مرجعیت کا نظریہ؛ عراق کی خود مختاری کے لئے بر وقت انتخابات کے علاوہ کوئی راہ حل نہیں

مرجعیت کا نظریہ؛ عراق کی خود مختاری کے لئے بر وقت انتخابات کے علاوہ کوئی راہ حل نہیں

اسپین میں مسجد کی دیوار پر اسلام مخالف اشتہارات لگائے گئے

مرجعیت کا نظریہ؛ عراق کی خود مختاری کے لئے بر وقت انتخابات کے علاوہ کوئی راہ حل نہیں

 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،امام جمعہ اور عراقی سپریم اسلامی اسمبلی کے ایوان صدر کے رکن حجۃ الاسلام والمسلمین سید صدرالدین قبانچی نےعراقی سپریم اسلامی اسمبلی کے عہدیداروں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ مرجعیتِ دینی کا نظریہ ہے کہ عراق کی خودمختاری کے لئے بروقت انتخابات کے علاوہ اور کوئی راہ حل نہیں ہے۔

انہوں نے انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں ماہرین کی طرف سے ظاہر کردہ خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ حشد الشعبی کا قیام اندرونی اور بیرونی پیغامات پر مشتمل تھا اور یہ ایک اچھا پیغام تھا۔

امام جمعہ نجف اشرف نے بیان کیا کہ حشدالشعبی جدید اسلحوں سے لیس ایک طاقتور قوت بن چکی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مرجعیت دینی کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلاء کا معاملہ قانونی ذرائع کے مطابق ہونا چاہئے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین قبانچی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں کہاکہ عالمی سطح پر ہمارے دشمنوں کی جانب سے میڈیا عراق میں ہمارے تین محوروں پر مشتمل کامیاب تجربے کی مخالفت کر رہا ہے اور وہ،دین کی عدم پذیری،شیعوں کی شکست اور عراقی عوام کی نا اہلی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی تقاریر اور خطبات میں دین کی طاقت،شیعوں کی طاقت اور عراقی عوام کی صلاحیت پر زور دینا چاہئے۔شیعوں کے پاس اقوام عالم کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ آگہی اور بصیرت ہے اور اس حقیقت کے باوجود کہ ہم ایک مشکل صورتحال میں ہیں،عراق عالمی تحریک اور تبدیلی کا مرکز بنے گا۔

اس ملاقات میں،مختلف سیاسی،انتخابی اور خدمت کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

اسپین میں مسجد کی دیوار پر اسلام مخالف اشتہارات لگائے گئے

 

حوزہ نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی سرویس کے مطابق، بدھ کے روز  اسپین کے شہر مرسیا میں اسلامو فوبیا اقدامات میں سے ایک قدم اس وقت منظر عام پر آیا جب نمازی اور کابیجو ڈی ٹورس مسجد کے منتظمین نے مسجد کی داخلی دیوار پر نعروں اور لیبلوں سے اسلام کی توہین کرنے والے اشتہارات، نیز چھری سے کٹے ہوئے ایک سور کے سر کی ایک پینٹنگ بھی ملی۔

اس اسلامو فوبیا حرکت نے شہر کے مسلمانوں اور مومنین کو مشتعل کردیا اور اسلامی کمیونٹی آف مرسیا اور مراکش کی مہاجر کارکنوں کی انجمن نے بھی اس کی شدید مذمت کی۔

تارکین وطن کارکنان کی مراکش ایسوسی ایشن کے چیئرمین صباح یعقوبی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلام مخالف فعل مرسیا کے مسلمانوں کے لئے ناقابل قبول اور ناقابل معافی توہین ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ اس خطے کے نوجوان اور نوعمر اس اسلام مخالف اقدام سے متاثر ہوں گے اور مذہب اور اس کی حرمت سے منہ موڑ لیں گے۔

واضح رہے کہ پولیس نے در حال حاضر اس فعل کے مرتکب افراد کی تلاش کے لئے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

ای میل کریں