دیوان امام خمینی (رح)

مستی عاشق

دیوان امام خمینی (رح)

مستی عاشق

دیوان امام خمینی (رح)

 

تیرا درد عشق جس دل میں  نہیں  وہ دل نہیں

مستی عاشق ترے ساغر کی ممنون کرم

لے کے آیا تیرا عشق رخ مجھے اس دست میں

اپنی ہستی سے گزر، گر عاشق صادق ہے تو

خرقہ و سجادہ کیا، گر تو ہے رہرو عشق کا

دل ہے سینہ میں ، تو پھر صوفی کو اور زاہد کو چھوڑ

طرہ گیسو سے انگشت شہادت مس کروں

میرے ساتھ آ، چھوڑ یہ خرقہ کہ ہے یہ پر فریب

علم و عرفاں  کو مے و میخانہ سے نسبت ہے کیا

منزل دل تک رسائی رہ باطل نہیں

ای میل کریں