اسلام؛ سلطنت اور ولی عہدی پر خطِ بطلان

اسلام؛ سلطنت اور ولی عہدی پر خطِ بطلان

سلطنت اور ولی عہدی وہی نظامِ حکومت ہے جس پر اسلام نے خطِ بطلان کھینچ دیا ہے اور جس کا بساط اسلام کے ابتدائی دور ہی میں ایران، مشرقی رومی سلطنت، مصر اور یمن میں لپیٹ دیا گیا

امام خمینیؒ پورٹل: جب ابتدائی دورِ مشروطیت میں قانون بنانے اور آئین مرتب کرنے کا ارادہ کیا گیا تو بلجیئم کا مجموعۂ قوانین، سفارت خانۂ بلجیئم سے مستعار لیا گیا، اور چند افراد نے ــ جن کے نام میں یہاں بیان نہیں کرنا چاہتا ــ اسی کی بنیاد پر آئین تحریر کیا؛ پھر اس میں موجود نقائص کو فرانس اور انگلستان کے قانونی مجموعوں سے، بقولِ خود، ’درست‘ کیا گیا! اور قوم کو دھوکا دینے کے لیے اسلام کے بعض احکام بھی اس کے ساتھ شامل کر دیے گئے! قوانین کی بنیاد انہی مغربی قوانین سے اخذ کی گئی اور انہیں ہماری قوم پر مسلط کر دیا گیا۔

 

یہ آئین اور اس کے متمم کی وہ دفعات جو سلطنت، ولی عہدی اور اس جیسے امور سے متعلق ہیں، اسلام میں کہاں موجود ہیں؟ یہ سب اسلام کے خلاف ہیں؛ یہ اسلام کے طرزِ حکومت اور اس کے احکام کے منافی ہیں۔

 

سلطنت اور ولی عہدی وہی نظامِ حکومت ہے جس پر اسلام نے خطِ بطلان کھینچ دیا ہے اور جس کا بساط اسلام کے ابتدائی دور ہی میں ایران، مشرقی رومی سلطنت، مصر اور یمن میں لپیٹ دیا گیا۔ رسولِ اکرمؐ نے اپنے ان مبارک مکتوبات میں، جو آپؐ نے مشرقی رومی سلطنت کے شہنشاہ ہرقل اور ایران کے بادشاہ کے نام تحریر فرمائے، انہیں دعوت دی کہ شاہنشاہی اور امپراطوری طرزِ حکومت سے دست بردار ہو جائیں؛ اللہ کے بندوں کو اپنی مطلق پرستش اور اطاعت پر مجبور کرنا چھوڑ دیں؛ اور لوگوں کو اجازت دیں کہ وہ واحد و بے شریک خدا کی عبادت کریں، جو حقیقی سلطان ہے۔

 

سلطنت اور ولی عہدی وہی منحوس اور باطل طرزِ حکومت ہے جس کے قیام کو روکنے کے لیے حضرت سیدالشہداء امام حسینؑ نے قیام فرمایا اور شہید ہوئے۔

 

آپؑ نے اس لیے قیام فرمایا کہ یزید کی ولی عہدی کو قبول نہ کریں اور اس کی سلطنت کو تسلیم نہ کریں، اور تمام مسلمانوں کو قیام کی دعوت دی۔

 

یہ چیزیں اسلام کا حصہ نہیں ہیں۔ اسلام میں نہ سلطنت ہے اور نہ ولی عہدی۔ اگر اس معنی میں کوئی کمی قرار دی جائے تو پھر اسلام ناقص ہے! جس طرح اسلام میں سود خوری، سودی بینکاری، شراب فروشی اور فحشا کے لیے بھی کوئی ’قانون‘ اور ’ضابطہ‘ موجود نہیں؛ کیونکہ اسلام نے بنیادی طور پر ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔

 

یہ استعمار کے دست نشاندہ حکمران طبقے، جو اسلامی ممالک میں اس طرح کے امور کو رواج دینا چاہتے ہیں، یقیناً اسلام کو ناقص سمجھتے ہیں؛ اور انہیں مجبوراً ان امور کے لیے قوانین انگلستان، فرانس اور بلجیئم سے، اور حالیہ زمانے میں امریکہ سے درآمد کرنا پڑتا ہے!

 

یہ بات کہ اسلام نے ان ناروا امور کو منظم اور قانونی شکل دینے کے لیے کوئی ضابطہ مقرر نہیں کیا، اسلام کے کمالات میں سے ہے؛ بلکہ اسلام کے افتخارات میں سے ہے۔

 

مشروطیت کے آغاز میں استعماری حکومتِ برطانیہ نے جو سازش کی، اس کے دو مقاصد تھے: ایک مقصد، جو اسی وقت فاش ہو گیا تھا، یہ تھا کہ ایران میں زارِ روس کی حکومت کے اثر و رسوخ کو ختم کیا جائے۔ اور دوسرا مقصد یہی تھا کہ مغربی قوانین کو رائج کرکے اسلام کے احکام کو عملی میدان اور نظامِ اجرا سے خارج کر دیا جائے۔

 

ولایت فقیه، ص۱۳ و ۱۵

ای میل کریں