سید حسن خمینی: علمائے اسلام کہاں ہیں، جب دشمن نے رہبر امت کو شہید کر دیا

سید حسن خمینی: علمائے اسلام کہاں ہیں، جب دشمن نے رہبر امت کو شہید کر دیا

سید حسن خمینی نے اسلامی وحدت کانفرنس کے غیر ملکی مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کے اتحاد کو کامیابی کی بنیادی شرط قرار دیا اور کہا کہ مسلمانوں کی تقسیم ہی دشمن کو اسلامی دنیا کے خلاف کارروائی کا موقع فراہم کرتی ہے۔

سید حسن خمینی: علمائے اسلام کہاں ہیں، جب دشمن نے قائدِ امت کو شہید کر دیا

جماران کی رپورٹ کے مطابق،سید حسن خمینی نے اسلامی وحدت کانفرنس کے غیر ملکی مہمانوں سے خطاب کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کے اتحاد کو کامیابی کی بنیادی شرط قرار دیا اور کہا کہ مسلمانوں کی تقسیم ہی دشمن کو اسلامی دنیا کے خلاف کارروائی کا موقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی رژیم غزہ اور لبنان میں مسلمانوں پرمظالم ڈھا رہی ہے، جبکہ بعض مسلم ممالک کے حکمران اب بھی اس رژیم سے تعلقات رکھتے ہیں۔ ان کے بقول، یہ صورتحال امتِ مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

سید حسن خمینی نے امریکی و صہیونی حملے میں شہید ہونے والے قائدِ امت کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ اسلامی دنیا کے علماء کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ قبل رسول اکرم ﷺ کی اولاد میں سے ایک متقی اور استکبار کے خلاف آواز بلند کرنے والی شخصیت کو دشمن نے شہید کیا۔

انہوں نے مسلم حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ان کے خیرخواہ ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ایران، لبنان اور فلسطین کے عوام مزاحمت کے ذریعے ثابت قدم ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے وہ امت کے سامنے سرخرو ہوں گے۔

سید حسن خمینی نے امام خمینیؒ کے تصورِ وحدت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وحدت کا مطلب مسلکی شناخت ختم کرنا نہیں، بلکہ مختلف مکاتبِ فکر کے مسلمانوں کا مشترکہ خطرات کے مقابلے میں متحد ہونا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وحدت ہی کامیابی کا راز ہے اور مسلمان جب جنگ یا امن کے بارے میں فیصلہ کریں تو انہیں باہمی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

ای میل کریں