جاپان میں "امام اور انتظار" کے عنوان پر کانفرس

جاپان میں "امام اور انتظار" کے عنوان پر کانفرس

امام خمینی(رح) نے عدالت کےلئے قیام کیا اور یہ نکتہ اصول شیعہ اور مکتب تشیع کا نمایاں و آشکارا مینار شمار بھی ہوتا ہے۔

جاپان میں ایرانی سفیر کا کہنا تھا: امام خمینی(رح) نے عدالت کےلئے قیام کیا اور یہ نکتہ اصول شیعہ اور مکتب تشیع کا نمایاں و آشکارا مینار شمار بھی ہوتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، جاپان میں ایران کے سفیر نے کانفرنس کی ابتدا میں حاضرین سے خطاب کیا اور ۴ جون اور ۱۵ شعبان المعظم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار کیا: امام خمینی رحمت اللہ علیہ خود " انتظار" کے منادی و داعی تھے۔ آپ نے جس تحریک و قیام کی بنیاد رکھا، دورے صفویہ سے انقلاب اسلامی کے دور تک کے علمائے اعلام کی سیرت اور راہ کا تسلسل تھا۔

انھوں آگے چل کر اپنی تقریر میں امام خمینی(رح) کی نگاہ سے " انتظار" کے مفہوم و معنی کا جائزہ لیا اور امام کی تحریک اور قیام کے اصلی مینار کی توصیف کرتے ہوئے کہا: امام خمینی(رح) نے عدالت کےلئے قیام کیا اور یہ نکتہ اصول شیعہ اور مکتب تشیع کا نمایاں و آشکارا مینار شمار بھی ہوتا ہے۔

تقریب کے دوسرے مقرر جاپانی اسلام شناس، کیوتو شہر کی "دوشیشای" یونیورسٹی کے ممتاز استاد اور " امام خمینی" نامی کتاب کے مولف نیز امام کی "جہاد اکبر اور ولایت فقیہ" کتاب کے مترجم جناب " کن جی ٹومیٹا " تھے۔

انھوں نے اپنی تقریر میں کہا: میں بودایی باپ اور مسیحی ماں سے جاپان میں پیدا ہوا اور پہلی بار انقلاب کی کامیابی سے قبل ایران سفر کیا اور اس وقت سے، ایران میرا دوسرا وطن شمار ہوتا ہے۔ اس سال ہم نے " یاماکاوا " کمپنی کی مدد سے حضرت امام خمینی(رح) کا زندگی نامہ نشر کیا۔ کمپنی نے " دنیا کی سو عظیم اور بڑی شخصیات " کے عنوان پر ایک پروجیکٹ کا آغاز کرچکا تھا۔ کتاب کی آخری شخصیت کے ذیل میں حضرت امام خمینی(رح) کی شخصیت کا تعارف کیا گیا ہے جس کی تالیف کا فخر بندہ کو حاصل ہوا۔

پروگرام کا ایک اور مقرر جاپان میں ایران کی ثقافتی رایزنی کے سربراہ  جناب " ہوشنگ علی مددی " تھے۔ انھوں نے کہا: انبیائے آسمانی(ع) اور معصومین(ع) کے بعد، تاریخ بشریت میں امام خمینی(رح) بے مثال اور ممتازترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ امام نے اپنے بلند و بالا اور الٰہی نظریات و افکار اور صادقانہ کوششوں کی مدد سے، تاریخ کی راہ و سمت کو بدل دیا اور آج آپ، ایران اور پوری دنیا میں عظیم و بڑی تبدیلیوں کے بانی اور سرچشمہ کے طور پر پہنچانے جاتے ہیں۔

اس تقریب میں جناب حجت الاسلام ٹا ٹسوئیچی (ابراھیم)، جاپانی زبان میں قرآن کریم کے مترجم، تھے۔ آپ نے کہا: حضرت امام خمینی علیہ الرحمہ کے ارتحال سے دس دن قبل، پہلی بار، ایران کا سفر کیا۔ اس مدت میں اپنے ایرانی دوستوں کے چہرے پر، امام خمینی (رح) کی شفا و سلامتی کےلئے غم و اندوہ اور ہمدردی کے مناظر دیکھتا رہا۔

اگرچہ مجھے فارسی نہیں آتی تھی اور یہ مناظر میرے لئے نئے تھے لیکن بعد میں متوجہ ہوا کہ یہ راز و نیاز اور آنسو، رہبر کبیر انقلاب اسلامی کی شفا کی خاطر ہیں۔ میں نے پہلی بار، ایران کی شیعہ قوم کے آنسو اس وقت دیکھا کہ جب پوری ملت ایران اور شاید دنیا کے تمام آزادی خواہ، غیرتمند لوگ اور خاص کر شیعیان اس غم و مصیبت میں جلتے تھے اور آنسو بہاتے تھے۔

 

ماخذ: mehrnews.com

ای میل کریں