امام خمینی(رح)

امام حسین علیہ السلام کی چار سالہ بیٹی حضرت رقیہ تھیں یا سکینہ

حضرت رقیہ امام حسین علیہ السلام کی بیٹی تھیں امام حسین علیہ السلام کی بیٹیوں کے ناموں میں اختلاف ہے جیسا کہ ہمیں منابع سے ملتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی چار بیٹیاں تھیں جن کے نام فاطمہ کبری،فاطمہ صغری،سکینہ اور جناب رقیہ ہیں منابع میں

امام حسین علیہ السلام کی چار سالہ بیٹی رقیہ یا سکینہ تھیں

حضرت رقیہ امام حسین علیہ السلام کی بیٹی تھیں امام حسین علیہ السلام کی بیٹیوں کے ناموں میں اختلاف ہے جیسا کہ ہمیں منابع سے ملتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی چار بیٹیاں تھیں جن کے نام فاطمہ کبری،فاطمہ صغری،سکینہ اور جناب رقیہ ہیں منابع میں امام حسین علیہ السلام کی چار سالہ بیٹی کا ذکر ہوا ہے مقتل کی مختلف کتابوں نے کربلا کے قیدیوں میں امام حسین علیہ السلام کی چار سالہ بیٹی کا ذکر ہوا ہے لیکن ان کے نام میں اختلاف ہے کیا وہ رقیہ تھیں یا فاطمہ صغریٰ سید بن طاووس اپنی کتاب لہوف میں لکھتے ہیں کہ شب عاشورہ جب امام حسین علیہ السلام دنیا سے جدائی کے اشعار پڑھے تو جناب زینب سلام اللہ علیھا سن کر رونے لگیں تھیں امام علیہ السلام نے انھیں صبر کی دعوت تاکید کرتے ہوئے جناب زینب سلام اللہ علیھا اور جناب رقیہ سے فرمایا تھا کہ میری شہادت کے بعد تم لوگ میری شہادت کے بعد صبر کرنا اور سر و صورت نہ پیٹنا شہادت کے بعد دشمن نے اہل بیت کو قید کر لیا تھا کہ جن میں ایک بچی کا بھی ذکر ہے جس کا نام رقیہ تھا جناب رقیہ کو اپنے بابا کی شہادت کے بعد قیدی بنا کر شام لے جایا گیا تھا۔

امام خمینی پورٹل نے امام حسین علیہ السلام کی چھوٹی بچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا حضرت رقیہ امام حسین علیہ السلام کی بیٹی تھیں امام حسین علیہ السلام کی بیٹیوں کے ناموں میں اختلاف ہے جیسا کہ ہمیں منابع سے ملتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی چار بیٹیاں تھیں جن کے نام فاطمہ کبری،فاطمہ صغری،سکینہ اور جناب رقیہ ہیں منابع میں امام حسین علیہ السلام کی چار سالہ بیٹی کا ذکر ہوا ہے مقتل کی مختلف کتابوں نے کربلا کے قیدیوں میں امام حسین علیہ السلام کی چار سالہ بیٹی کا ذکر ہوا ہے لیکن ان کے نام میں اختلاف ہے کیا وہ رقیہ تھیں یا فاطمہ صغریٰ سید بن طاووس اپنی کتاب لہوف میں لکھتے ہیں کہ شب عاشورہ جب امام حسین علیہ السلام دنیا سے جدائی کے اشعار پڑھے تو جناب زینب سلام اللہ علیھا سن کر رونے لگیں تھیں امام علیہ السلام نے انھیں صبر کی دعوت تاکید کرتے ہوئے جناب زینب سلام اللہ علیھا اور جناب رقیہ سے فرمایا تھا کہ میری شہادت کے بعد تم لوگ میری شہادت کے بعد صبر کرنا اور سر و صورت نہ پیٹنا شہادت کے بعد دشمن نے اہل بیت کو قید کر لیا تھا کہ جن میں ایک بچی کا بھی ذکر ہے جس کا نام رقیہ تھا جناب رقیہ کو اپنے بابا کی شہادت کے بعد قیدی بنا کر شام لے جایا گیا تھا۔

مقتل میں نقل ہوا ہے کہ شام کے قید خانے سے بھی ایک بچی کے رونے کی آواز آرہی تھی جتنے بھی افراد قیدی بنائے گئے تھے وہ سب جانتے تھے کہ یہ آواز امام حسین علیہ السلام بیٹی حضرت رقیہ سلام اللہ علیھا کی ہے وہ نیند سے اٹھی ہیں اور اپنے بابا کے لئے رو رہی ہیں شاید انہوں نے بابا کو خواب میں دیکھا ایسے موقع پر یزید نے حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کو جناب رقیہ کو دیکھا یا جائے حضرت رقیہ کی قبر مبارک بھی شام میں جناب زینب سلام اللہ علیھا کی قبر مبارک کے نزدیک ہے۔

ای میل کریں