محروم طبقات سے تعلق رکھنے والی قیادت عوام کے مسائل بہتر سمجھ سکتی ہے

محروم طبقات سے تعلق رکھنے والی قیادت عوام کے مسائل بہتر سمجھ سکتی ہے

امام خمینیؒ نے کہا ہے کہ عوامی اور محروم طبقات سے تعلق رکھنے والی قیادت ایک بڑی الٰہی نعمت ہے، کیونکہ ایسی حکومت عوام کے حقیقی مسائل اور مشکلات کو بہتر انداز میں سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امام خمینی پورٹل کی رپورٹ کے مطابق امام خمینیؒ نے کہا ہے کہ عوامی اور محروم طبقات سے تعلق رکھنے والی قیادت ایک بڑی الٰہی نعمت ہے، کیونکہ ایسی حکومت عوام کے حقیقی مسائل اور مشکلات کو بہتر انداز میں سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انقلاب کے بعد ملک کی اعلیٰ قیادت میں ایسے افراد شامل ہوئے جو عام اور متوسط یا محروم طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے مطابق صدر، پارلیمنٹ کے سربراہ، حکومتی عہدیداران اور دیگر نمائندے ایسے پس منظر سے آئے تھے جہاں انہوں نے خود معاشی اور سماجی مشکلات کا تجربہ کیا تھا، اس لیے وہ عوامی محرومیوں کو محض نظری طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر جانتے تھے۔

امام خمینیؒ نے کہا کہ ایسی قیادت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ غریب اور محروم لوگوں کے درد کو محسوس کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق جو افراد خود محرومی کا تجربہ رکھتے ہوں، وہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ دور دراز دیہات میں سڑکوں، طبی سہولتوں، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی خدمات کی کمی لوگوں کے لیے کس قدر مشکلات پیدا کرتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جب کوئی بیمار شخص دور افتادہ علاقے میں مناسب سڑک یا طبی سہولت نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرتا ہے تو ان مسائل کی سنگینی وہی لوگ پوری طرح محسوس کر سکتے ہیں جنہوں نے ایسی زندگی کو قریب سے دیکھا ہو۔ اسی وجہ سے عوامی پس منظر رکھنے والی حکومت محروم علاقوں کی ضروریات کو ترجیح دینے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔

امام خمینیؒ نے سابق حکمران طبقے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اشرافیہ میں پرورش پانے والے افراد اکثر معاشرے کے نچلے طبقات کی مشکلات کو صحیح معنوں میں نہیں سمجھ سکتے، کیونکہ ان کی زندگی ابتدا ہی سے آسائشوں اور سہولتوں میں گزری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے لوگ غریب خاندانوں کی روزمرہ جدوجہد اور بنیادی ضروریات کی کمی کا مکمل ادراک نہیں کر پاتے۔

انہوں نے کہا کہ ایک عوامی اور محروم طبقات کی نمائندہ حکومت کی اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پسماندہ علاقوں کی ترقی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے، کیونکہ یہی طرزِ حکمرانی عوامی خدمت اور سماجی انصاف کے قیام میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

ای میل کریں