امام خمینی، فقہاء کے تجربہ کا وارث

امام خمینی، فقہاء کے تجربہ کا وارث

فقاہت کی بارہ صدیوں پر محیط تاریخ میں امام خمینی نے فقہاء کے تجربہ کی وراثت کا ثبوت دیتے ہوئے، ولایت فقیہ کے نظریے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیابی حاصل کی۔

فقاہت کی بارہ صدیوں پر محیط تاریخ میں امام خمینی نے فقہاء کے تجربہ کی وراثت کا ثبوت دیتے ہوئے، ولایت فقیہ کے نظریے کو عملی جامہ  پہنانے میں کامیابی حاصل کی۔

مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، حوزہ علمیہ کے علمی انجمنوں کے مسئول، حجت ‌الاسلام محسن مهاجرنیا نے اس نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ پوری تاریخ میں شیعہ علماء نے مثالی حکومت کے قیام کےلئے بہت ہی محنت کی ہے، کہا: امام زمانہ کی غیبت کے بعد تقریبا ایک صدی تک علمائے کرام حیرت میں سرگرداں تھے اور انہیں سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرنا ہے؟ اسی لئے وہ صرف اہل بیت علیہم السلام کے میراث کی حفاظت اور احادیث معصومین علیہم السلام کی جمع  آوری میں مشغول تھے۔ حیرت کے اس دور میں ایسے محدیثین، منظر عام پر آئے جنہوں نے روایات کے نظم و نسق میں شیعہ سیاسی نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا: غیبت کے پہلے دور میں شیعہ تشخص، خطرے میں پڑگیا تھا اور ظالم حکمرانوں کے ساتھ ہر طرح کا تعاون شرعی لحاظ سے ممنوع تھا اور شیعوں پر دباؤ اپنے عروج پر پہنچا ہوا تھا اور انہیں ہر اعتبار سے ہراساں کیا جا رہا تھا، ایسے میں علماء کرام کو صورتحال سے نمٹنے کےلئے چارہ جوئی کرنے کی ضرورت تھی، اسی لئے پہلی مرتبہ شیخ مفید نے اپنی کتاب "المقنعه" میں جابر حکمرانوں کے ساتھ تعاون کی حرمت کے خلاف فتوی دیتے ہوئے فرمایا:" فقہاء میں سے جو بھی سیاسی نظام کا حصہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، تمام شیعوں پر اس کی حمایت واجب ہے اور ان کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے"۔

حقیقت میں شیخ مفید، ولایت فقیہ اور جابر حکمرانوں کے امتزاج اور انضمام پر مبنی فتوے سے مکتب تشیع کی حفاظت کرنا چاہتے تھے اور ان کا یہ فتوی، چھے سو سال تک شیعہ سیاسی رویے کی بنیاد اور اساس ٹھہرا۔

مہاجرنیا نے بارہ صدیوں پر محیط تاریخ میں حکومت کے ساتھ تعامل میں امام خمینی کو شیعہ علماء کا عملی تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا: 1963 میں امام خمینی نے حکومت وقت کے خلاف آواز بلند کی تاہم خدا کا ارادہ یہ تھا کہ امام مزید 15 برس، مولا امیر المومنین علیه السلام کے جوار میں رہتے ہوئے ولایت فقیہ کے نظام کو ترتیب دےکر اس کے ڈھانچے کو وہی تیار کرے۔

Image result for ‫قیام 15 خرداد‬‎

حجت الاسلام نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: 1978 میں امام خمینی نے قیام کےلئے وقت کو مناسب سمجھتے ہوئے حالات کا صحیح جائزہ لینے کے بعد، پانچ نکاتی اصولوں پر مشتمل ایجنڈے کا اعلان کیا:

« آج، تقیہ کرنا حرام ہے اور ہر فرد کو میدان عمل وارد ہونا چاہئے »؛

« شاہی نظام بغیر کسی استثناء کے شروع سے ہی باطل، کرپٹ اور خونخوار رہا ہے »؛

« شاہی نظام کے ساتھ ہر طرح کا تعاون حرام ہے اور شاہ کو ہر حال میں جانا چاہئے »؛

« عصر غیبت میں جائز حکومت، صرف ولایت فقیه پر مشتمل نظام ہے »؛

« شاہی نظام کے خلاف قیام کرتے ہوئے آزادی اور استقلال سمیت اسلامی ریاست کے قیام کی حمایت کرنا ہر فرد پر واجب ہے »۔

اس پانچ نکاتی ایجنڈے سے واضح ہوتا ہےکہ طاقت کا توازن، اہل بیت علیہم السلام اور تشیع کے حق میں ہے۔ امام خمینی نے ولایت فقیہ اور امام زمانہ (عج) سے فقہاء کی نیابت عامہ کو ان کی اصلی جگہ قرار دیا ہے اور آج ولایت فقیہ پر مشتمل یہ عظیم میراث ہمارے اختیار میں ہے جس کی حفاظت کرتے ہوئے ہر قسم کی آفات سے اسے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔

خدایا خدایا تا انقلاب مہدی (عج) از نہضت خمینی محافظت بفرما، آمین رب العالمین

 

ماخذ: مہر نیوز ایجنسی

ای میل کریں