طلبہ، ملک کا سرمایہ، قوم کی امید

طلبہ، ملک کا سرمایہ، قوم کی امید

امام خمینی نے طلبہ کو قوم کا سب سے عظیم اور قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے ملک کے مستقبل کو انہی سے وابستہ جانا ہے۔

جماران کے مطابق، امام خمینی نے طلبہ کو قوم کا سب سے عظیم اور قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے ملک کے  مستقبل کو انہی سے وابستہ جانا ہے۔

بانی انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی سید روح اللہ خمینی نے 13 مئی 1979 کو اپنے خطاب میں معاشرے میں نوجوانوں کے فرائض کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

" طلبہ اور اساتذہ کا مقام بہت عظیم ہے۔ یہ ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ملک اور قوم کا مستقبل انہی سے وابستہ ہے، چاہے ان کا تعلق جس بھی شعبہ تعلیم سے ہو، شعبہ قانون سے ہو یا پھر کسی اور شعبے سے، تعلیم کا ہر شعبہ، کسی نہ کسی طرح اچھے مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے؛ لہذا مستقبل کا دار و مدار جوانوں کے ہاتھوں میں ہے جو انہیں ادارہ کرنا ہے۔

امام نے مزید فرمایا: جس طرح اساتذہ کا کام ان لوگوں کی تربیت کرنا ہے جو مستقبل میں ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والے ہیں، لہذا کسی بھی ملک کی سعادت کا کلیدی کردار اس ملک کے اساتذہ اور طلبہ کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔

پہلے مرحلے میں اساتذہ کا وظیفہ جوانوں کی صحیح تربیت کرنا ہے اور دوسرے مرحلے میں جوانوں کو امور مملکت کی بھاگ دوڑ سنبھالتے ہوئے ﻣﻠﮏ ﮐﻮ اچھی طرح ﭼﻼﻧﺎ ﮨﮯ؛ لہذا دنیا میں ہر ملک کا قومی مستقبل اس ملک کے اساتذہ اور طلبہ سے وابستہ ہے، اس لحاظ سے سعادت کی چابی ملک کے اساتذہ کے ہاتھ میں ہے اور جس قدر اساتذہ کا مقام بلند ہے، اسی انداز میں ان کی ذمہ داریاں بھی عظیم ہیں۔ جس قدر عالم الدین کا مربتہ بلند ہے اس حساب سے اس پر عائد ہونے والے فرائض بھی سنگین ہیں۔ اب اس میں فرق نہیں کہ وہ یونیورسٹی اور دانشگاہ سے وابستہ ہو یا پھر قدیم علوم (حوزہ ہائے علمیہ) میں مہارت رکھتا ہو۔

صحیفه امام، ج7، ص254

روح اللہ خمینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اساتذہ کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں، اس کی وجہ یہ کہ طلبہ و طالبات، اساتذہ کے ہاتھوں میں عظیم امانت ہیں۔ اگر اساتذہ کے ہاتھوں، جوانوں اور نوجوانوں کی صحیح تربیت ہوجائے تو ملک کا مستقبل بہتر ہونے کے ساتھ سعادت سے ہمکنار ہوگا، لیکن اگر اساتذہ ہی کج روی اور انحراف کا شکار ہوں جس کے نتیجے میں جوانوں کی صحیح تربیت نہ ہو سکے تو ملک میں فساد اور بگاڑ کے علاوہ  کچھ نہ ہوگا؛ لہذا طالب علم ہونے کی بنا پر جتنا آپ طلباء کا مقام بلند ہے اور پھر انشاء اللہ عنقریب آپ کو اساتذہ کے فرائض بھی انجام دینا ہے اور جس قدر آپ کا پیشہ عظیم ہے، اسی تناسب سے آپ پر عائد ذمہ داریاں بھی عظیم ہیں"۔

 

ماخذ: جماران خبررساں ویب سائٹ

ای میل کریں