عیدالفطر کا پیغام

عیدالفطر کا پیغام

عید الفطر کا دن مسلمانوں کے لئے اطاعت خدا کی توفیق نصیب ہونے پر اظہار تشکر اور اپنے محاسبے اور احتساب کا دن ہے

تحریر: مولانا جاوید حیدر زیدی

 

عید الفطر کا دن مسلمانوں کے لئے اطاعت خدا کی توفیق نصیب ہونے پر اظہار تشکر اور اپنے محاسبے اور احتساب کا دن ہے۔ اس روز اگر ہم اپنے گذشتہ سال کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا جائزہ لیں اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کریں تو ہم خود احتسابی کا عمل جاری کرکے اپنی ذاتی اور معاشرتی اصلاح کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں اور پھر دنیا کو حسین جنت بناسکتے ہیں۔ عید کے دن فقط رمضان المبارک کے اختتام اور روزہ کے روحانی فوائد حاصل کرکے مسرت کا اظہار کرنا ہی کمال نہیں بلکہ یہ دن ہمیں اپنے ارد گرد، سماج و معاشرے میں موجود معاشرتی مسائل کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ جس طرح ہم رمضان المبارک میں عبادت اور تزکیہ نفس کے ذریعے اپنی ذاتی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اس کوشش کی کامیابی کا انعام عید کی صورت میں پاتے ہیں، اسی طرح اجتماعی اصلاح کی کوششوں اور معاشرے کو تمام مسائل سے نجات دلانے کا آغاز کرنے کا عہد بھی عید کے دن کیا جانا چاہیئے۔

 

ہم صحیح معنوں میں تب ہی عید منانے کے حقدار ہوں گے، جب ہمارے معاشروں میں معاشرتی جرائم، گناہوں، برائیوں اور مشکلات کے خاتمے کی اُمید واثق ہو جائے گا، مظلومین، محرومین اور پسے ہوئے طبقات کو ان کے حقوق ملنے شروع ہو جائیں گے اور معاشرے میں عدل و انصاف اسلامی روایات اور امن و امان کے قائم کے آثار آنے لگے۔ احترام آدمیت اور انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ خوشی و مسرت کے جائز ذرائع سے استفادہ کیا جائے اور ایسا انداز اختیار نہ کیا جائے، جس سے غریب، پسماندہ، غم زدہ اور پریشان حال بھائیوں کو تکلیف محرومی اور دکھ کا احساس ہو۔ ہمیں برائیوں اور منکرات سے بچنا بھی بہت ضروری ہے۔

 

اپنی خوشی میں دوسروں کو شریک کریں

آپ اندازہ فرمائیں کہ جب خاص عید کے دن یہ بے چارے غریب بچے آپ کے بچوں کو ہنسی خوشی کھیلتے کودتے، اچھے کپڑے پہنے ہوئے دیکھتے ہونگے تو کیا ان کو اپنی غربت کا احساس نہیں ہوتا ہوگا؟ جن بچوں کے پاس عیدی کے نام پر ایک پیسہ بھی نہ ہو، اچھے کپڑے نہ ہوں اور خواہشات کی تکمیل کے ذرائع نہ ہوں تو ظاہر ہے کہ ان کے دل کو ٹھیس ضرور پہنچے گی۔ اس لیے ہماری آپ کی سب کی ذمے داری ہے کہ ہم اپنے ساتھ دوسروں کو بھی اپنی خوشی میں شریک کریں، نادار بچوں میں عیدی تقسیم کریں، ان کے گھروں پر سوئیاں اور مٹھائیاں بھجوائیں، ان کو مبارک باد پیش کریں، ان سے نرمی کا برتاؤ کریں اور ان سے مساوات کا رویہ اپنائیں، تاکہ ان کو بھی سماج میں اپنے وقار اور عظمت کا احساس ہو اور وہ اچھے شہری ثابت ہوسکیں اور وہ بھی عید الفطر کی خوشی میں شامل ہو جائیں۔

 

اگر آپ اپنے معاشرے کی فلاح چاہتے ہیں، اس کو ترقی سے ہم کنار دیکھنا چاہتے ہیں تو اس عید الفطر کے دن سے زیادہ کوئی اچھا موقع فراہم نہیں ہوسکتا۔ دل سے سارے رنج و غم مٹا ڈالیے، محبتیں تقسیم کرنا شروع کر دیجے، آج ہی سے اس کار خیر کی شروعات خود سے کیجئے۔ دوسروں کے انتظار میں مت رہیئے۔ اتحاد و اتفاق کا ثبوت دیجئے اور اخوت اور بھائی چارگی کا مظاہر ہ کیجئے۔ ان شاء ﷲ سماج میں انقلاب برپا ہو جائے گا۔ عیدالفطر میں انفرادی و شخصی نہیں بلکہ اجتماعی خوشیاں منایئے۔ دراصل یہی عید الفطر کا حقیقی پیغام اور یہی اس کا تقاضہ ہے۔

ای میل کریں