انتخابات

انتخابات میں عوام کی آزادی

عوام کے ہر فرد کی دنیوی و اخروی زندگی کی سرنوشت انتخابات سے مربوط ہے

جیسا کہ میں نے بارہا عرض کیا اور سب نے بھی کہا ہے کہ انتخابات کسی کے قبضے میں نہیں۔ نہ علماء کے قبضے میں اور نہ پارٹیوں کے قبضے میں، نہ گروہوں کے قبضے میں۔ انتخابات کے مالک عوام ہیں۔ عوام کی تقدیر خود ان کے ہاتھ میں ہے۔ انتخابات آپ عوام کی تقدیر وسرنوشت تعین کرنے کیلئے ہیں۔ جیسا کہ میں نے سنا ہے کہ بعض لوگ یونیورسٹی گئے ہیں اور انہوں نے وہاں پر کہا ہے کہ انتخابات میں دخالت سیاست میں دخالت ہے اور یہ مجتہدین کا حق ہے۔ آج تک تو کہا جا رہا تھا کہ مجتہدین کو سیاست میں دخالت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ حق مجتہدین کے منافی ہے۔ اس میں شکست کھائی ہے، اب آکر الٹ بات کہنے لگے ہیں۔ یہ بھی اسی پرانی سازش کا حصہ ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ انتخابات سیاسی امور میں سے ہیں اور سیاسی امور میں دخالت بھی مجتہدین کا حق ہے، دونوں باتیں غلط ہیں۔ انتخابات ایک قوم کی تقدیر کو معین کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ انتخابات سیاسی بھی ہوں اور ہیں بھی تو یہ انتخابات ایک ملت کی سرنوشت کو معین کرتے ہیں یعنی عوام کے ہر فرد کی دنیوی واخروی زندگی کی سرنوشت ان انتخابات سے مربوط ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ انتخابات پر بس چند مجتہدین عمل کریں۔ کیا یہ معقول ہے کہ مثلاً قم میں دو سو مجتہدین ہوں اور سو تک مجتہدین دوسری جگہوں میں اور یہ سب آئیں کسی کو انتخاب کریں اور دوسرے عوام جائیں باڑہ میں؟ یہ ایک سازش ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ سینکڑوں سال سے جو سازش کر رہے تھے کہ علماء اور دین سیاست سے علیحدہ ہوجائیں۔ اس نعرے سے انہوں نے بڑے فائدے اٹھائے اور ہم نے بہت نقصان اٹھایا۔ آج بھی ہم اس کے نقصانات کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ اب انہوں نے دیکھا کہ اس میں ان کو شکست ہوئی ہے تو ایک اور منصوبہ تیار کیا اور وہ یہ کہ انتخابات مجتہدین کا حق ہے۔ انتخابات یا سیاست میں حصہ مجتہدین کا حق ہے۔

    یونیورسٹی والے جان لیں کہ جس طرح ایک مجتہد کو چاہیے کہ اپنی سرنوشت کی تعیین کیلئے وہ خود حصہ لے اسی طرح ایک جوان طالب علم کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی تقدیر کے تعین میں دخالت کرے۔ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ اور اسکول وکالج کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ سب ایک ساتھ ہیں۔ یہ جو بعض نے یونیورسٹی جا کر ایسی بات کہی ہے، یہ ایک سازش ہے۔ آپ جوانوں کو مایوس کرنے کیلئے... ماضی میں یہ شرارت تھی کہ سیاست مذہب سے الگ ہے اور ہم پر بڑی ضرب لگائی اور ہمارا بہت نقصان ہوا، ان کو بڑا فائدہ ملا۔ یہ بات آج ختم ہوچکی ہے۔ لہذا آج یہ کہتے ہیں کہ سیاست مجتہدین کا حق ہے یعنی ایران کے سیاسی امور میں پانچ سو افراد دخالت کریں، باقی سارے جائیں اپنے کام کے پیچھے! یعنی عوام اپنے کام سے کام رکھیں! اجتماعی مسائل سے وہ کوئی سروکار نہ رکھیں! بس چند بوڑھے ملاّ آئیں وہ ان امور میں دخالت کریں! یہ ایران کیلئے ماضی کی سازش سے بھی زیادہ بری سازش ہے۔ اس لیے کہ ماضی کی سازش میں علماء کے گروہ کو گوشہ نشین کردیا جاتا تھا۔ البتہ ان سازشوں کے ذریعہ تمام افراد بے دخل کردئے جاتے تھے۔ اس سازش کے ذریعے وہ پوری قوم کو دیوار سے لگانا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مجتہد حصہ نہ لے اور مجتہد کو خود اسی ملت کے ذریعہ ختم کردیں۔ یونیورسٹی والوں کو متوجہ رہنا چاہیے کہ اگر چنانچہ یونیورسٹی کے اندر کچھ افراد ہیں جو اس قسم کی شرارتیں کر رہے ہیں تو ان سے ہوشیار رہیں اور دھوکہ نہ کھائیں۔ یونیورسٹی والوں کو انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔ انتخابات آپ یونیورسٹی والوں کی تقدیر کا بھی تعین کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے اوپر ملت کے ہر فرد کی تقدیر منحصر ہے۔ ملت کے ہر فرد کا فریضہ ہے کہ اس میں حصہ لے۔ یہ ایک گروہ سے متعلق اور دوسرے گروہ سے جدا نہیں۔ سب کو چاہیے کہ انتخابات میں شرکت کریں۔ یہ جو سازشیں اس وقت کی جاتی ہیں جیسا کہ مجھ سے کہا گیا ہے یہ سب ہمارے جوانوں کو مایوس کرنے کیلئے کی جا رہی ہیں۔ ان سازشوں کو نا کام بنا دیں اور آپ فعال طورپر انتخابات میں شریک ہوجائیں۔

صحیفہ امام، ج ١٨، ص ٣٦٧

ای میل کریں