رجعت کیا ہے؟ کسے ہوگی؟ اور کب ہوگی؟

مختصر

رجعت شیعوں کے عقائد میں سے ایک عقیده ہے جس کے معنی، مرنے کے بعد اور قیامت سے پہلے دنیا میں واپس پلٹنا ہے، جو امام زمانہ(عج) کے ظہور کے کچھ دیر کے بعد سے آپ علیہ السلام کی شہادت و قیامت سے ﮐﭽﻬ پہلے تک واقع ہوگی؛ رجعت عام نہیں ہے، خالص مؤمنین یا مشرک واقعی کےلئے مخصوص یے۔

قرآن اور روایت سے وضاحت

قرآن مجید کی آیات میں غور کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہےکہ قرآن مجید نے دو طرح سے رجعت کے مسئلہ کی طرف اشاره کیا ہے:

ایک، وه آیات جو آئنده رجعت کے واقع ہونے کی طرف اشاره کرتی ہیں؛ جیسے سوره نمل، آیت/83 ارشاد خداوندی ہے: " اور اس دن ہم ہر امت کے لوگوں میں سے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کیا کرتے تھے، ایک گروه محشور کریں گے یہاں تک که وه ایک دوسرے سے ملحق ہوجائیں "۔

بہت سے بزرگ حضرات اس آیت کو رجعت کے مسئلہ اور قیامت کے نزدیک اچھے اور برے لوگوں کے ایک گروه کے اس دنیا میں واپس آنے کی طرف اشاره سے تعبیر کئے ہیں، اس لئےکہ قیامت میں تو سبھی محشور ہوں گے جیسا که قرآن مجید، سوره کہف، آیت/47 میں ارشاد ہے: " ہم انہیں محشور کریں گے اور کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے"۔

دو، وه آیت جو گذشتہ امتوں میں حوادث کی رونما ہونے کی طرف اشاره کرتی ہیں جو حقیقت میں ایک قسم کی رجعت شمار ہوتی ہے جیسے سوره بقره، آیت/259 میں ایک نبی کے سلسلہ میں ہے جو ایک ایسی آبادی سے گزرے جس کی دیواریں گری ہوئی تھیں اور وہاں کے لوگوں کے جسم اور ہڈیاں بکھری پڑی تھیں، انهوں نے اپنے آپ سے سوال کیا :

" خداوند عالم کس طرح انہیں مرنے کے بعد زنده کرےگا؟ تو خداوند عالم نے ان (نبی) کو ایک سو سال کی موت دے دی اور اس کے بعد زنده کیا اور ان سے پوچھا کتنی دیر پڑے رہے؟ تو انھوں نے کہا ایک دن یا کچھ کم، فرمایا نہیں، سو سال؛

یا سوره بقره، آیت/248 میں ایک اور گروه کے سلسلہ میں گفتگو ہوتی ہے جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے باہر چلے گئے، خداوند عالم نے ان کو موت دے دی اور پھر انہیں زنده بھی کیا۔

قرآن مجید میں ان دو موقع کے علاوه دیگر موارد بھی ہیں جیسے اصحاب کہف کا قصہ جو رجعت کے مشابہ تھا یا جناب ابراہیم کے چار پرندوں کا قصہ جو ذبح کرنے کے بعد دوباره زنده ہوئے تا کہ معاد (قیامت) کے امکان کو انسانوں کےلئے مجسم کیا جا سکے جو رجعت کے سلسلہ میں بھی غور طلب ہے۔

مأمون خلیفہ عباسی نے امام علی رضا علیه السلام سے عرض کیا: یا ابو الحسن، رجعت سے متعلق آپ کا کیا نظریہ ہے؟ آپ (ع) نے فرمایا: رجعت حقیقت رکھتی ہے، گذشتہ امت میں بھی تھی، قرآن میں بھی اس کے متعلق بیان ہے اور رسول خدا صلی الله علیه وآله نے بھی ارشاد فرمایا یے: جو ﮐﭽﻬ گذشتی امت میں تھا وہ عیناً اور مو بہ مو اس امت میں بھی پیش آئےگا۔

البتہ اس سلسلہ میں روایتیں بہت زیاده ہیں لیکن اختصار کے مدنظر اسی روایت پر اکتفا کرتے ہیں۔

