حالیہ جنگ میں ایرانی قوم کی مکمل کامیابی، اب جہادِ اکبر کا آغاز

حالیہ جنگ میں ایرانی قوم کی مکمل کامیابی، اب جہادِ اکبر کا آغاز

آیت اللہ سید حسن خمینی نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ میں ایرانی قوم نے "مکمل کامیابی" حاصل کی ہے اور اب قوم کو داخلی اتحاد، خود احتسابی اور بے مقصد اختلافات سے گریز پر توجہ دینی چاہیے۔

حالیہ جنگ میں ایرانی قوم کی مکمل کامیابی، اب جہادِ اکبر کا آغاز

جماران کی رپورٹ کے مطابق امام خمینی کے پوتے آیت اللہ سید حسن خمینی نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ میں ایرانی قوم نے "مکمل کامیابی" حاصل کی ہے اور اب قوم کو داخلی اتحاد، خود احتسابی اور بے مقصد اختلافات سے گریز پر توجہ دینی چاہیے۔

وزارتِ جہادِ کشاورزی کے وزیر اور عملے سے ملاقات کے دوران خطاب کرتے ہوئے سید حسن خمینی نے کہا کہ حالیہ دن ایران کے لیے انتہائی اہم اور تاریخی تھے۔ انہوں نے مسلح افواج، سرکاری اداروں اور عوام کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود ملک میں ضروری اشیائے خورونوش کی فراہمی برقرار رہی اور عوام کو کسی بڑے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی اصل طاقت اس کے عوام کا مضبوط عزم و ارادہ ہے۔ ان کے مطابق دشمن کے مقاصد پورے نہیں ہو سکے کیونکہ ایرانی قوم نے اتحاد اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔

سید حسن خمینی نے واقعۂ کربلا اور اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ استقامت ایرانی قوم کی شناخت کا حصہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگ میں ایران کی کامیابی واضح ہے اور قوم نے اس آزمائش میں سرخرو ہو کر دکھایا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کامیابی کے بعد غرور، خود پسندی اور باہمی تنازعات سے بچنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران کی جانے والی جدوجہد "جہادِ اصغر" تھی، جبکہ اب "جہادِ اکبر" کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، جس کا مقصد نفس کی اصلاح، عاجزی اختیار کرنا اور عوام کی زیادہ خدمت کرنا ہے۔

انہوں نے سیاسی اور سماجی حلقوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی مفادات اور غیر ضروری اختلافات کو ترک کریں اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں۔ ان کے مطابق ملک کی آئندہ کامیابیوں کا انحصار اسی بات پر ہے کہ معاشرہ متحد رہے اور اجتماعی استقامت کا مظاہرہ کرے۔

خطاب کے اختتام پر سید حسن خمینی نے کہا کہ حالیہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ جب پوری قوم مل کر مشکلات کا مقابلہ کرتی ہے تو کامیابی حاصل ہوتی ہے، اور یہی قومی ترقی اور استحکام کا راستہ ہے۔

ای میل کریں