الحمدللہ گزشتہ کے بہ نسبت، حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں

الحمدللہ گزشتہ کے بہ نسبت، حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں

جہاں مقدس اسلامی نظام کے حوالے سے تقریبات اور اجلاس بہ پا ہوتے ہیں، ہم سب شانہ بہ شانہ، بھرپور انداز میں حصہ لیتے ہیں۔

سنی آنلائن: بدقسمتی سے کہنا پڑتا ہے کہ تفرقہ مسلمانوں میں کچھ زیادہ ہوا، نظر آتا ہے! کیا یہ ہفتہ وحدت کے نام سے جو کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں، بے ثمر ہے؟

مولانا مطہری: ایسا نہیں کہہ سکتا کہ بے ثمر اور بے نتیجہ ہے۔ ان کانفرنسوں میں ہم سب مل جلکر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور ایک دوسرے کا درد دل سن لیتے ہیں اور امت مسلمہ کی مشکلات کے حوالے سے کچھ نہ کچھ کمی آ جاتی ہے اگرچہ اس سے زیادہ کام ہونا چاہیے نہ صرف اجلاس منعقد ہو اور مقالے پڑھ کر باقی امور طاق نسیان پر رہا رکھے۔ محترم وزرا جیسے اعلی عہدیدار اور ان سے بالاتر، مقام معظم رہبری (حفظہ اللہ تعالی) حکومتی احکام جاری کردیں کہ بعض موجودہ امتیازی سلوک دور کیا جائے، تمام افراد کے حقوق علی السویہ، پاس رکھا جائے اور اس راہ میں زیادہ کوشش ہونی چاہیے۔

سنی آنلائن: گزشتہ صدارتی انتخابات کے بعد صدر کے کہنے کے مطابق، کچھ تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں، جنابعالی شناختہ شدہ اور محترم عالم دین ہونے کے ناطے، کیا صدر جمہور نے اپنے وعدے پورے کیے؟ اور آپ نے عملی طورپر کس حد تک موضوع سے متعلق مطالبہ اور پی گیری کی ہیں؟

مولانا مطہری: اہل سنت اپنے مسائل کے بارے میں غالبـاً پوچتے رہتے ہیں۔ ہر صدارتی امیدوار کچھ وعدے دے جاتے ہیں اور اہل سنت ان کے بھرپور حمایت کرتے ہوئے ان کے حق میں ووٹ دے دیتے ہیں۔ اگرچہ ان کے دیئے ہوئے وعدے تمام کے تمام سرانجام تک نہیں پہنچے ہیں لیکن موجودہ دور میں کچھ تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں۔ مثلاً بعض صوبوں میں، بعض ادارات کے مناصب پر اہل سنت سے بھی کارآمد افراد متعین کیا گیا ہے۔ صوبے سیستان بلوچستان میں اہل سنت سے نو افراد اعلی عہدہ پر فائز ہوئے ہیں۔ اسی طرح صوبے گلستان میں بھی اہل سنت سے چند افراد عالی مقامات پر مقرر کردیئے گئے ہیں۔ صوبے خراسان میں بھی مختصر تبدیلی حاصل ہوئی ہے، لہذا اس طرح کے امور ہم سب کےلئے امید بخش اور بہت اچھی بات ہےـ

الحمدللہ گزشتہ کے بہ نسبت، حالات بہت ہی بہتری کی طرف گامزن ہے۔ ہم بھی اپنے وسع کے مطابق حالات اور امور کا جائزہ لیتے ہوئے، اہم نکات کو اعلی مقامات تک پہنچاتے ہیں اور پی گیری بھی کرتے رہتے ہیں۔

سنی آنلائن: عالی جناب! پر خیر و برکت خطے خراسان میں، شیعہ سنی اتحاد اور ان کے درمیان رابطہ کے بارے میں، بتائیں؟

مولانا مطہری: الحمدللہ خراسان خطے میں خاص کر خراسانی رضوی میں جہاں ہم رہتے ہیں، اتحاد ویکجہتی اعلی درجے پر ہے۔ جہاں مقدس اسلامی نظام کے حوالے سے تقریبات اور اجلاس بہ پا ہوتے ہیں، ہم سب شانہ بہ شانہ، بھرپور انداز میں حصہ لیتے ہیں اور اسلامی نظام سے اپنی عملی وفاداری کا اظہار کرتے ہیں اور یہ ہم سب کے فرض واجب ہے۔

سنی آنلائن: شکریہ مولانا صاحب!

 

ماخذ: سنی آنلائن ویب سائٹ

ای میل کریں