شہادتِ امام حسن عسکری علیہ السلام

شہادتِ امام حسن عسکری علیہ السلام

اسلامی تاریخ میں اہل بیتؑ کی حیاتِ طیبہ، ایمان و تقویٰ، صبر و استقامت، اور حق کی حفاظت کے روشن باب ہیں

اسلامی تاریخ میں اہل بیتؑ کی حیاتِ طیبہ، ایمان و تقویٰ، صبر و استقامت، اور حق کی حفاظت کے روشن باب ہیں۔ ان نفوسِ قدسیہ نے نہ صرف دینِ اسلام کی حقیقی روح کو محفوظ رکھا، بلکہ ظلمت کے اندھیروں میں چراغِ ہدایت روشن کیے۔ انہی عظیم ہستیوں میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام گیارہویں امام ہیں، جن کی ولادت ۲۳ ربیع الثانی ۲۳۲ ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپؑ کے والد حضرت امام علی نقی علیہ السلام اور والدہ نرجس خاتون تھیں۔

حالاتِ زندگی

امام حسن عسکریؑ کا بیشتر دورِ امامت عباسی خلفاء کے سخت اور جابرانہ تسلط کے سائے میں گزرا۔ آپؑ کو بچپن ہی سے علمی بصیرت، زہد و تقویٰ، عبادت، اور معاشرتی حکمت کا پیکر پایا جاتا تھا۔ عباسی حکومت کو یہ خوف تھا کہ اہل بیتؑ میں سے ایک نجات دہندہ اور قائمؑ آنے والا ہے، جو ظلم کا خاتمہ کرے گا۔ اسی لیے امام عسکریؑ کو مسلسل نظر بند رکھا گیا اور مدینہ سے سامرہ منتقل کیا گیا۔

امامت کا انداز

امام عسکریؑ کی امامت ۲۵۴ ہجری میں والد کی شہادت کے بعد شروع ہوئی۔ تقریباً چھ سالہ امامت میں آپؑ نے محدود مواقع اور شدید حکومتی نگرانی کے باوجود اپنے شیعہ ماننے والوں کو تعلیمِ دین، تفسیرِ قرآن، اور اسلامی اخلاقیات سے روشناس کرایا۔ آپؑ نے علمی خطوط (توقیعات) کے ذریعے اپنے پیروکاروں کو رہنمائی فراہم کی اور نیابت کے نظام کو مضبوط کیا تاکہ آپؑ کے بعد شیعہ امت کی قیادت صحیح راستے پر رہے۔

شہادت

۸ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری کو سامرہ میں امام حسن عسکریؑ کو عباسی خلیفہ معتمد کے حکم سے زہر دے دیا گیا۔ زہر کے اثرات سے آپؑ کی طبیعت بگڑ گئی اور چند دن بعد آپؑ نے اپنے رب کی بارگاہ میں وصال فرمایا۔ امام عسکریؑ کی شہادت پر شیعہ اور سنی سب نے گہرے رنج کا اظہار کیا کیونکہ آپؑ علم و حلم کا پیکر اور امت کے خیر خواہ تھے۔

وصیت اور جانشینی

امام عسکریؑ کی شہادت کے وقت آپؑ کے صرف ایک فرزند حضرت مہدیؑ موجود تھے، جو پانچ سال کے تھے۔ آپؑ نے اپنے خاص اصحاب کو وصیت کی کہ میرے بعد امامت میرے بیٹے مہدی کے سپرد ہے، جو غیبت میں جائیں گے اور جب اللہ کا حکم ہوگا تو ظہور فرمائیں گے۔

امام حسن عسکریؑ کی شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق کی حفاظت کے لیے صبر، حکمت، اور قربانی کی ضرورت ہے۔ امام مہدیؑ کی آغازِ امامت ہمیں امید دلاتی ہے کہ ظلم کا خاتمہ اور عدل کا قیام اللہ کی سنت ہے، جو ایک دن ضرور پوری ہوگی۔ اس عقیدے کے ساتھ مخلص رہنا اور اپنے اعمال کو اسلام کی حقیقی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا، ہر مؤمن کی ذمہ داری ہے۔

ای میل کریں