دیوان حضرت امام خمینی (رح)

قصہ مستی

دیوان حضرت امام خمینی (رح)

قصہ مستی

دیوان حضرت امام خمینی (رح)

 

کعبہ مقصود، کعبہ یا صنم خانہ نہیں

میرا منزل آشنا صوفی بیگانہ نہیں

گفتہ ہائے فیلسوف و صوفی و درویش وشیخ

در خور وصف رخ دلدار فرزانہ نہیں

راز دل کس سے کہوں  اور کس سے پوچھوں  وصف یار

جو سنا ہے وہ کلام رند دیوانہ نہیں

ہوشمندوں  سے کہو، بس بند کرلیں  اپنے لب

جو بھی وہ کہتے ہیں ، یہ گفتار مستانہ نہیں

ہاتھ سے ساغر ترے پاں  تو جاؤں  سوئے دوست

بے نصیبہ ہے جسے حاصل یہ پیمانہ نہیں

عاشقوں  سے پوچھ درد عشق اور سوز فراق

شمع رخ پر جو نہ جل جائے وہ پروانہ نہیں

حلقہ گیسو ؤ عشوہ ، ناز ہو یا خال لب

مست ہی جائیں  کہ یہ جز دام جز دانہ نہیں

قصہ مستی و رمز بیخودی عاشقاں

ہے یہ اک زندہ حقیقت،کوئی افسانہ نہیں

ای میل کریں