امام خمینی(رح) کی جرات؛ امام خمینی(رح) کے کس مسئلہ اور آپ کی تربیتی شخصیت سے مربوط ہے؟

بہادری ایسی اخلاقی صفت ہے جس کی وجہ سے انسان حقیقت کہنے سے نہیں ڈرتا حق بات کو مانتا

ID: 49876 | Date: 2017/10/22

امام خمینی(رح)استاد اول ارسطو اور استاد دوم فارابی اور دوسرے بہت سارے علماوں کی طرح اس بات کے معتقد ہیں ہے کہ چار چیزیں شجاعت، پاکیزگی، سخاوت اور عدالت  اخلاق کی بنیاد ہیں جن پر اخلاق کا ڈھانچہ کھڑا ہے ہر اخلاقی فضیلت ان چار میں سے دو پر مشتمل ہے اُن دو میں سے ایک عدالت ہے مثال کے طور پر اگر بعض لوگوں کے کردار سے خدشات ظاہر ہوں تو یہ بہادری نہیں اسکو کوئی دوسرا نام دیا جاے مگر یہ کہ عدالت کے مطابق ہو مثال کے طور پر کوئی شخص بغیر کسی آمادگی کے بغیراونچائی سے نیچے کود جاے تو یہ بہادری نہیں بلکہ اسکو زور کہا جاے گا۔


یا اگر کوئی شخص ایک مقالہ یا کتاب یا ایک فیلم بنا کر یا کسی ٹیبل ٹاک کے ذریعے دوسروں پر الزم لگائے اور لوگوں کی پسندیدہ شخصیات کی اہانت کرے اُس کے اس کام کو بہادری نہیں بلکہ بزدلی اور شرمناک کام  کہا جاے گا۔


منہ زور ہونا کام کے انجام کے بارے میں نہ سوچنا اور عجیب و غریب فیصلے کرنا بھی منہ زوری ہے اسی طرح اگر کوئی شخص گناہ کرنے میں حیا نہ کرے اسے نہ خدا وند اور نہ اسکے بندوں سے شرم آے ایسے شخص کو بہادر نہیں بلکہ فاسق اور بے شرم کہا جاے گا۔


بہادری ایسی اخلاقی صفت ہے جس کی وجہ سے انسان حقیقت کہنے سے نہیں ڈرتا حق بات کو مانتا ہے اور اگر کہیں غلطی بھی کرے تو اس غلطی کو کہنے کی جرات بھی رکھتا ہے دوسروں کے حقوق کو نظر انداز کرنے والوں کے سامنے دل میں کوئی خوف اور ڈر نہ ہو لوگوں کے مفاد میں سچ کا اظہار کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور کسی خطرے کی وجہ سے اپنے وظائف کو انجام دینے سے نہ روکے۔


یہ واضح ہیکہ بہادر لوگ دشمن کے سامنے بھی ایسے کام انجام دیتے ہیں جو عوامی مفاد میں ہو حتی کہ اگر ان کی زندگی خطرہ میں بھی ہو ایسے بہادر کو قھرمان اور پہلوان کہا جاتا ہے لیکن اگر عوامی مفاد کے بغیر ہو تو اس کو تھور اور زور کہا جاے گا۔


اخلاق کے ہر چار اصولوں کا تعلق جین سے ہے جیسا کہ ظاہری خوبصورتی اور ہوش یہ  خداوند کی عنایت ہے جو کچھ افراد میں کم اور کچھ میں زیادہ ہوتی  جیسا کہ کچھ افراد بہت زیادہ بہادری کے ساتھ اپنی زندگی کو شروع کرتے ہیں بعض افراد ذاتی طور پر شریف اور نجیب ہوتے ہیں اور بعض لوگوں کی میراث میں سخاوت ہوتی ہے جو دوسرے کے لئے قربانی دیتے ہیں بعض لوگ اپنی تربیت اور سماج کے کلچر سے متاثر ہو کر رشد کرتے ہیں۔


لیکن جب بھی کوئی ان صفات کو اپنے اندر پرورش دیتا ہے تانکہ اس کو مزید ترقی مل سکے اور جن کے پاس یہ صفات نہیں ہوتی ہیں وہ کوشش کرتے ہیں تانکہ یہ صفات حاصل کر سکیں تانکہ یہ کہا جاے کہ ان کے اندر بھی اخلاقی صفات پائی جاتی ہیں۔


امام خمینی(رح) کے اخلاق میں بہادری کا کچھ حصہ میراثی تھا کیونکہ آپ کے والد اور آپ کے دادا بہت بہادر تھے اور کچھ  بہادری آپ نے اپنے گھر والوں سے سیکھی تھی کیونکہ ایسے گھر میں پیدا ہوے تھے جس کے زیادہ تر افراد بہادر تھے لیکن آپ کے اندر بعض اخلاقی صفات آپ کی اپنی تہذیب نفس اور تلاش سے حاصل ہوئی تھیں جن کی وجہ سے آپ نے دنیا طلبی کو چھوڑ دیا تھا کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ جتنا انسان کے اندر اچھی صفات آتی جائیں گی دنیا طلبی اتنا ہی کم ہوتی جائے گی اور اسی مقدار میں اخلاقی صفات بھی انسان کے اندر بڑھتی جائیں گی جن میں سے ایک بہادری ہے اس عنوان کے تحت کتاب آداب الصلواۃ صفحہ 49 میں آپ نے م