عید قربان تاریخی آئینہ میں اور اس کا فلسفہ

عید قربان تاریخی آئینہ میں اور اس کا فلسفہ

ماہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ نہایت ہی با برکت تاریخ ہے جس کی اہمیت قرآنی آیات اور ائمہ اطہارؑ کی جانب سے منقولہ روایات میں بیان کی گئی ہے اور اس کے بارے میں بہت تاکید بھی کی گئی ہے۔ مذکورہ دن کو "عید قربان" یا "عید اضحی" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کی بڑی عیدوں میں سے ایک عید ہے۔

عید قربان تاریخی آئینہ میں اور اس کا فلسفہ

ماہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ نہایت ہی با برکت تاریخ ہے جس کی اہمیت قرآنی آیات اور ائمہ اطہارؑ کی جانب سے منقولہ روایات میں بیان کی گئی ہے اور اس کے بارے میں بہت تاکید بھی کی گئی ہے۔ مذکورہ دن کو "عید قربان" یا "عید اضحی" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کی بڑی عیدوں میں سے ایک عید ہے۔ "اضحی" عربی زبان میں "ضحی" کی جمع ہے اور اس کے معنی دن کے چڑ جانے اور سورج کے نور کی چمک اور اس کی تپش کے ہیں  ظہر سے پہلے جب سورج کی روشنی ہر جگہ چھا جاتی ہے اسے " ضحی" کہا جاتا ہے  اور اسی وجہ سے جب سورج نکلنے کے بعد اس کی تپش ہر جگہ محسوس ہونے لگتی ہے تو تمام حاجی اس وقت قربانی کرتے ہیں لہذا اسی وجہ سے ماہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عید اضحی کہا جاتا ہے کہ جس دن ظہر سے پہلے قربانی کی جاتی ہے۔ قربانی صرف ان حاجیوں پر واجب ہوتی ہے جو حج کے لئے سرزمین منیٰ میں تشریف لے جاتے ہیں اور ان لوگوں پر واجب نہیں جو ایام حج میں اپنے ممالک میں رہتے ہیں۔ حقیقت میں عید قربان کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان اپنی تمام خواہشات نفسانی کو بارگاہ الہی میں قربانگاہ میں لے جائے اور اپنے معبود کے سامنے انہیں قربان کر دے، کیونکہ دین اسلام کے مطابق سب سے زیادہ گمراہ وہ ہے جو خدائی ہدایت کو چھوڑ کر اپنے نفس کی پیروی کرے ایسے شخص پر خدا کی ہدایت کا راستہ بھی بند ہو جاتا ہے۔ نو ذی الحجہ کو ہم امام حسینؑ سے منسوب دعائے عرفہ میں خدا کی معرفت کے قریب ہوتے ہیں اور اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں تا کہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو ہم اپنے نفس اور دنیوی آرزوؤں کی قربانی پیش کریں اور اس کے نتیجہ میں ہم خداوندمتعال کی قربت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

عید قربان کی تاریخ

اگر قربانی کی تاریخ کو تاریخی اوراق میں تلاش کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے جسے حضرت آدمؑ کے زمانے میں پایا جا سکتا ہے۔ حضرت آدمؑ کے بیٹوں کی مشہور قربانی جسے انسانیت کی تاریخ میں سب سے پہلی قربانی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۲۷ سے لے کر ۳۰ تک اسے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدمؑ کے دونوں بیٹے جناب ہابیل اور قابیل بھیڑ، بکریوں اور کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے اور کافی تعداد میں ان کے ہاں بھیڑ، بکریاں موجود تھیں، حضرت آدمؑ نے انہیں خدا کی راہ میں قربانی کا حکم دیا، تاریخ میں ملتا ہے کہ جناب ہابیل نے اپنے بہترین اونٹ یا بھیڑ، بکری میں سے کسی ایک کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے انتخاب کیا اور قابیل نے بھی کچھ مقدار پرانی گندم کو قربانی کے لئے انتخاب کیا اور دونوں کی قربانیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ جناب ہابیل کی قربانی بارگاہ خداوندی میں قبول ہو گئی اور قابیل کی قربانی کو خلوص نہ پائے جانے کہ وجہ سے رد کر دیا گیا لہذا قابیل نے اپنی قربانی قبول نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بھائی سے حسد کرنا شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں شیطانی وسوسہ نے اسے اپنے بھائی کو قتل کرنے پر تیار کر دیا لہذا اس نے جناب ہابیل کو قتل کر ڈالا۔ قرآن مجید میں اس تاریخی واقعہ کو یوں بیان کیا گیا ہے: اذ قربا قربانا فتقبّل من احدهما و لم یتقبل من الاخر (مائده/۲۷) یعنی جب انہوں (جناب آدمؑ کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل) نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک (یعنی ہابیل) کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے (قابیل) کی قربانی ردّ کر دی گئی۔

حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے بعد قربانگاہ تشکیل دی اور بہت سے حیوانوں کو وہاں قربان کیا۔ حضرت ابراہیم خلیلؑ کا اپنے بیٹے اسماعیل کی قربانی پیش کرنا جسے سورۂ صافات کی آیت نمبر ۱۰۲ سے لے کر ۱۰۷ تک بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ، اپنے بیٹے اسماعیلؑ کو لے کر قربان گاہ میں پہنچے اور اپنے لخت جگر کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کا مصمم ارادہ کیا اور قربانی کرتے وقت جناب اسماعیلؑ کی پیشانی کو زمین پر رکھا اور تیز چاقو کے ذریعے ان کا گلا  کاٹنے کے لئے ان کی گردن پر چھری پھیری لیکن چھری نے گردن کو نہیں کاٹا۔ جب خدا نے باپ اور بیٹے کے اخلاص کو دیکھا تو ان کی قربانی کو قبول کیا اور جبرائیلؑ کے ساتھ ایک دنبہ کو اسماعیلؑ کے بدلے قربانی کیلئے بھیجا۔ یوں حضرت ابراہیمؑ نے اس حیوان کی قربانی خدا کی راہ میں پیش کی۔ اس واقعہ سے قربانی کی سنت مرسوم ہوئی اور آج قربانی کرنا حج کے واجب ارکان میں سے ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اپنی بساط و طاقت کے مطابق اس سنت پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہوئے قربانی پیش کرتے ہیں۔

حضرت موسیؑ کے زمانہ میں یہودیوں کے عقیدہ کے مطابق دو قسم کی قربانیاں پائی جاتی تھیں ایک خونی اور دوسری غیر خونی۔ خونی قربانی کی بھی تین قسمیں تھیں: ایک وہ قربانی جسے آگ کی نظر کر دیا جاتا تھا اور اس کی چمڑی کے علاوہ کچھ باقی نہیں چھوڑتے تھے، دوسری وہ قربانی جسے وہ گناہوں کی تلافی کے لئے پیش کرتے تھے اور اس کے ایک حصہ کو جلا دیتے اور ایک حصہ کو پادریوں کے لئے باقی رکھتے۔ تیسری وہ قربانی جسے وہ اپنی تندرستی کے لئے پیش کرتے تھے اور اس کا گوشت کھانے میں وہ صاحبِ اختیار تھے۔ غیر خونی قربانی کا مطلب یہ تھا کہ وہ لوگ حیوانوں کو جنگل میں چھوڑ دیتے تھے۔ عربوں نے بھی بنی اسرائیل کی تقلید کی اور اس طرح کی قربانی کے ذریعہ وہ بتوں کا تقرب حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن اسلام نے اس طرح کی ناپسندیدہ رسوم کو حرام قرار دیا اور یہ وہی قربانی ہے جسے سورۂ مائدہ میں بحیرہ اور سالبہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

عیسائی دین میں بھی عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ صرف جناب عیسیؑ نے قربانی پیش کی اور ان کا کہنا ہے کہ حضرت عیسیؑ نے خود کو سولی پر چڑھایا اور انہوں نے پوری انسانیت کی خاطر خود کو فدا کر دیا۔ اسی وجہ سے عیسائیوں کے دین کے فروعات میں سے ایک یہ ہے کہ مہینہ یا سال میں ایک مرتبہ پادری کے پاس جائیں اور اپنی بساط کے مطابق اس کی خدمت میں کچھ رقم پیش کریں اور اس دوران انہوں نے جو گناہ انجام دئے ہیں ان کا بھی اقرار کریں تا کہ وہ پادری ان گناہوں کو بخش دے کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق اس کے اندر غفاریت کا ایک پہلو پایا جاتا ہے۔