رجعت پر عقلی دلیل

۱۔ دنیا استعداد کی تکمیل اور قوتوں کو فعلیت دینے کی جگہ ہے اور آخرت تک پهنچنے کےلئے پیدا کی گئی ہے تا کہ موجودات عالم اپنے اندر پروان چڑھا کر مقصد تک پهنچائے؛ مگر چوںکه ﮐﭽﻬ خالص مؤمن غیر طبیعی موت اور دیگر مشکلات کی وجہ سے اس معنوی راه کو طے نہیں کر سکے ہیں لہذا حکمت خداوند عالم کا تقاضا یہ ہے کہ وه اس دنیا میں واپس آئیں اور اپنے کمال کے راستہ کو پورا کریں۔

۲۔ رجعت کا فلسفہ یہ ہےکہ خداوند عالم "خالص مومن و کافر حقیقی اور ظالم و مظلوم" دونوں کو دنیا میں واپس بھیجےگا تا کہ ہر ایک اپنے حق کو پہچان لے اور حق تک پہنچے۔

لہذا ان دونوں گروہوں کے اس دنیا میں دوباره واپس ہونے کا مقصد، پہلے گروه کےلئے درجہ کمال کی تکمیل اور دوسرے گروه کو ذلت ورسوائی کے پست ترین درجہ تک پهنچنا ہے چوںکہ رجعت عام نہیں ہے اور خالص مؤمن اور کافر محض کےلئے مخصوص ہے؛ لہذا پتہ چلا که یہی دو امر رجعت کا بنیادی فلسفہ اور حکمت ہیں۔

۳۔ دین کی مدد اور عادلانہ عالم گیر حکومت کا قیام

متعدد آیات و روایات سے یہ پتہ چلتا ہےکہ دین اسلام اور عدل الٰهی کی حکومت قائم آل محمد(عج) کے قوی دست مبارک سے عالم گیر سطح پر ہوگی خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے: بےشک ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی اس دنیا کی زندگی میں بھی مدد کریں گے اور جس دن گواه اٹھ کھڑے ہوں گے اس دن بھی مدد کریں گے۔

اس آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہےکہ مدد اجتماعی ہوگی نہ کہ فرداً فرداً؛ چوںکہ یہ نصرت ان تک واقع نہیں ہوئی ہے لہذا مستقبل میں یقیناً ہوگی کیوںکہ الله کے یہاں وعده شکنی نہیں ہے اسی لئے امام جعفر صادق علیه السلام اس آیت کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں: خدا کی قسم یہ نصرت، رجعت میں ہے؛ اس لئے کہ بہت سے انبیاء اور ائمہ علیہم السلام اس دنیا میں شہید کئے گئے لیکن کسی نے ان کی مدد نہ کی اور یہ امر رجعت کے موقع پر انجام پائےگا۔

رجعت کا زمانہ

امام صادق علیه السلام اس سلسلہ میں ارشاد فرماتے ہیں: جب قائم آل محمد (عج) کے قیام کا وقت نزدیک ہوگا تو جمادی الثانی اور رجب المرجب کے مہینے میں ایسی شدید بارش ہوگی کہ لوگوں نے اس سے پہهلے ایسی بارش نہ دیکھی ہوگی پھر خداوند عالم اسی بارش کے ذریعہ مؤمنین کی ہڈیوں اور گوشت کو قبر کے اندر ہی رشد و نمو دےگا؛ گویا کہ میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وه " جہینہ" [مدینہ سے دور ایک جگہ کا نام ہے] کی طرف سے اپنے بالوں کے گرد و غبار کو چھاڑتے ہوئے آ رہے ہیں۔

آخری نکتہ

روایات کے مطابق سب سے پہلے رجعت کرنے والے سید الشہداء امام حسین علیہ السلام ہیں۔ خود آپ (ع) سے اس طرح منقول ہے: میں سب سے پہلا شخص ہوں جو زمین کے شگافتہ ہونے کے بعد باہر آوں گا اور اس کا زمانہ امیر المؤمنین کی رجعت اور قائم آل محمد (عج) کے قیام سے ملا ہوا ہوگا۔

 

ماخذ: [اصلاحات اور تعدیلات کے ساتھ] اسلام کوئست نت

ای میل کریں