمریت کے خلاف جنگ

امام خمینی رح کی 37 ویں برسی کے موقع پر رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے اپنے پیغام میں بہت اہم نکات کی جانب اشارہ کیا تھا

امام خمینی رح کی 37 ویں برسی کے موقع پر رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے اپنے پیغام میں بہت اہم نکات کی جانب اشارہ کیا تھا جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ امام خامنہ ای شہید کا مکتب وہی امام خمینی رح کا مکتب ہے،

2۔ امام خمینی رح امت مسلمہ اور دنیا میں ایک عظیم تبدیلی کے بانی ہیں،

3۔ رہبر شہید نے اس تبدیلی کو گہرائی اور وسعت عطا کرنے کے لیے نظام سازی اور معاشرہ سازی کی ہے۔

اب ان میں سے ہر ایک کا کچھ تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔

 

1)۔ امام خامنہ ای شہید اور امام خمینی کبیر کا مکتب کیا ہے؟ عصر جدید میں عظیم تبدیلی کون سی ہے؟ اس کے لیے نظام سازی اور معاشرہ سازی کس طرح انجام پائی ہے؟ امام خمینی رح اور امام خامنہ ای شہید، دونوں کا اصل موقف عالمی سطح پر "خودسرانہ" اور "آمرانہ" طرز حکومت کے خلاف قیام پر مبنی تھا۔ امام خمینی رح نے 5 جون 1963ء کے دن رضا شاہ رژیم، جرائم پیشہ امریکہ اور غاصب اسرائیل کے خلاف ایسی آواز بلند کی جس کی گونج آج تقریباً نصف صدی گزر جانے کے بعد بھی امت مسلمہ کو سنائی دے رہی ہے۔ امام خمینی رح نے فرمایا: "حکومت کو خودسرانہ اور آمرانہ انداز میں عمل نہیں کرنا چاہیے۔ خداوند متعال نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس لیے بھیجا کہ وہ خدا کے قانون کی بنیاد پر انسانی معاشروں کا انتظام چلائیں۔"

 انہوں نے اس منطق کے ذریعے رضاہ شاہ کی آمریت اور عالمی استکبار کے خلاف قیام کیا اور 1979ء میں ایک عوامی اور الہی نظام کی تشکیل سے اپنی جدوجہد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ انہوں نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد پہلی تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا: "میں کابینہ تشکیل دوں گا اور اس حکومت کے منہ پر طمانچہ ماروں گا۔" ان کا مطلب یہ تھا کہ میں ایک نیا نظام تشکیل دوں گا جس کی بنیادین عدل و انصاف اور خدا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وضع کردہ قوانین پر استوار ہوں گی۔ امام خمینی رح تقریباً 37 برس پہلے خالق حقیقی سے جا ملے لیکن اس "قیام لِلّہ" کا پرچم ایسے شخص کو سونپ کر گئے جو ان کے اہداف پر سب سے زیادہ ایمان رکھنے والا تھا اور ان کی سیرت پر سب سے زیادہ عمل کرنے والا تھا۔

 

2)۔ امام خامنہ ای شہید نے امام خمینی رح کی وفات کے بعد اپنی زندگی کے آخری لمحات تک حتی لمحہ بھر بھی نظام سازی اور معاشرہ سازی کو وسعت اور گہرائی عطا کرنے میں کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا اور اپنی مظلومانہ شہادت کے بعد اسلامی جمہوریہ کے مقدس نظام کا پرچم اپنے فرزند امام مجتبی خامنہ ای کے سپرد کر گئے۔ ایرانی قوم کی بعثت کا راز امام خامنہ ای شہید کی نظام سازی اور معاشرہ سازی میں مضمر ہے۔ امام خامنہ ای شہید نے جب اسلامی انقلاب کا پرچم تھاما تھا تو ان کے بدن پر بھی اس دہشت گردانہ بم حملے کے نتیجے میں آنے والے زخم ابھی موجود تھے اور انہوں نے اسی زخمی بدن سے 1981ء سے 1989ء تک صدارت کا عہدہ سنبھالا اور اسے بعد رہبر کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اب ان کے عظیم فرزند اور لائق جانشین نے بھی شریر ترین رژیم یعنی اسرائیل کے حملے کے نتیجے میں زخمی بدن کے ساتھ اس پرچم کو سنبھالا ہے۔

 

3)۔ نئے ولی امر مسلمین جہان امام مجتبی خامنہ ای نے امام خمینی رح کی سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم امام خمینی رح اور امام خامنہ ای کے راستے کو آگے بڑھائیں گے۔ ان کا پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی قوم دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اور خطے اور دنیا میں اس کے اتحادیوں کے خلاف ایک بھرپور جنگ میں مصروف ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امام خمینی رح اور امام خامنہ ای شہید کی منطق ہمارے مستقبل کے لیے چراغِ راہ ہے۔ اس تاریخی معرکے کی منطق "قیام لِلّہ" کے سوا کچھ نہیں ہے۔ امام مجتبی خامنہ ای اپنے پیغام میں فرماتے ہیں: "ایرانی قوم اپنی عوامی بعثت جاری رکھے گی کیونکہ دنیا کی دیگر اقوام کے لیے باعث فخر ہے۔"

 

رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے ایرانی قوم کی عوامی بعثت جاری رہنے کے لیے بھی کچھ شرائط بیان کی ہیں جو یہ ہیں:

الف)۔ عوام کی استقامت بدستور جاری رہے اور ان میں مایوسی اور بدبینی پیدا نہ ہو پائے،

ب)۔ حکومتی ذمہ داران ایرانی قوم کے دشمنوں کی جانب سے پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات کو اہمیت نہ دیں،

ج)۔ صرف استقامت اور باہمی اتحاد کے ذریعے ہی دشمن کی سازشیں ناکام بنائی جا سکتی ہیں،

امریکہ کے "خودسرانہ" طرز عمل پر قابو پا کر فتح یاب ہونے کا راز انہی تین نکات میں پوشیدہ ہے۔ دنیا بھر کی عوام بہت جلد امریکہ کی آمریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایران کی عوامی بعثت میں شامل ہو جائیں گے۔

ای میل کریں