آبنائے ہرمز امریکی استعمار کے خاتمے کی علامت

آبنائے ہرمز امریکی استعمار کے خاتمے کی علامت

ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے دن ہمیشہ کی طرح اوہام کا شکار ہو کر اعلان کیا کہ وہ بہت جلد آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین کا حصہ قرار دے گا

تحریر: عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر اخبار رای الیوم)

 

ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے دن ہمیشہ کی طرح اوہام کا شکار ہو کر اعلان کیا کہ وہ بہت جلد آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین کا حصہ قرار دے گا۔ یہ انتہائی مضحکہ خیز بات تھی کیونکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عنقریب آبنائے ہرمز کو امریکی استعمار کے خاتمے کی علامت قرار دے دیا جائے گا۔ بالکل ایسے ہی جیسے نہر سویز 1956ء کی جنگ کے بعد برطانیہ اور فرانس جیسی عالمی استعماری طاقتوں کے خاتمے اور افغانستان سابق سوویت یونین جیسی استعماری طاقت کے خاتمے کی علامت بن چکے ہیں۔ یہ علامت دنیا کی فوجی، سیاسی اور اقتصادی تاریخ میں درج ہو جائے گی۔ ایران نے ٹرمپ کو فریب دے کر تمام مساواتیں تبدیل کر دی ہیں اور اس کا راز ایران کے اسٹریٹجک صبر اور مزاحمت میں پوشیدہ ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو امریکہ کو پھنسانے کے لیے ایک جال کے طور پر استعمال کیا ہے جس میں وہ پوری طرح کامیاب رہا ہے۔

 

ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے امریکہ کو ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں پھنسا دیا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حماقت اور تاریخ، جغرافیہ اور سیاست سے لاعلمی نیز اسٹریٹجک سوچ کے فقدان کے باعث ایران کے لیے تر نوالہ ثابت ہوا ہے۔ ہم یہاں صرف اس افسانوی مزاحمت کی جانب اشارہ نہیں کریں گے جو ایران نے امریکی صیہونی دشمن کے مقابلے میں جون 2025ء کی 12 روزہ جنگ اور فروری 2026ء کی 40 روزہ جنگ میں دکھائی ہے بلکہ ایران کی موجودہ حکمت عملی کا جائزہ بھی لیں گے۔ ایران کی یہ حکمت عملی امریکہ کے مڈٹرم الیکشن تک جنگ کو طول دینے پر مشتمل ہے جو تین ماہ بعد منعقد ہونے والے ہیں۔ ایسی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی (ریپبلکن پارٹی) الیکشن ہار جائے گی اور اسے انتہائی ذلت آمیز انداز میں اقتدار سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔

 

ایران کے نئے سپریم لیڈر ٹرمپ کی اس جان لیوا کمزوری سے بخوبی آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ امریکی رائے عامہ میں ٹرمپ کے خلاف شدید ناراضگی اور غصہ پائے جانے سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ اس ناراضگی کی بنیادی وجہ یہ سوچ ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے مفادات کی خاطر ان کے ملک کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا ہے اور اس قدر جانی اور مالی نقصان کا باعث بنا ہے۔ لہذا ایران نے ٹرمپ کو جنگ سے نکلنے کا وہ محفوظ راستہ فراہم نہیں کیا جس کی بدولت وہ جنگ میں فتح کے جھوٹے نعرے لگانے کے لیے تیار کھڑا تھا اور عالمی تجارت کے لیے آبنائے ہرمز کھلوانے کو اپنی بڑی فتح قرار دینا چاہتا تھا۔ ایران نے امریکہ کے سامنے اپنے جائز مطالبات رکھے اور ان پر ڈٹ گیا اور واضح طور پر اعلان کر دیا کہ جب تک اس کے مطالبات مکمل طور پر مانے نہیں جاتے اور ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا آبنائے ہرمز بند رہے گا۔

 

امریکہ کے اسٹریٹجک ماہرین کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ امریکہ یقینی طور پر "ہرمز کی جنگ" میں شکست کھائے گا اور اپنے نقصانات، خاص طور پر آنے والے مڈٹرم الیکشن میں، کو کم ترین سطح پر پہنچانے کے لیے مشرق وسطی خطے سے انخلاء پر مجبور ہو جائے گا۔ یقیناً یہ پیغام ٹرمپ اور اس کی کابینہ خاص طور پر نائب صدر جے ڈی وینس تک پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے اس نے ہفتے کے دن اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ میں پہلی ترجیح تیل کی قیمت کم کرنا ہے نہ کہ ایران کا جوہری یا میزائل پروگرام یا ایران میں رجیم چینج آپریشن۔ امریکہ کے جنگی بحری بیڑے، جنگی کشتیاں اور بحریہ ایران کی اعلی فوجی صلاحیتوں اور بے مثال مزاحمت کے مقابلے میں شکست کھا چکی ہیں۔ ایران نے اس وقت آبنائے ہرمز پر اپنی رٹ قائم کر رکھی ہے جبکہ لبنان، عراق، یمن اور غزہ کی پٹی میں اسلامی مزاحمتی گروہوں کی بھی بھرپور حمایت میں مصروف ہے۔

 

امریکہ کی رکن کانگریس ایلہان عمر، جن کی کانگریس میں موجودگی ٹرمپ کے لیے بہت زیادہ تشویش اور پریشانی کا باعث بن چکی ہے، نے مڈٹرم الیکشن میں اپنی پارٹی کا ٹکٹ حاصل کر لیا ہے جبکہ ان کی کامیابی کا 80 فیصد امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایلہان عمر اپنے ساتھیوں رشیدہ طالب، زہران ممدانی اور عبدالرحمان السید کے ہمراہ امریکی ووٹرز کی حمایت اور ووٹنگ کے عمل سے ٹرمپ اور اس کی پارٹی کی شکست یقینی بنا دیں گی۔ وہ اپنی کامیابی کو ایران، لبنان، فلسطین، یمن اور عراق کے تمام شہداء کو پیش کر رہے ہیں۔ ممکن ہے بعض کی نظر میں ٹرمپ اور اس کی پارٹی کی شکست ایک ناممکن چیز دکھائی دے رہی ہو لیکن ہماری نظر میں اس کا امکان بہت زیادہ ہے۔ ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکہ میں پٹرول مہنگا ہوتا جا رہا ہے اور روزمرہ زندگی کے اخراجات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔

 

اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ محمد کاظم غریب آبادی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر نہ تو سوشل میڈیا پر پیغامات کے ذریعے قبضہ ممکن ہے اور نہ ہی جنگی بحری بیڑوں، حکم جاری کرنے، الیکشن کمپین کی تقریروں اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر اسے ہتھیایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نہ تو دھمکیوں سے خوف زدہ ہوتا ہے اور نہ ہی طاقت کی نمائش سے مرعوب ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ آخرکار اپنے اوہام سے باہر نکلنے پر مجبور ہو جائے گا اور آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی حالیہ خام خیالی سے بھی پیچھے ہٹ جائے گا۔ اسی طرح جیسے اب تک انتہائی ذلت آمیز انداز میں کئی بار ایران کے مقابلے میں پسپائی اختیار کر چکا ہے۔ 

ای میل کریں