امام (رح) نے دینی جمہوریت کو بیان فرمایا

امام (رح) نے دینی جمہوریت کو بیان فرمایا

قائد اسلامی جمہوریہ: امام خمینی نے سیاسی فقہ کی بنیاد پر نظام حکومت تشکیل دیا۔

قائد اسلامی جمہوریہ: امام خمینی نے سیاسی فقہ کی بنیاد پر نظام حکومت تشکیل دیا۔

شیعت میں سیاسی فقہ کی تاریخ، فقہ کی تدوین کے آغاز سے ہی شروع ہوجاتی ہے؛ حتی اس سے پہلے کہ جب تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں استدلالی فقہ تدوین ہوئی، روایات کے دور میں، سیاسی فقہ، شیعت کے فقہی مجموعے میں واضح طورپر موجود تھی کہ جس کے نمونے آپ روایات میں دیکھتے ہیں، تحف العقول کی وہ روایت کہ جو معاملات کو چار قسموں تقسیم کرتی ہے، اس روایت کا یک حصہ سیاسات ہے، " اما السیاسات " کہ وہاں چند مطالب بیان ہوئے ہیں، یہ روایت اور دوسری متعدد روایات، ان روایات میں معیار بیان ہوئے ہیں، صفوان جمال کی وہ مشہور روایت کہ " کل شیء منک حسن جمیل الا اکرائک الجمال من ھذا الرجل " [وسائل الشیعہ، ج۱۷،ص۱۸۲] تمہارا اس شخص کو اونٹ کرائے پر دینے کے علاوہ تمہارے تمام کام اچھے ہیں۔۔۔ اور اس طرح کی روایات فراوان ہیں۔


بعد میں جب استدلالی فقہ کی تدوین کا مرحلہ آتا ہے، شیخ مفید علیہ الرحمہ اور ان کے بعد، تو انسان دیکھتا ہےکہ سیاسی فقہ وہاں بھی موجود تھی، مختلف ابواب میں، وہ چیزیں کہ جو سیاست کے احکام اور معاشرہ چلانے سے مربوط ہیں، ان ابواب میں موجود ہیں، لہذا شیعہ فقہ کے مجموعے میں سیاسی فقہ کی تاریخ پرانی ہے، لیکن ایک چیز نئی ہے اور وہ اس فقہ کی بنیاد پر نظام کی تشکیل ہے، اس کو امام بزرگوار خمینی علیہ الرحمہ نے انجام دیا، ان حضرت (رح) سے پہلے کسی اور نے فقہی متون سے یوں ایک نظام اخذ نہیں کیا تھا، سب سے پہلے جس نے نظری اور عملی طورپر ایک نظام کو تشکیل دیا وہ امام بزرگوار خمینی(رح) تھے کہ " دینی جمہوریت " [مردم سالاری دینی] کو بیان فرمایا، ولایت فقیہ کا مسئلہ بیان فرمایا، اس بنیاد پر اسلامی نظام برقرار ہوگیا، یہ سب سے پہلا تجربہ تھا، ہماری تاریخ میں پہلے ایسا کوئی تجربہ نہیں ہوا ہے؛ نہ صفویوں کے دور میں ہوا، البتہ صفویوں کے دور میں محقق کرکی (رح) جیسے بزرگوار میدان میں تھے، لیکن وہاں اس طرح کی کوئی چیز یعنی اسلامی نظام، نظر نہیں آتی ہے، یہ اسلامی اور فقہی نظام وہاں نظر نہیں آتا ہے، زیادہ سے زیادہ قضاوت کسی عالم دین کے ذمہ ہوتی وہ بھی محقق کرکی (رح) جیسی اس علمی عظمت کی مالک شخصیت، مثلاْ قاضیوں کی سربراہ بن جائے تاکہ قاضیوں کا تعین کرے، اس سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا، حکومتی نظام اور معاشرے کا سیاسی نظام فقہ کی بنیاد پر قائم نہیں تھا، یہ وہ کام تھا جو ہمارے بزرگوار امام خمینی علیہ الرحمہ نے انجام دیا۔

امام خمینی نے نجف اشرف میں ولایت فقیہ کے مسئلہ کو بیان کیا، بحث و تمحیص کی اور پھر اسے عملی طورپر نافذ کیا اور یوں یہ ایک اسلامی نظام کہلایا۔

...

رہبر معظم انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مجلس خبرگان کے اراکین سے خطاب = ۰۸ ستمبر ۲۰۱۱

ای میل کریں