کسی کی تکفیر کے قائل ہیں نہ ہی کسی کو کافر قرار دینا درست سمجھتے ہیں، علامہ ساجد نقوی

کسی کی تکفیر کے قائل ہیں نہ ہی کسی کو کافر قرار دینا درست سمجھتے ہیں، علامہ ساجد نقوی

کانفرنس سے خطاب میں قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ آج کے مشاورتی اجلاس میں جو طے ہوا ہے، اس پر پورے ملک میں عمل درآمد کرایا جائے

کسی کی تکفیر کے قائل ہیں نہ ہی کسی کو کافر قرار دینا درست سمجھتے ہیں، علامہ ساجد نقوی

 

اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد میں امام بارگاہ جامع الصادق میں عظیم الشان قومی علماء و ذاکرین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں استادالعلماء، مفسر قرآن علامہ شیخ محسن نجفی، قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی، قائد وحدت علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، جامعۃ المنتظر کے سربراہ علامہ حافظ ریاض حسین نجفی، علامہ شیخ حسن جعفری، امت واحدہ کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی، مخزن العلوم جعفریہ ملتان کے سربراہ علامہ سید تقی شاہ سمیت شیعہ تنظیموں آئی ایس او، جے ایس او، اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان، اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، آئی او کے مرکزی رہنماوں، بزرگ علماء کرام و ذاکرین اور ملت تشیع کے اکابرین نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ پاکستان میں فرقہ واریت کو منظم انداز میں پھیلانے کی سازش کی جا رہی ہے، جسے مل کر ناکام بنائیں گے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ تہذیب و شائستگی، قانون پسندی، ذمہ دارانہ طرز عمل اور حب الوطنی ملت جعفریہ کا طرہ امتیاز ہے۔ ملت جعفریہ نے ہزاروں قمیتی جانوں کی قربانی دے کر قومی سلامتی اور بین المسالک ہم آہنگی کو استوار رکھا اور داخلی وحدت پر آنچ نہیں آنے دی، جن عناصر نے وطن عزیز کو عدم استحکام کا شکار کیا، وہی شرپسند عناصر فرقہ واریت پھیلا کر دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دے رہے ہیں، ان تکفیری عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے۔

 

کانفرنس سے خطاب میں قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ آج کے مشاورتی اجلاس میں جو طے ہوا ہے، اس پر پورے ملک میں عمل درآمد کرایا جائے، ہم بانی اتحاد امت ہیں، ایم ایم اے اور ملی یکجہتی کونسل کے بانی ہم ہیں، حکومت کو نوٹ کرانا چاہتے ہیں کہ جو کچھ اب ہو رہا ہے، ماضی میں ایسا نہیں ہوا، ہم شہری حقوق پر آنچ نہیں آنے دیں گے، مسلم و غیر مسلم سب کو ان کے حقوق ملنے چاہیئں، احتجاج سب کا حق ہے، مگر تشدد اور تکفیر کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے، ملت تشیع حالیہ ہونے والے اجماعات سے کئی گناہ بڑا اجتماع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مگر ہم ملک کو کسی نئے بحران سے دوچار نہیں کرنا چاہتے، ہم بانی پاکستان ہیں، تشیع ایک ضابطہ کا نام ہے، ایک تہذیب کا نام ہے، حکمت، تدبر اور دانائی کیساتھ آگے بڑھیں، جو اصحاب کی بات کر رہے ہیں، پہلے وہ توہین، رسالت اور توہین اہل بیت کی بات کریں، باقی باتیں بعد میں آتی ہیں۔ علامہ ساجد نقوی نے واضح کیا کہ ہم تکفیری نہیں ہیں، ہم کسی کو  کافر بھی نہیں قرار دیتے، کافر قرار دینا تشیع کے ہاں درست نہیں ہے، ہم گالم گلوچ والے بھی نہیں ہیں، ہم توہین کرنے والے بھی نہیں ہیں، ہمارے مراجع کا واضح موقف ہے کہ "تمام مسالک کے مقدسات کی توہین حرام ہے"، تاہم تاریخی حقائق کو مناسب اور سلجھے ہوئے انداز میں بیان کرنا یہ ہمارا حق ہے، خلیفہ بلا فصل کہنا یہ ہمارا حق ہے۔

ای میل کریں