یوم القدس: امام خمینی (رح) کے نقطہ نظر سے

یوم القدس: امام خمینی (رح) کے نقطہ نظر سے

یوم القدس دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا دن ہے جو نہ صرف فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت کا اظہار کرتا ہے بلکہ امت مسلمہ کی بیداری اور اتحاد کی علامت بھی ہے

یوم القدس دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا دن ہے جو نہ صرف فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت کا اظہار کرتا ہے بلکہ امت مسلمہ کی بیداری اور اتحاد کی علامت بھی ہے۔ اس دن کی بنیاد بانیِ انقلاب اسلامی، امام خمینیؒ نے رکھی تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف عربوں کا نہیں بلکہ تمام مسلمانوں اور حریت پسند انسانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔

امام خمینیؒ نے یوم القدس کو رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو منانے کا اعلان کیا تاکہ یہ دن نہ صرف ایک سیاسی احتجاج ہو بلکہ ایک روحانی و دینی پہلو بھی رکھے۔ ان کے نزدیک، قدس کی آزادی صرف ایک سیاسی ہدف نہیں بلکہ یہ اسلامی اقدار کے دفاع اور مظلوموں کی حمایت کا عملی نمونہ ہے۔

امام خمینیؒ نے ہمیشہ کہا کہ فلسطین پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ دراصل عالمی استعماری طاقتوں کی سازش ہے اور اس کا مقصد صرف فلسطینی عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرنا نہیں بلکہ امت مسلمہ کی وحدت کو توڑنا بھی ہے۔ انہوں نے مسلم حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی اسلام اور مسلمانوں کے خیرخواہ ہیں تو انہیں فلسطین کے مسئلے کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

یوم القدس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دنیا کے تمام مسلمانوں اور آزادی کے متوالوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں اور اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف احتجاج کر سکتے ہیں۔ امام خمینیؒ کے مطابق، یہ دن امت مسلمہ کے لیے ایک ٹیسٹ ہے کہ آیا وہ حقیقت میں مظلوموں کے حق میں کھڑی ہوتی ہے یا نہیں۔

ان کے نظریے کے مطابق، یوم القدس محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں بیداری پیدا کرتی ہے۔ امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ "یوم القدس، اسلام کا دن ہے"، یعنی یہ دن دراصل اسلامی اقدار کے احیا اور دشمنانِ اسلام کے خلاف جدوجہد کا دن ہے۔

امام خمینیؒ کی نظر میں، مسئلہ فلسطین صرف ایک سرحدی یا قومی مسئلہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی جنگ ہے جس میں حق و باطل کا مقابلہ ہے۔ ان کے بقول، اگر امت مسلمہ متحد ہو جائے تو اسرائیل کا وجود زیادہ دیر تک باقی نہیں رہ سکتا۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دیتے اور کہتے کہ اگر تمام اسلامی ممالک ایک ساتھ اسرائیل کے خلاف اقتصادی اور سیاسی دباؤ ڈالیں تو یہ غاصب حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکے گی۔

یوم القدس کے موقع پر دنیا بھر میں مسلمان ریلیاں نکالتے ہیں، مظاہرے کرتے ہیں اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ دن ان کے لیے ایک عہد کی تجدید کا موقع ہوتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں اور بیت المقدس کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ امام خمینیؒ نے مسلمانوں کو یہ درس دیا کہ وہ مظلوموں کی حمایت کو اپنی اسلامی ذمہ داری سمجھیں اور ہر ممکن طریقے سے فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد کریں۔

آخر میں، یوم القدس ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر مسلمان متحد ہوں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں تو کوئی طاقت انہیں ان کے حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتی۔ امام خمینیؒ کے نظریات آج بھی زندہ ہیں اور ہر سال یوم القدس پر لاکھوں مسلمان ان کے پیغام کو دہراتے ہیں کہ "فلسطین کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی۔"

ای میل کریں