امام خمینی[رح] کا جھوٹی خبروں پر رد عمل

امام خمینی[رح] کا جھوٹی خبروں پر رد عمل

اے اللہ، ہمیں بیہودہ اور جھوٹی باتوں کے زبان پر لانے سے محفوظ فرما۔

امام خمینی کے وصیت نامے کے آخری حصے میں اس ضمن میں کچھ نکات پائے جاتے ہیں جن میں بعض موارد کی جانب اشارہ کیا جاتا ہے:

۱۔ میری موجودگی میں کچھ  ایسی باتوں کو جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، مجھ سے منسوب کیا جاتا ہے اور ممکن ہے میرے بعد اس میں شدت آ جائے، لہذا جو باتیں مجھ سے منسوب کی گئی ہے یا کی جائےگی جب تک اس میں میری آواز یا تحریر و دستخط نہ پائی جاتی ہو کہ جس کی ماہرین فن نے توثیق بھی کی ہو، درست اور سچی نہیں ہے۔

2۔ میری حیات میں ہی بعض افراد، اس بات کے دعویدار ہوگئے ہیں کہ میرے پیغامات کو تحریری شکل دینے والے وہی تھے، جس کی میں سختی سے تردید کرتا ہوں۔ میرے علاوہ کسی بھی فرد نے اب تک میرے پیغامات کو تحریر نہیں کیا ہے۔

3۔ مذکورہ قرارداد کو سامنے رکھتے ہوئے بعض افراد نے میرے پیرس جانے سے متعلق اس بات کا ادعا کیا ہے کہ یہ سفر ان کے توسط سے انجام پایا تھا جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔ کیونکہ کویت سے بےدخل کئے جانے کے بعد احمد کے مشورے سے میں نے پیرس کا انتخاب کیا تھا۔ اس کی بینادی وجہ یہ تھی کہ مسلم ممالک میں میرے داخلے پر پابندی کا احتمال پایا جاتا تھا۔

4۔  میں نے انقلابی تحریک کے دوران کچھ لوگوں کی ظاہری اسلام داری سے متاثر ہوکر بعض موقعوں پر ان کی تعریف کی ہے جس کا بعد میں مجھے علم ہوا کہ انہوں نے دھوکہ دہی سے کام لیا تھا۔ لہذا ان کی تعریف کا دائرہ اسلامی نظام سے وفادار رہنے سے مشروط ہے اور ایسے مسائل سے کسی کو غلط فہمی نہیں ہونا چاہئے اور اس ضمن میں افراد کا سابقہ کردار معیار نہیں بلکہ موجودہ کردار معیار ہے۔ (سیاسی الہی وصیت نامه، صحیفه امام، ج21، ص451)

 ۔۔۔

مذکورہ نکات سے یہ بات واضح ہوتی ہےکہ امام خمینی اس بات سے پوری طرح آگاہ تھےکہ بعض ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو کسی حقیقت کو واقعیت کے برخلاف بیان کرتے ہوئے بعض باتوں کو ان سے منسوب کرنے کی کوشش کریں گے لیکن امام کی یہ سیرت نہ تھی کہ ایسے افراد کو جو خدمت کا جذبہ رکھتے تھے مگر صداقت اور سچائی سے ان کا رابطہ نہیں، بر سر عام نام لےکر رسوا کریں بلکہ اس حوالے سے امام کی سیرت دو طریقے پائے جاتے تھے: پہلا طریقہ یہ تھا کہ آپ اخلاقی نصیحتوں کے ذریعے حقیقت کے خلاف بولنے والوں کو متنبہ کیا کرتے تھے اور دوسرا طریقہ یہ تھا کہ واقعیتوں پر نظر رکھنے کےلئے آپ صرف ایک یا دو چینلوں سے شائع ہونے والی خبروں پر احصار نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ آپ نے اس ضمن میں غیر ملکی میڈیا سے شائع ہونے والی خبروں اور تبصروں کی سماعت کےلئے بھی ایک مقررہ وقت معین کر رکھا تھا تاکہ ان کی جھوٹی اور سچی خبروں کے مجموعے سے ملک اور بیرون ملک رونما ہونے والے حالات سے آگاہ ہونے کے ساتھ  مختلف موضوعات پر اغیار کے موقف سے بھی آگاہی حاصل ہوسکے۔

اس حوالے سے امام خمینی سچ پر مبنی غیر تحقیقی باتوں پر بھی کڑی نظر رکھتے تھے مثال کے طور پر کسی مصنف نے اپنی کتاب میں امام خمینی کی والدہ سے متعلق بعض کمالات کا تذکرہ کیا تھا لیکن امام خمینی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے حوالہ کا مطالبہ کیا جبکہ ایک دوسرے اسکالر کی تحقیق کے مطابق یہ ساری باتیں سچ تھیں، کیونکہ امام خمینی کی والدہ نے اپنے پدر بزرگوار جو کہ مجتھد تھے اور شہید مصطفی خمینی کی زوجہ سے کسب فیض کرتے ہوئے حوزوی دروس سے آشنائی حاصل کی تھی اور ان کی رفتار شاعرانہ اور عارفانہ تھی اور امام خمینی اس بات سے آگاہ تھے تاہم مصنف کی جانب سے بغیر تحقیق کے بعض کمالات کو امام کی مادر گرامی سے منسوب کئے جانے پر امام کی جانب سے اعتراض کا سامنا کرنا پڑا۔

امام خمینی، تحریک کے آغاز میں بعض اس بات کی جانب متوجہ تھے کہ بعض افراد صداقت کو چھوڑ کر افراط سے کام لے رہے ہیں تو آپ نے مورخہ  12 اردیبهشت 1342 [2 مئی 1963] کو مسجد اعظم  میں بڑے عوامی اجتماع کے سامنے اپنے درس کا آغاز، منفرد انداز میں کیا تاکہ انقلاب کےلئے جد و جہد کرنے والوں کو معلوم ہو کہ کسی بھی طرح صداقت کی زبان کو مصلحت اندیشی پر قربان نہیں کرنا چاہئے۔

آپ نے درس کا آغاز اس طرح فرمایا:

بسم اللَّه الرحمن الرحیم

اے اللہ، ہمیں بیہودہ اور جھوٹی باتوں کے زبان پر لانے سے محفوظ فرما۔

پالنے والے، ہمارے دلوں کو اسلام اور روحانیت کے نور سے منور فرما ۔ ۔ ۔

(صحیفه امام، ج1، ص206)

 

http://www.imam-khomeini.ir/fa

ای میل کریں