امریکہ آج بھی ایران اسلامی کا سب سے بڑا دشمن ہے

امریکہ آج بھی ایران اسلامی کا سب سے بڑا دشمن ہے

رہبر معظم نے کہا: ایرانی قوم کا "امریکہ مردہ باد" کا مطلب، امریکی قوم مردہ باد، نہيں ہے، بلکہ اس نعرے کا مطلب امریکی پالیسیاں مردہ باد اور سامراج مردہ باد ہے۔

تہران میں اسکولوں اور کالجوں کے طلبا کی بڑی تعداد نے منگل کو رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تہران میں امریکی جاسوسی اڈے (سفارتخانے) پر ایران کے انقلابی طلبا "دانشجویان پیرو خط امام" کے قبضے کی سالگرہ کی مناسبت سے انجام پائی۔

یاد رہے کہ چار نومبر انیس سو اناسی کو انقلابی طلبا نے تہران میں امریکہ کے سفارتخانے پر جو جاسوسی کے مرکز میں تبدیل ہوچکا تھا، قبضہ کر لیا تھا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ آج بھی ایران اسلامی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
رہبر معظم نے کہا کہ ایرانی قوم کا "امریکہ مردہ باد" کا نعرہ بہت ہی مستحکم اور عاقلانہ بنیاد پر استوار ہے اور اس نعرے کا مطلب، امریکی قوم مردہ باد، نہيں ہے، بلکہ اس نعرے کا مطلب امریکی پالیسیاں مردہ باد اور سامراج مردہ باد ہے۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں کہا کہ سامراج کے خلاف جدوجہد ایک معقول اور خردمندانہ تحریک ہے جو ایرانی قوم کے تجربات پر استوار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے کچھ لوگوں کو اس کام پر لگایا ہے کہ وہ یہ ظاہر کریں کہ امریکہ کل تک دشمن تھا لیکن آج دشمن نہیں ہے!! یہ صرف ایرانی قوم کو دھوکہ دینے کیلئے مصروف عمل ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے مصدق کی تحریک کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصدق کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے تیل کی دولت اور صنعت کو قومی تحویل ميں لینے کے بعد امریکہ پر اعتماد کر لیا اور امریکہ نے ان کی خوش فہمی اور سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا کر ان کے خلاف بغاوت کروا دی اور ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں طلبا کو نصیحت کی کہ امریکی جاسوسی اڈے پر قبضے کے واقعے سے سبق حاصل کریں اور جو دستاویزات وہاں سے برآمد ہوئیں، ان کا مطالعہ کریں۔ یہ دستاویزات ثابت کرتی ہیں کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے عروج کے زمانے میں امریکی، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کس طرح کی سازش میں مصروف تھے، امریکہ کی حقیقت یہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی، مذاکرات میں خود کو جنگ کا مخالف ظاہر کرنے کے لئے کیمرے کے سامنے آکر آنسو بہاتے ہیں، یہ وہی ہیں کہ جب صیہونی حکومت نے غزہ میں سینکڑوں بچوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تو ان کی پیشانی پر شکن تک نہیں آرہی!! اس حالت میں کیمرے کے سامنے ان کے رونے پر کیسے یقین کر لیا جائے؟

 

بشکریہ اسلام ٹائمز

ای میل کریں