8/ ستمبر ۱۹۷۸ء کے قتلِ عام کے بعد امام خمینیؒ کا پیغام

8/ ستمبر ۱۹۷۸ء کے قتلِ عام کے بعد امام خمینیؒ کا پیغام

ایران کے عوام نے 8 ستمبر ۱۹۷۸ء کو تہران کے ژالہ میدان میں جمع ہو کر حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا

ایران کے عوام نے 8 ستمبر ۱۹۷۸ء کو تہران کے ژالہ میدان میں جمع ہو کر حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ اس تحریک کو انقلابِ اسلامی کی کامیابی کا اولین اور مؤثر ترین عامل قرار دیا جا سکتا ہے۔

 

8 ستمبر ۱۹۷۸ء کی وہ عظیم جدوجہد، جو غیرت مند ایرانی عوام نے تہران کے ژالہ میدان اور ایران کے مختلف شہروں میں انجام دی، ایک انتہائی عظیم واقعہ تھا جس نے حکومتِ پہلوی کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

 

سینما رِکس آبادان میں آتش سوزی کے واقعے کے ۲۱ روز بعد شریف امامی کی حکومت نے مظاہروں پر پابندی کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں عوام میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا۔ چنانچہ 8 ستمبر ۱۹۷۸ء کو یحییٰ نوری نامی ایک روحانی شخصیت کی قیادت میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور پہلوی حکومت کے خلاف ایک وسیع احتجاجی مظاہرہ کیا۔

 

اگرچہ جمعہ کے روز صبح ۶ بجے سے تہران کے گورنر، ارتشبد غلام علی اویسی، کی جانب سے مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا جا چکا تھا، لیکن عوام نے اس کی کوئی پروا نہیں کی اور تہران کے ژالہ میدان کی طرف روانہ ہوگئے۔ پہلوی حکومت کے سکیورٹی اداروں نے عوام کے درمیان موجود ہونے کے بجائے فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی اور فوجیوں نے احتجاج کرنے والے عوام کا قتلِ عام شروع کر دیا۔ اس کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر سڑکوں پر جھڑپیں شروع ہوگئیں۔

 

8 ستمبر کے مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اعداد و شمار بیان کیے گئے ہیں۔ تہران کی فوجی حکومت کا مؤقف تھا کہ ان مظاہروں میں ۸۷ افراد ہلاک اور ۲۰۵ افراد زخمی ہوئے۔ تاہم حکومت کے مخالفین نے اعلان کیا کہ اس روز ۴۰۰۰ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ فرانسیسی فلسفی میشل فوکو، جو ایک اطالوی اخبار کے لیے انقلاب کے واقعات کی رپورٹنگ کرنے کے مقصد سے جائے حادثہ پر پہنچے تھے، نے دعویٰ کیا کہ اس روز ۴۰۰۰ افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

 

9 ستمبر کو آیت اللہ سید شهاب الدین مرعشی نجفی، آیت اللہ سید محمدرضا گلپایگانی، آیت اللہ سید محمدکاظم شریعتمداری اور امام خمینیؒ نے ژالہ میدان کے خونین قتلِ عام کے ردِعمل میں بیانات جاری کیے اور پہلوی حکومت کے اس مجرمانہ اقدام کی مذمت کی۔ اس کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں عوام اور تاجروں نے ہڑتالیں شروع کردیں۔ تہران کی آئل ریفائنری کے کارکنوں نے بھی اس اقدام کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کردی۔

 

امام خمینیؒ نے 8 ستمبر کے قتلِ عام کے بعد ایران کے مظلوم ہم وطنوں کے نام ایک پیغام ارسال کیا اور حکومتِ پہلوی کے وحشیانہ اقدامات کی مذمت کی۔ آپؒ نے فرمایا:

 

’’آج ایران کا چہرہ خون سے سرخ ہے اور ہر مقام پر بہادری اور نشاط نظر آ رہا ہے۔ ہاں، امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا راستہ بھی ایسا ہی ہے۔ کاش خمینی آپ کے درمیان ہوتا اور آپ کے ساتھ خداوندِ تعالیٰ کی راہ میں دفاع کے محاذ پر شہید ہوجاتا۔

 

علما اور قوم کے دانشوروں کو ظالموں کے بوٹوں تلے کچلا جانا چاہیے تاکہ کسی کو آزادی کا خیال بھی دل میں نہ آئے۔ اے ایران کی محترم قوم! آپ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ خود کو شاہ کی حکومت کے شر سے نجات دلائیں گے۔ آپ نے تیسرے اور چوتھے شوال کو پوری دنیا کے ناظروں کے سامنے منعقد ہونے والے ریفرنڈم میں دنیا پر یہ ثابت کردیا کہ شاہ کی حکومت کے لیے ایران میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘

 

8 ستمبر کے سانحۂ عظیم کے رونما ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ میں ایران کے شاہ کی حمایت میں امریکی صدر جمی کارٹر کے موقف کی خبریں شائع ہوئیں۔ اگرچہ اس سے قبل امریکہ خود کو انسانی حقوق کا حامی ظاہر کرتا رہا تھا، لیکن کارٹر نے محمدرضا شاہ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں اس پُرتشدد اقدام کی تائید کی۔

ای میل کریں