اخلاقی روش

واقع بینی اور اغراق گریزی

کچھ افراد بعض اعمال کے ثواب وعقاب میں اس قدر مبالغہ کرتے اور ایسے تعجب خیز خواص بتاتے ہیں کہ جن سے قبول نہ کرنے اور کبھی تجری کے اسباب فراہم ہوجاتے ہیں

امام خمینی(ره) کے اخلاقی مکتب کی ایک دوسری خصوصیت یہ ہے کہ آپ کی نظر ہمیشہ واقعیت پر ہوتی تھی آپ اغراق آمیز مطالب سے پرہیزکرتے تھے امام خمینی(ره) جس سننے یاپڑھنے والے کے سامنے آتے آپ اس کی صلاحیت وظرفیت کو مدنظر رکھتے تھے اپنی اخلاقی وتربیتی تعلیمات میں  بڑی دقت اور واقعیت کے ساتھ عمل کرتے تھے تمام باتوں  کو مخاطب کی فہم وادراک کے مطابق بیا ن کرتے تھے جس گروہ اور جن مخاطب افراد کو نصیحت کرتے اپنے کو ا ن سے بلند مرتبہ نہیں  سمجھتے تھے آپ یہ کوشش کرتے تھے کہ معنوی بلند افکار کو ہر اندیشمند سے زبردستی نہ منوائیں  اور اہم مطالب کو بیا ن کرکے کمزور افکار کے لوگوں  کو خستہ نہ کریں  اور دوسری طرف یہ خصوصیت بھی تھی کہ بلند افکار کے مالک افراد جو حقائق کو  درک کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ا ن کیلئے مطالب کی تکرار نہیں  کرتے تھے ا ن کیلئے کمزور اور کم فائدہ مطالب کو بیا ن نہیں  کرتے تھے۔

آپ معنوی واخلاقی بحثوں  کو مخاطب کی مناسبت سے اس ا نداز سے بیا ن فرماتے تھے کہ سارے مطالب آب شیریں  کی طرح اس کے تشنہ گلے کے ا ندر اتر جاتے تھے۔ حضرت زین العابدین  (ع) فرماتے تھے: ’’حدّثوا الناس بما یعرفون ولا تحملوہم مالا یطیقون فتغرونہم بنا‘‘لوگ، جن باتوں  کو سمجھ سکتے ہیں  ان سے وہی باتیں  کرو اور جن باتوں  کا تحمل نہیں  رکھتے ا نہیں  زبردستی نہ منواؤ اس صورت میں  ا نہیں  ہمارے ذریعے فریفتہ بنالوگے۔( الحیاۃ، ج۱، ص۱۴۶)

افسوس کا مقام ہے کہ اس وقت جو آفت تمام اخلاقی وعرفا نی آثار کے دامنگیرہے وہ یہی واقعیات کی طرف بے توجہی ہے خصوصاً آج کل جب ’’عرفا ن کی طرف رجحا ن‘‘ اور ’’کرامت سازی‘‘ کا بازار سرگرم ہے اور ہر انسان ظرفیت ومعنویت کے نام پر بہت کچھ کررہاہے۔ علی(ع) فرماتے ہیں :

          ’’لا تحدّث بما تخاف تکذیبہ‘‘ ایسی باتیں  نہ کرو جن کے بارے میں  تمہیں  یہ خوف ہو کہ(غرابت کی وجہ سے)لوگ جھٹلا دیں گے۔( شرح غرر الحکم، ج۶، ص۲۶۴)

کچھ وہ افراد جو اخلاق ونصیحت کی باتیں  کرتے ہیں  وہ بعض اعمال کے ثواب وعقاب میں  اس قدر مبالغہ کرتے اور ایسے ایسے تعجب خیز خواص بتاتے ہیں  کہ جن سے قبول نہ کرنے، مایوس ہوجا نے اور کبھی کبھی تجری کے اسباب فراہم ہوجاتے ہیں البتہ بہت سے ایسے مطالب ہیں  جو پہلی نظر میں  دشوار لگتے ہیں لیکن ممکن ہے کہ وہی اپنے اہل کی نظر میں  ایک صحیح اور اطمینان بخش توجیہ کرتے ہوں  البتہ پھر بھی ایسا نہ ہو کہ آپ جو کچھ پاجائیں  اسے بیا ن کردیں  اور آپ کو جس چیز کا علم ہوجائے اسے ذکر کردیں ۔

امام خمینی(ره) کے اہم اخلاقی مواعظ و نصائح کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ کے یہاں  واقعیت سنجی اور مخاطب شناسی تھی خصوصاً عمومی محافل ومجالس میں  آپ اجتماع، ثقافت و سیاست جیسے تمام شرائط پر توجہ رکھتے تھے جن مطالب میں  تاویل وتوجیہ کی ضرورت ہوتی تھی وہ تعجب آور اور مبہم ہوتے تھے انہیں  بیان ہی نہیں  کرتے تھے، آپ مطالب کو ایک ساتھ مخلوط نہیں  کرتے تھے سارے حقائق کو ایک طرح سے بیا ن نہیں  کرتے تھے کیونکہ ہر لکھی ہوئی یا بیا ن کی جا نے والی بات کے کچھ خاص مخاطب ہوتے ہیں  جیسا کہ جہاد اکبر، ریا، عجب اور عام باتیں  ہر قسم کے تمام طبقات کے سارے لوگوں  کیلئے مفید ہیں  اور آداب الصلوۃ، شرح جنود عقل وجہل اور اربعین جیسی کتابیں  ان درمیا نی افراد کیلئے مفید ہیں  جو اخلاق و عرفان کے سلسلے میں  مطالعہ کرتے ہیں۔  اسی طرح شرح دعائے سحر، مصباح الہدایہ، معراج السالکین جیسی کتابیں  صرف ا ن لوگوں  کیلئے قابل استفادہ ہیں  جو عرفا ن اور سیر وسلوک سے آشنائی رکھتے ہیں ۔

ای میل کریں