آقا احمد کی زبانی

آقا احمد کی زبانی

جب ہوائی جہاز زمین پر اتر گیا تو شہید مطہری اور آیت اللہ پسندیدہ جہاز پر گئے اور آیت اللہ پسندیدہ برسوں دوری کے بعد ملے

آقا احمد کی زبانی


جب ہوائی جہاز زمین پر اتر گیا تو شہید مطہری اور آیت اللہ پسندیدہ جہاز پر گئے اور آیت اللہ پسندیدہ برسوں دوری کے بعد ملے تو کچھ دیر بیٹھ کر باتیں کیں۔ جب جانے کا وقت آگیا تو امام خمینی (رح) نے کہا: آیت اللہ پسندیدہ پہلے آگے آگے چلیں اور میں ان کے پیچھے چلوں گا۔ میں نے کہا: لوگ 15/ سال سے اس دن کا انتظار کر رہے تھے۔ ملکی اور غیر ملکی نامہ نگار اور فلم بنانے والے باہر آپ کی آمد کا انتظار کررہے هیں تاکہ اس تاریخی گھڑی کی تصویر لیں۔ میں جتنا اصرار کیا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا آخر کا میرے ذہن میں ایک بات آئی اور اپنے چچا سے کہی کہ آپ پیرس سے امام کے ساتھ آنے والے تمام ساتھیوں کے ساتھ ہوائی جہاز سے اتریں اور استقبال ہاں میں موجود لوگوں سے ملحق ہوجائیں تو ایسا ہی ہوا۔ آخر کار امام کسی صورت ایک بھی اسلامی ادب کو نظر انداز کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے کہ اپنے بڑے بھائی سے آگے چلیں اگرچہ اس نازک موقع پر ہزاروں نگاہیں آپ کی دیدار کی منتظر تھیں۔

ای میل کریں