عربوں میں بھی یہ رواج پایا جاتا تھا کہ جاہلیت کے دور میں جب قبائل کے روساء مکہ آتے تھے تو اہل مکہ ان کی میزبانی کرتے تھے اور ان کی آمد پر وہ اونٹ، گائے، بھیڑ، بکریوں وغیرہ کی قربانی پیش کرتے تا کہ اس طریقہ سے وہ اپنے بتوں کا تقرب حاصل کریں اور فقراء و مساکین کو کھانا بھی کھلائیں۔

عید قربان کے دن کی اہمیت، آداب اور اعمال کے سلسلہ میں قرآن کریم اور روایاتِ معصومینؑ میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ذیل میں ہم بعض کی جانب اشارہ کر رہے ہیں:

عید قربان، عید سعید فطر کی طرح عظیم الشان عیدوں میں سے ہے روایات میں اسے "یوم النحر" اور "یوم الاضحی" کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور ائمہ اطہارؑ کے نزدیک اس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ وہ اس دن کی نماز کو  واجب نماز قرار دیتے ہیں۔ " صَلاةُ الْعِیْدِینِ فَریضَةٌ " نماز عید فطر اور قربان واجب و فریضہ ہے۔ (استبصار، ج۱، ص۴۴۲) لیکن فقہاء نے امام باقرؑ کی روایت کے مطابق اسے زمانۂ غیبت میں واجب قرار نہیں دیا جس میں امامؑ فرماتے ہیں کہ نماز عید فطر اور قربان دونوں امام کے زمانے میں واجب ہیں۔ " لَا صَلَاةَ یَوْمَ الْفِطْرِ وَ الْأَضْحَی إِلَّا مَعَ إِمَام"۔

خداوندمتعال نے قرآن میں بھی قربانی کو تقوا کے مصادیق میں سے شمار کیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے" لَنْ یَنالَ اللَّهَ لُحُومُها وَ لا دِماؤُها وَ لکِنْ یَنالُهُ التَّقْوى‏ مِنْکُمْ کَذلِکَ سَخَّرَها لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللَّهَ عَلى‏ ما هَداکُمْ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنینَ" (حج/۳۷) خدا تک ان جانوروں کا نہ ہی گوشت جانے والا ہے اور نہ خون۔ اس کی بارگاہ میں صرف تمہارا تقوی جاتا ہے، اور اسی طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارا تابع بنا دیا ہے کہ خدا کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی کا اعلان کرو اور نیک عمل والوں کو بشارت دے دو۔

عید قربان میں پیغمبر اکرمؐ کی سنت

عید قربان اسلام کی عظیم الشان عیدوں میں سے ایک عید ہونے کی وجہ سے کچھ آداب و اعمال پر مشتمل ہے۔ روایت میں ذکر ہوا ہے کہ رسول خداؐ عید فطر اور عید قربان میں موسم کی گرمی اور سردی کے مطابق لباس اور عمامہ پہنتے تھے۔ نیز آپؐ عید کے دن جب نماز کے لئے تشریف لے جاتے تو بلند آواز میں تکبیر سے اپنی بات کا آغاز کرتے۔ اسی طرح امام صادقؑ نے ایک حدیث میں فرمایا: سنت یہ ہے کہ انسان "عید فطر" کے دن نماز عید پڑھنے سے پہلے اور "عید قربان" کے دن نماز عید کی ادائگی کے بعد افطار کرے۔

جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ جو افراد حج کرنے نہیں گئے ان کے لئے قربانی واجب نہیں بلکہ مستحب ہے لیکن پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ اطہارؑ کی جانب سے اس سلسلہ میں بہت تاکید کی گئی ہے، ایک روایت میں ذکر ہوا ہے کہ امّ سلمہ پیغمبر اکرمؐ کے پاس آئیں اور کہا: اے رسول خداؐ عید قربان آ رہی ہے اور میرے پاس قربانی کے لئے رقم موجود نہیں کیا ایسی صورت میں مجھے قرض لے کر قربانی کرنا چاہئے؟ آپؐ نے فرمایا: قرض لو کیونکہ یہ ایسا قرض ہے جو ادا کیا گیا ہے۔

