لبنان پر اسرائیلی حملہ معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، عباس عراقچی

لبنان پر اسرائیلی حملہ معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، عباس عراقچی

ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط جنیوا کے بجائے اب برجن اسٹاک میں 19 جون کو ہوں گے

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید محمد عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اب سے لبنان پر کسی بھی طرح کا اسرائیلی حملہ ایران امریکا معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے غیر ملکی سفارتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا، مفاہمتی یادداشت جمعہ کے روز باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوگی۔ عباس عراقچی نے کہا کہ لبنان اور ایران میں جنگوں کا خاتمہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، لبنان میں اسرائیلی قبضے کا تسلسل ایم او یو کی خلاف ورزی تصور ہوگا، لبنانی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب لبنان پر کسی بھی اسرائیلی حملے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات دو مراحل میں ہوں گے، مذاکرات کے پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز، امریکی بحری ناکہ بندی اور تعمیرِ نو پر بات ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے کے معاملات مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں زیر غور آئیں گے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران کے نقطۂ نظر سے اس معاہدے کا ایک فریق ایران اور حزب اللہ، جبکہ دوسرا فریق امریکہ اور اسرائیل ہیں۔ عباس عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں اپنے فوجیوں کے قریب آنے والے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ لبنان کی حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی افواج پر میزائل اور ڈرون سے حملے کیے ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط جنیوا کے بجائے اب برجن اسٹاک میں 19 جون کو ہوں گے۔

سوئٹزر لینڈ کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ مقام وسطی سوئٹزرلینڈ میں لوسرن کے قریب واقع ہے اور اپنی دشوار گزار علاقے کے باعث سکیورٹی کے حوالے سے موزوں سمجھا جاتا ہے۔

سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق اس مقام کی تجویز پاکستانی اور قطری ثالثوں کے ساتھ ساتھ امریکا اور ایران کی جانب سے بھی دی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق تاریخی امن معاہدے کی تقریب پاکستان کی میزبانی میں ہوگی ۔ تقریب کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف جمعرات کو روانہ ہوں گے ، نائب وزیراعظم اور وفاقی وزرا بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریب میں ایران کی جانب سے پارلیمانی اسپیکر اور مذاکرات کار باقر قالیباف شرکت کریں گے۔

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی تقریب میں شرکت کا اشارہ دے چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہوسکتا ہے وہ بھی تقریب میں جائیں ، ویسے نائب صدر جے ڈی وینس دستخط کی تقریب کے لیے جائیں گے۔

قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قیادت میں ثالثی کا حصہ بن کر مذاکراتی عمل میں شامل رہے ۔ امریکا ایران ڈیل پر دستخط کی تقریب میں قطر کی نمائندگی موجود ہوگی ، پاکستانی ثالث، فریقین اور علاقائی ممالک تقریب میں شریک ہوں گے۔

ای میل کریں