جماران

امام خمینی (رہ) نے جماران کا انتخاب کیوں کرلیا

جماران، تہران شہر کا ایک پرانا گاوں تھا

امام خمینی (رہ) کے محافظ نے کہا ؛امام خمینی (ره) ایک معمولی اور چھوٹے سے مکان میں رہایش پزیر تھے جس کی دیوار جمارانی صاحب کے گھر کے ساتھ ملی ہوئی تھی ۔

اسلامی انقلاب آرکیو کی رپورٹ کے مطابق: امام خمینی (ره) شروع میں(دربند)میں چار منزلہ عمارت کی ایک منزل میں رہتے تھے  جمارانی صاحب کہتے ہیں کہ میں امامؒ کے بیٹے احمد صاحب کو پہلے سے جانتا تھا اس لیے ان کی خدمت حاضر ہوا اور کہا کہ آپ کی رہایشگاہ جہاں پرہے یہ جگہ ملاقاتوں اور دوسرے امور کے لئے مناسب نہیں ہے کیوں کہ اس میں زیادہ جگہ نہیں ہے ،جماران میں ایک گھر ہے جس میں ایک ہال بھی ہے جو ان امور کے لئے مناسب ہے اگر آپ راضی ہوں تو میں اس گھر کو مکمل طور پر آپ کے اختیار میں دے سکتا ہوں ۔

احمد صاحب تشریف لاے اور گھر کو دیکھ کر پسند کیا، اطراف کے  گھروں میں بھی جمارانی صاحب کے خاندان کے لوگ مکین تھے او اس کے بعد کھیل کا ایک میدان بھی تھا بہرحال جب امام خمینی (ره)کے سامنے جب اس بات کو رکھا گیا تو انھوں نے قبول کر لیا۔

اصل میں جماران، تہران شہر کا ایک پرانا گاوں تھا ، دربند کے علاقہ میں اکثر مہاجر لوگ تھے لیکن جماران میں مقامی لوگ آباد تھے  ۔

یہاں  کے تمام گھر مٹی کے تھے ان میں سے ایک معمولی اور چھوٹا سا  گھر تھا جہاں امام خمینی ؒ آ کر رہنے لگے ، اس کے بغل میں جمارانی صاحب خود رہتے تھے۔

اطراف کے گھروں کو بھی امام ؒ کے خاندان اورمرحوم احمد صاحب کے لئے خرید لیا گیا جن میں سے  ایک گھر کو آپ کے دفتر کے لئے مخصوص کیا گیا۔

یہ پورا علاقہ حٖفاظتی فوج کے کنٹرول میں تھا جبکہ اس علاقہ میں آنے جانے پر پابندی تھی اس علاقہ کے پیچھے پہاڑ پر بھی فوج نے ایک چوکی قائم کررکھی تھی  نیز ایئر فورس نے بھی حفاظتی انتظامات  کے پیش نظر ائیر کرافٹ میزائیل نصب کر رکھے تھے۔

امام خمینی (ره) نے یہاں آنے کے کچھ ہی دنوں بعد جماران اور حصارک کےشہداء کے اہل خانہ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، آپ اپنی زندگی کی آخری سانس تک جماران میں ہی رہے ،صرف ایک بار شہداء کے اہل خانہ سے ملنے کے لیے یہاں سے باہر نکلے ۔

ای میل کریں