روایات میں ذکر ہوا ہے کہ رسول خداؐ نے دو بکروں کی قربانی پیش کی ان میں ایک کو اپنے ہاتھون ذبح کیا اور اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: اے خدا یہ میری اور میرے اہلبیتؑ میں سے ان افراد کی طرف سے ہے جنہوں نے قربانی نہیں کی اور اس کے بعد آپؐ نے دوسرے کو ذبح کیا اور فرمایا: اے خدا یہ میری اور میری امّت میں سے ان افراد کی طرف سے ہے جنہوں نے قربانی نہیں کی۔

اسی طرح ائمہ اطہارؑ سے منقولہ بہت سی روایات میں اس کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے:

رسول الله صلى الله علیه و آله و سلم: مَن أحیَا اللَّیالِیَ الأَربَعَ وَجَبَت لَهُ الجَنَّةُ: لَیلَةَ التَّروِیَةِ، ولَیلَةَ عَرَفَةَ، ولَیلَةَ النَّحرِ، ولَیلَةَ الفِطرِ" رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جو شخص ان چار راتوں میں (عبادت کی غرض سے) جاگتا رہے اس پر جنت واجب ہے ترویہ کی رات (آٹھویں ذی الحجہ کی رات جس میں حجاج حج تمتع کی نیت کرتے ہوئے احرام باندھتے ہیں اور مکہ سے منیٰ کی جانب روانہ ہوتے ہیں اور اس رات منی میں بسر کرتے ہیں) عرفہ کی رات، عید  فطر اور عید قربان کی رات۔ (حج و عمرہ در قرآن و حدیث/ ص۳۴۳)۔

 الإمام الباقر علیه السلام: لَمّا أقبَلَ رَسولُ اللّه صلى الله علیه و آله  و سلم: مِن مُزدَلِفَةَ مَرَّ عَلى جَمرَةِ العَقَبَةِ یَومَ النَّحرِ، فَرَما‌ها بِسَبعِ حَصَیاتٍ، ثُمَّ أتى إلى مِنى، وذلِکَ مِنَ السُّنَّةِ" امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ رسول خداؐ جب مزدلفہ سے آئے تو عید کے دن آپؐ کا گزر جمرہ عقبہ سے ہوا اور اس پر آپؐ نے سات کنکریاں ماریں اور اس کے بعد آپؐ منیٰ آئے اور یہ آپؐ کی سنت ہے۔ (حج و عمرہ در قرآن و حدیث/ ص۳۵۵)۔

الإمام علیّ علیه السلام: سَمِعتُ رَسولَ اللّه صلى الله علیه و آله یَخطُبُ یَومَ النَّحرِ، وهُوَ یَقولُ: هذا یَومُ الثَّجِّ والعَجِّ، والثَجُّ: ما تُهریقونَ فیهِ مِنَ الدِّماءِ، فَمَن صَدَقَت نِیَّتُهُ کانَت أوَّلُ قَطرَةٍ لَهُ کَفّارَةً لِکُلِّ ذَنبٍ، والعَجُّ: الدُّعاءُ، فَعِجّوا إلَى اللّه ِ.، فَوَالَّذی نَفسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِهِ لا یَنصَرِفُ مِن هذَا المَوضِعِ أحَدٌ إلاّ مَغفورًا لَهُ، إلاّ صاحِبَ کَبیرَةٍ مُصِرًّا عَلَیها لا یُحَدِّثُ نَفسَهُ بِالإِقلاعِ عَنها" امام علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ رسول خداؐ عید قربان کے دن خطبہ پڑھنے کے بعد فرماتے تھے: آج ثجّ و عجّ کا دن ہے یعنی قربانی اور دعا کا دن ہے لہذا جس کی نیت سچی ہو اس کی قربانی کے خون کا پہلا قطرہ اس کے تمام گناہوں کا کفّارہ ہے پس خدا کی بارگاہ میں دعا کرو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمدؐ کی جان ہے یہاں سے کوئی بھی شخص مغفرت کے بغیر نہیں لوٹتا صرف وہ شخص نہیں بخشا جائے گا جو گناہاں کبیرہ انجام دے اور ان پر اصرار بھی کرے اور وہ اپنے دل میں انہیں بار بار انجام دینے کی ٹھان لے۔ (حج و عمرہ در قرآن و حدیث/ص۳۶۱)۔

