امام خمینی(رح)

اسلام پر امام حسن عسکری علیہ السلام کا احسان

امام عسکری علیہ السلام قید خانے ہی میں تھے کہ سامرا میں جو تین سال سے قحط پڑا ہوا تھا اس نے شدت اختیار کر لی اور لوگوں کا حال یہ ہو گیا تھا کہ مرنے کے قریب پہنچ گئے۔

 اسلام پر امام حسن عسکری علیہ السلام کا احسان

امام عسکری علیہ السلام قید خانے ہی میں تھے کہ سامرا میں جو تین سال سے قحط پڑا ہوا تھا اس نے شدت اختیار کر لی اور لوگوں کا حال یہ ہو گیا تھا کہ مرنے کے قریب پہنچ گئے۔ بھوک اور پیاس کی شدت نے زندگی سے عاجز کر دیا۔ یہ حال دیکھ کر خلیفہ معتمد عباسی نے لوگوں کو حکم دیا کہ تین دن تک باہر نکل کر نماز استسقاء پڑھیں چنانچہ سب نے ایسا ہی کیا ، مگر پانی نہ برسا چوتھے روز بغداد کے نصاری کی جماعت صحرا میں آئی اور ان میں سے ایک راہب نے آسمان کی طرف اپنا ہاتھ بلند کیا، اس کا ہاتھ بلند ہونا تھا کہ بادل چھا گئے اور پانی برسنا شروع ہو گیا۔

اسی طرح اس راہب نے دوسرے دن بھی عمل کیا اور بدستور اس دن بھی باران رحمت کا نزول ہوا۔یہ دیکھ کر سب کو نہایت تعجب ہوا حتی کہ بعض جاہلوں کے دلوں میں شک پیدا ہو گیا، بلکہ ان میں سے تو بعض اسی وقت مرتد ہو گئے، یہ واقعہ خلیفہ پر بہت شاق گزرا۔

اس نے امام حسن عسکری کو طلب کر کے کہا کہ اے ابو محمد اپنے جدّ کے کلمہ گو مسلمانوں کی خبر لو، اور ان کو ہلاکت یعنی گمراہی سے بچاؤ، حضرت امام حسن عسکری نے فرمایا کہ اچھا راہبوں کو حکم دیا جائے کہ کل پھر وہ میدان میں آ کر دعائے باران کریں  انشاء اللہ تعالی میں لوگوں کے شکوک زائل  کر دوں گا، پھر جب دوسرے دن وہ لوگ میدان میں طلب باران کے لیے جمع ہوئے تو اس راہب نے معمول کے مطابق آسمان کی طرف ہاتھ بلند کیا ناگہاں آسمان پر ابر نمودار ہوئے اور بارش برسنے لگی۔

 یہ دیکھ کر امام حسن عسکری نے ایک شخص سے کہا کہ راہب کا ہاتھ پکڑ کر جو چیز راہب کے ہاتھ میں ملے اسے اس سے لے لواس شخص نے راہب کے ہاتھ میں ایک ہڈی دبی ہوئی پائی اور اس سے لے کر حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر دی، انہوں نے راہب سے فرمایا کہ اب تم اپنا ہاتھ اٹھا کر بارش کی دعا کر۔ اس نے ہاتھ اٹھایا تو بجائے بارش ہونے کے مطلع صاف ہو گیا اور دھوپ نکل آئی، لوگ کمال تعجب سے حیران رہ گئے۔

خلیفہ معتمد نے حضرت امام حسن عسکری سے پوچھا، کہ اے ابو محمد یہ کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ ایک نبی کی ہڈی ہے جس کی وجہ سے راہب اپنے مدعا میں کامیاب ہوتا رہا کیونکہ نبی کی ہڈی کا یہ اثر ہے کہ جب وہ زیر آسمان کھولی جائے گی تو باران رحمت کا ضرور نزول ہوتا ہے۔ یہ سن کر لوگوں نے اس ہڈی کا امتحان کیا تو اس کی وہی تاثیر دیکھی جو حضرت امام حسن عسکری نے بیان کی تھی۔

 اس واقعہ سے لوگوں کے دلوں کے وہ شکوک زائل ہو گئے جو پہلے پیدا ہو گئے تھے، پھر امام حسن عسکری علیہ السلام اس ہڈی کو لے کر اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے اور پھر آپ نے اس ہڈی کو کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا۔

شیخ شہاب الدین قلبونی نے کتاب غرائب و عجائب میں اس واقعہ کو صوفیوں کی کرامات کے سلسلہ میں لکھا ہے۔ بعض کتابوں میں ہے کہ ہڈی کی گرفت کے بعد آپ نے نماز ادا کی اور دعا فرمائی خداوند عالم نے اتنی بارش نازل کی کہ جل تھل ہو گیا اور قحط مکمل طور پر جاتا رہا۔

یہ بھی مرقوم ہے کہ امام علیہ السلام نے قید سے نکلتے وقت اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ فرمایا تھا، جو منظور ہو گیا تھا، اور وہ لوگ بھی راہب کی ہوا اکھاڑنے کے لیے ہمراہ تھے۔ایک روایت میں ہے کہ جب آپ نے دعائے باران کی اور ابرآیا تو آپ نے فرمایا کہ فلاں ملک کے لیے ہے اور وہ وہیں چلا گیا اسی طرح کئی بار ہوا پھر وہاں برسا۔

ای میل کریں