جنابت

جنابت کے کتنے اسباب ہیں؟

جنابت کے دو سبب ہیں

سوال: جنابت کے کتنے اسباب ہیں؟

جواب: جنابت کے دو سبب ہیں:

  اول :۔ منی کاخارج ہونا اور جو چیز اس کے حکم میں ہے مثلا وہ مشکوک رطوبت جو پیشاب کے استبراء سے پہلے خارج ہوجس کی تفصیل انشاء اللہ بعد میں آئی گی۔ اس مقام پر منی کا با ہر آنا شرط ہے۔ پس اگر منی نے اپنی جگہ سے حر کت کی ہو لیکن باہر نہ آئے تو جنابت کا سبب نہیں ہو گی جیسا کہ شرط ہے کہ منی اس شخص کہ ہو پس اگر مرد اور عورت سے خا رج ہو تو عورت کے لئے جنابت کا موجب نہیں بنے گی مگر یہ کہ وہ جانتی ہو کہ اس مرد کی منی کے ساتھ مخلوط ہو ئی ہے اور جب وہ جا ن لے کہ باہر آنے والی چیز منی ہی ہے تو بلا اشکال یہ جنابت کا سبب ہے اور وہ جانتا ہو تو صحت مند شخص کے لئے اس کی پہچان کا معیار یہ ہے کہ منی اچھل کر اور شہوت کے ساتھ خارج ہو اور بدن کے لئے سستی کا باعث بنے اور ظا ہر یہ ہے کہ بیمار شخص یا عورت کیلئے صرف شہوت کا حا صل ہونا کافی ہے بالخصوص عورت کے لئے غسل کے ساتھ وضو کرنا، جب کہ وہ پہلے طہارت سے نہ ہو ایسی احتیاط ہے جیسے کہ ترک نہیں کرنا چاہئے بلکہ احتیاط یہ ہے کہ تینوں حالتیں جمع نہ ہونے کہ صورت میں اگر پہلے حدث اصغر سرزد ہو اہو تو غسل بھی کرے اور وضو بھی اور اگر پہلے طہا رت کی ہو تو صرف غسل کر لینا ہی کا فی ہے۔

  دوم :۔ جماع  کرنا اگر چہ منی خارج نہ ہو اور جماع سے مراد ختنہ گاہ کا شرمگاہ کا اگلے یا پیچھے حصّے میں غائب ہونا ہے وہ شخص جس کہ ختنہ گاہ کٹ چکی ہو اس کے لئے جماع کا متحقق ہونا اس حد تک کہ دخول صادق آجائے قوت سے خالی نہیں ہے پس ایسی صورت میں دونوں جنب ہو جائیں گے یہاں پر بچے دیوانے اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں ہے لہذا بچے اور دیوانے پر جب ان کے لئے شرائط تکلیف حاصل ہو جائیں تو غسل  کرنا واجب ہے جب کہ ممیز بچے کا غسل صحیح ہے لہذا غسل کرنے سے اس کا حدث جنابت برطرف ہوجائےگا۔

ای میل کریں