مُعاوِیَةُ بنُ عَمّار: سَأَلتُ أباعَبدِاللّه علیه السلام عَن یَومِ الحَجِّ الأَکبَرِ، فَقالَ: هُوَ یَومُ النَّحرِ، والحَجُّ الأَصغَرُ العُمرَةُ" معاویہ بن عمار کہتے ہیں میں نے امام صادقؑ سے حج اکبر کے دن کے بارے میں سوال کیا تو آپؑ نے فرمایا: عید قربان کا دن ہے اور حجِ اصغر عمرہ ہے۔ (حج و عمرہ در قرآن و حدیث/ ص۴۵۵)۔

الإمام علیّ (ع) خطب یوم الأضحى، فکبّر و قال ۔۔۔۔.: الله أکبر، الله أکبر، لا إله إلاّ الله و الله أکبر، الله أکبر، و لله الحمد، الله أکبر على ما هدانا، و له الشکر" امام علی علیہ السلام نے عید قربان کے دن خطبہ اور تکبیر کے بعد فرمایا:خدا عظیم الشان ہے خدا عظیم الشان ہے، خدائے یکتا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، خدا بہت بڑا ہے خدا بہت بڑا ہے، لائق شکر وہی خدا ہے، خدا بہت بڑا ہے کہ اس نے ہماری ہدایت کی اور شکر کے لائق بھی وہی ہے نیز لائق تعریف بھی وہی خدا کی ذات ہے جس نے جانوروں کو ہماری روزی قرار دیا۔ (موسوعہ امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام، ج۹، ۳۵۵)۔

عید قربان کے دن مخصوص اعمال

عید قربان کا دن ایک نہایت ہی با برکت و با فضیلت دن ہے جس میں مختلف اعمال نقل ہوئے  ہیں جن میں سے بعض کو ہم یہاں بیان کر رہے ہیں:

غسل کرنا: بہت سی تاریخ و حدیثی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن غسل کرنا سنّت مؤكّدہ ہے یہاں تک کہ بعض علماء اس دن غسل کرنے کو واجب سمجھتے تھے۔

نماز عید ادا کرنا: یہ نماز امام معصومؑ کے زمانے میں واجب ہے لیکن امام زمانہ(عج) کی غيبت کے دور میں مشہور شیعہ فقہاء کے فتوؤں کے مطابق مستحب مؤكّد ہے۔ خواہ اسے جماعت کے ساتھ پڑھا جائے یا فرادی ادا کیا جائے۔ نیز قابل ذکر ہے کہ نماز عید سے پہلے اور بعد میں ماثورہ و منقولہ دعاؤں کا پڑھنا مستحب ہے جن میں سے بہترين دعا صحیفہ سجادیہ کی 48ویں دعا ہے جس کا آغاز ان جملوں سے ہوتا ہے:أللّهُمَّ هذا يَومٌ مُبارَك اے پروردگار یہ دن نہایت ہی با برکت دن ہے۔ 

دعائے ندبہ پڑھنا: دعائے ندبہ اہل تشیع میں مروّجہ ایک مشہور دعا ہے جو امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے جس کے معنی گریہ و بکاء کے ہیں یہ دعا روزِ جمعہ، عید فطر، عید قربان اور عید غدیر کے دن پڑھی جاتی ہے لہذا دوسری عیدوں کی طرح اس دن بھی دعائے ندبہ کا پڑھنا مستحب ہے۔

قربانی كرنا: لغت کے اعتبار سے ہر اس چیز کو قربانی کہا جاسکتا ہے جو خدا کے تقرب کا ذریعہ بنے اور اس کے قریب ہونے کا سبب بنے۔ عید قربان کے دن خداوندمتعال کی خوشنودی اور اس کی قربت کے حصول کے لئے کچھ مخصوص اور جامع الشرائط حیوانوں کو ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے۔ اس دن قربانی کرنا حاجیوں پر واجب ہے لیکن دوسرے مسلمانوں پر اس دن قربانی کرنا مستحبّ مؤكّد ہے یہاں تک کہ بعض فقہاء کے نزدیک صاحب استطاعت افراد پر اس کا انجام دینا واجب ہے۔ اسی طرح نماز کی ادائگی کے بعد اسی قربانی کے گوشت سے کھانا بھی مستحب ہے۔ قربانی کرتے وقت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقولہ اس دعا کا پڑھنا مستحب ہے: وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذی فَطَرَ السَّمواتِ وَ الارْضَ، حَنیفاً مُسْلِماً وَ ما أنَا مِنَ الْمُشْرِكینَ، إنَّ صَلاتی وَ نُسُكی وَ مَحْیای وَ مَماتی لِلّهِ رَبِّ الْعالَمینَ، لا شَریكَ لَهُ، وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَ أَنَا مِنَ الْمُسْلِمینَ. اَللّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، بِسْمِ اللّهِ وَاللّهُ اَكْبَرُ. اَللّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنّی۔

حدیث میں ذکر ہوا ہے کہ امام صادقؑ نے فرمایا: امام سجادؑ اور امام محمد باقرؑ قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے تھے: ایک حصے کو ہمسایوں میں دوسرے حصے کو نیازمندوں میں تقسیم کرتے تھے اور تیسرے حصے کو اہل خانہ کے لئے رکھتے تھے۔

اس دن کی مشہور تکبیریں: موسم حج میں منیٰ میں تشریف لے جانے والے حاجیوں کیلئے مستحب ہے کہ وہ ان تکبیروں کو پڑھیں: یعنی عید کے دن نماز ظہر سے شروع کریں اور تیرہویں دن کی نماز صبح تک پڑھتے رہیں۔ لیکن وہ لوگ جو حج پر نہیں ہیں ان کے لئے بھی تکبیروں کا پڑھنا مستحب ہے یعنی عید کے دن نماز ظہر سے پہلے اس طرح تکبیریں پڑھی جائیں: اَللهُ اَكْبَرُ اَللهُ اَكْبَرُ، لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ وَ اللهُ اَكْبَر اَللهُ اَكْبَرُ، و للهِ الْحَمْدُ اَللهُ اَكْبَرُ عَلی ما هَدانا ااَللهُ اَكْبَرُ عَلی ما رَزَقَنا مِنْ بَهیمَةِ الانعامِ وَ الْحَمْدُ لِلّهِ عَلی ما أبْلانا۔

 امام حسینؑ کی زیارت: زیارت ایک قلبی و روحانی تعلق و رابطہ ہے جو زائر و مزور کے درمیان قائم ہوتا ہے اس رابطہ کی برقراری کے مختلف انداز ہیں کبھی یہ رابطہ مزور کی ضریح، حرم یا آرامگاہ کے قریب حاضر ہو کر برقرار کیا جاتا ہے  اور بعض اوقات زائر دور سے ہی اس رابطہ کو برقرار کر لیتا ہے دونوں صورتوں میں اس  طرح کے عمل کو زیارت کہا جاتا ہے۔ اسلام میں روز عرفہ اور عید قربان کے دن حضرت امام حسینؑ کی زیارت کی بہت تاکید ملتی ہے اور اسے ہزار حج و عمرہ کے برابر نیز عرش پر خداوندمتعال کی زیارت کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ حضرت امام صادق علیہ السلام نے ایک حدیث میں فرمایا ہے: جب عرفہ کا دن ہوتا ہے تو خداوندمتعال امام حسین علیہ السلام کی قبرِ مطہر کے زائرین پر نظر کر کے فرماتا ہے: اب تم اس حالت میں اپنے وطنوں کو لوٹو گے کہ میں نے تمہارے گذشتہ گناہوں کو معاف کر دیا ہے۔ نیز امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ جو شخص ایک سال میں حضرت امام حسینؑ کی زیارت کا شرف پندرہ شعبان، عید فطر اور شبِ عرفہ حاصل کرے تو خداوندمتعال اس زائر کو ایک ہزار حج و ایک ہزار مقبول عمرہ کا ثواب عطا فرماتا ہے نیز اس کی دنیوی اور اخروی ایک ہزار حاجات پوری کر دیتا ہے۔( شیخ صدوق، کامل الزیارات، ص۵۶۵)۔

منبع: مأخوز از سائٹ yjc.ir

         

ای میل کریں